جب ہم قربانی کا اسلامی تہوار مناتے ہیں

بصیر نوید

اب سے کچھ روز بعد ہر گلی ہر کوچے میں لوگ خون آلود خنجر، چھریاں، ٹوکے اور تیز دھار آلات لہراتے پھر رہے ہوں گے، لباس پر خون کے بڑے بڑے دھبے، فضا میں پکڑو، گراؤ، بھاگ گئی کے بلند نعرے، صرف کھال ہی نہیں اتارو گوشت بھی بناؤ، پہلے کلیجی نکالو، بوٹیاں بڑی بڑی نہ ہوں، اسکا بھیجا الگ نکال کر رکھنا، سری پائے چھوڑ دو جیسی آوازیں سننے کو ملیں گی۔

یہ بقر عید کےتین دن ہوتے ہیں جب ہم حلالجانوروں کو ذبح کرنے کا اسلامی تہوار مناتے ہیں۔ ان ایام کا بڑی بے صبری کے ساتھ سال بھر انتظار کیا جاتا ہے۔اپنے ہاتھوں سے پالے ہوئے جانوروں کے تکے بوٹی مزے لے لے کر کھاتے ہیں۔ قربانی تو شاید کسی اور معنوں میں تھی، یعنی اپنی عزیز ترین شے قربان کرنا۔ اور عزیز ترین شے تو خواہشات ہوتی ہیں لیکن ہم خواہشات کو بڑھا کر قربانی کا مذاق اڑاتے ہیں، سوال تو یہ ہے کہ جانوروں نے ہم سے کیا دشمنی کی کہ ہم ان کی معصومیت اور بے زبانی کا جواب بے رحمی سے دیتے ہیں۔

بے رحمی ہماری جبلت کا حصہ بن گئی ہے جانوروں سے دشمنی دراصل الہامی مذاہب کا ہی حصہ ہیں اس کی وجہ شاید الہامی مذاہب کا تعلق زمین سے نہیں ہوتا ہے وہ آسمانوں پر تشکیل دئیے جاتے ہیں۔ یوں تو تمام مذاہب میں جانوروں کی قربانیوں کا ذکر تو نہیں البتہ جانور کھانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔اسلام اور یہودیت میں حلال جانور کھانے اور مسیحیت میں حلال کا ذکر نہیں ہے۔ دوسری جانب ایسے مذاہب جو آسمانی نہیں ہیں ان میں جانوروں کو کھا نے سے منع کردیا گیا کیونکہ ان کی سوچ کے مطابق جانور قدرت کے مظاہر کا خوبصورت عطیہ ہیں۔ نیز جانور نیچر کا حصہ ہیں لہذا انہیں بھی جینے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ انسانوں کو۔

ہم نے پاکستان میں جانوروں کی قربانیاں اور اس پر جشن منانے کے ہولناک انجام بھی دیکھے ہیں جب انسانوں کو ذبح کرکے تڑپتا چھوڑ گئے اور لوگ اس پر فاتحانہ نعرے بھی لگاتے رہے۔ اس ملک میں اسلامی دہشت گرد تنظیمیں لوگوں کے سر انکے جسموں سے جدا کرکے پھر اسے فٹ بال بنا کر کھیلتے رہے کیونکہ قربانی کے جانوروں کو تڑپتے دیکھ کر جو لذت تھی وہ اب انسانوں سے بھی میسر آنے لگی۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ 258 مزدور بچوں عورتوں اور مردوں کو زندہ جلا کر اور فیکٹری کے اندر سے آنے والی چیخوں کی بھی لذت لی گئی کیونکہ جب جانور کاٹے جاتے ہیں تو انکی چیخوں میں شاید اب وہ تاثیر نہیں تھی جو مرتے ہوئے مزدوروں اور باہر کھڑے اہل خانہ کی چیخ و پکار میں تھی۔

اللہ بندے کو کھمبے سے لٹکا کر سنگ باری کرنے اور چھریوں سے وار کرتے ہوئے جو مزا تھا کسی حلال شدہ جانور کو سیخوں پر گاڑھ کر بھوننے میں کہاں۔ 12 مئی کو چند گھنٹوں کے دوران کے دوران کراچی کی شاہراؤں پر گولیاں مار کر تڑپتا ہوا چھوڑ دینا پھر ہوائی فائرنگ کرکے کسی کو اسپتالوں میں لیجانے سے روک دینا٫ کیا لطف اندوز ہوگا یہ تو قاتلوں سے ہی پوچھا جاسکتا ہے جو ایک سال انتظار کرکے جانوروں کو بازاروں میں ذبح کرتے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ تو ہے کہ اسلامی دہشت گردوں کے خون کی پیاس تو اس وقت بجھی ہوگی جب اسکول کے 142 بچوں اور اسکول کے عملے سمیت اساتذہ کو چن چن کر آرمی پبلک اسکول میں قتل کیا گیا اور ہمارےفوجی لاشوں کی گنتی میں لگے ہوئے تھے۔

جانوروں کی کھلے عام قربانیاں پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان میں ہوتی ہیں شاید چند افریقی ممالک میں بھی ہو لیکن تمام اسلامی ملکوں میں قربانی خفیہ ہی ہوتی ہے اور سڑکوں پر خون بہانہ منع ہوتا ہے ایسا کیوں؟ سوال یہ ہے کہ جانوروں سے دشمنی ہی کیوں؟ کیا یہ ہی ہماری سب سے عزیز ترین شے ہوتی ہے؟ کیا خواہشات عزیز ترین شے نہیں ہوتیں؟ قربانی تو دراصل حج کے موقع پر ہوتی اور عازمین حج جب تمام ارکان حج پوری کرلیتے ہیں تو پھر قربانی کرنا ہوتی ہے وہ بھی فرض نہیں صاحب استطاعت کیلئے، جانوروں سے دشمنی کیلئے نہیں۔

قربانی کریں ضرور کریں لیکن گھروں کے باہر اور گلی کوچوں میں قربانی پر پابندی لگائیں جیسے کہ سعودی عرب میں ہوتا ہے۔ مذبح خانے بنائے جائیں جہاں لوگ جاکر قربانیاں کریں اس طرح سڑکوں پر خون نہیں بہت گا، آلائشیں نہیں بکھری ہوئی ہوں گی، چھریاں لہرائی نہیں جائیں گی اور تشدد کا تدارک ہوگا۔

3 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.