تصویر کا دوسرا رخ کیا ہے؟

بیرسٹر حمید باشانی

کچھ امریکی دانشور ہماری اس دنیا کی نئی تصویر بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ نئی تصویرمکمل طور پر حقیقت کی عکاس نہیں، مگر طاقت ور حلقوں میں مقبول ہے۔ اس سال موسم بہار کے آغاز میں امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی نئی تصویر کو حقیقت تسلیم کیا ہے۔ جو بائیڈن نے کہا کہ یہ دنیا بنیادی طور دو متحارب دنیاوں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف جمہوری دنیا ہے۔ دوسری طرف مطلق العنان حکومتیں یا شخصی حکمرانیاں ہیں۔ ہم ان دو دنیاوں کے درمیان نقطہ تصریف پر کھڑے ہیں۔

ایک طرف وہ لوگ ہیں، جن کا خیال ہے کہ مطلق العنانیت ترقی کا آسان راستہ ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں، جو اس دنیا کا انسانیت کی بہتری اور بھلائی کی طرف سفر جاری رکھنے کے لیے جمہوریت کو ناگزیر راستہ قرار دیتے ہیں۔ بائیڈن کے خیال میں دنیا کی اس تقسیم میں امریکہ واضح طور پر جمہوریت اور جمہوریت پسندوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ اور صدر کے پاس داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر ایک ایسا ایجنڈا ہے، جو امریکہ کو یہ جنگ جیتنے کی پوزیشن میں لاتا ہے۔

 یہ ایک اچھی پوزیشن ہے۔ مگر اس پوزیشن کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ایک ایسا زاویہ نگاہ ہے، جس کی وجہ سے دنیا کی ساری توجہ جمہوریت اور آمریت کےتصادم پر مرتکز ہو جاتی ہے۔ اور اس توجہ کی وجہ سے دنیا میں اس سے بھی زیادہ گہری تقسیم نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ یہ تقسیم امیر اور غریب کے درمیان ہے۔ اور اس وقت یہی ہماری دنیا کی اصلی حقیقت بھی ہے، مسئلہ بھی ہے، اور تصادم بھی ہے۔ جو بائیڈن کا یہ دعوی ایک طرف، لیکن اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ جمہوری دنیا کی رہنمائی کا دعوے دار تو ہے، لیکن عملی طور پر وہ کئی بڑے عالمی مسائل پر اس جمہوری دنیا کے خلاف ہے۔ یہ گونا گوں مسائل ہیں، جن کا احاطہ کرنے کے لیے کئی کالموں کی ضرورت ہے۔

لیکن مختصراً ان میں پہلا بڑا مسئلہ ماحولیاتی تبدیلی کا مسئلہ ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے مسائل پر امریکہ ان پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتا، جس کا دنیا کی جمہو ریتیں اور جمہوریت پسند لوگ اس سے تقاضا کرتے ہیں۔ دوسرا بڑا مسئلہ دنیا میں تجارت سے جڑے قواعد و ضوابط ہیں۔ عالمی تجارت کے ان قواعد و ضوابط پر بیشتر جمہوری ممالک اور امریکہ کے درمیان سخت اختلاف رہا ہے۔ اس طرح دنیا میں بحیثیت مجموعی معاشی ترقی سے لیکر کورونا وائرس کے بحران سے جڑے مسائل تک بے شمار امورایسے ہیں ، جن پر امریکی پالیسیاں جمہوریت پسندوں کے ساتھ متصادم رہی ہیں۔ظاہر ہے کہ اس طرح کی پالیسیاں نا صرف  جمہوریت کے لیے مسائل پیدا کرتی ہیں، بلکہ  عالمی سیاست میں خود امریکی حیثیت اور طاقت کو بھی کمزور کرتی ہیں۔

ہماری یہ دنیا بڑی پیچیدہ ہے۔ اس دنیا میں امیر اور غریب جمہو ریتوں کے بہت سے مسائل مشترکہ ہیں۔ دونوں میں ایک بڑا مشترکہ مسئلہ دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز ہے۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ اور امیر و غریب کے درمیان دن بدن گہری ہوتی ہوئی خلیج ہے۔ گزشتہ نصف صدی سے دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو رہی ہے۔ دونوں قسم کی جمہو ریتوں میں ریاست کی طرف سے عوامی فلاح و بہبود اور سرکاری خدمات کی فراہمی میں کمی ہو رہی ہیں۔ مزدوروں، محنت کش طبقات اور کسانوں کے حالات دن بد بدن ابتر ہوتے جا  رہے ہیں۔ ایک مشترکہ احساس ملکیت ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ان حالات کے بطن سے جو مسائل پیدا ہو رہے ہیں، وہ بھی مشترکہ ہیں۔ ان مسائل میں تنگ نظر قوم پرستی سر فہرست ہے۔

دنیا نے اس کا حالیہ مظاہرہ امریکہ میں ٹرمپ کی قیادت میں دیکھا ہے، جو تیسری دنیا کے کسی غریب ملک کی تنگ نظر قوم پرستی سے زیادہ تنگ نظر تھا۔ نسل پرستی ایک اور مسئلہ ہے، جو اس طرح کے مسائل کے رد عمل میں سامنے آتا ہے، اور اس کے مظاہرے ہمیں آئے دن امیر اور غریب جمہو ریتوں میں یکساں طور پر نظر آتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ مطلق ا لعانیت اور شخصی حکمرانی کے رجحانات کا مظاہرہ مختلف جمہو ریتوں میں عام دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک افسوس ناک صورت حال ہے۔ اس تشویشناک صورت حال کی عام تصویر دنیا میں جمہوریت  پر سامنے آنے والی حالیہ عالمی رپورٹوں میں  دکھائی دیتی ہے۔

اور اب اس حقیقت کو ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ دنیا میں جمہوریت پر سے عام آدمی کا بھرو سہ کمزور ہو رہا ہے، چونکہ جمہوریت اس کی ضروریات پوری نہیں کر رہی ہے ، اس کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی ہے۔ اس حقیقت کے ادراک کے باوجود امریکی لیڈرشپ اس سلسلے میں کوئی ایسا اہم قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہے، جو دنیا میں جمہوریت کا اعتبار اور بھرو سہ بحال کر سکے۔

اس کے برعکس امریکہ کا سارا فوکس چین سے مقابلہ کرنے پر ہے۔ اور بد قسمتی سے یہ مقابلہ بھی جمہوریت اور آمریت سے زیادہ ٹیکنالوجی پر ہے۔ امریکی صدر کا خیال ہے کہ امریکہ کو مستقبل کی پراڈکٹ اور ٹیکنالوجی پر غلبہ ہونا چاہیے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ راستہ امریکی سرمایہ کار کی مدد تو کر سکتا ہے، مگر یہ تیسری دنیا کی غریب جمہو ریتوں کی مدد نہیں کر سکتا۔یہ مایوس کن بات ضرور ہے، لیکن یہاں راستہ بند نہیں ہو جاتا۔ اس کےبجائے ایک نئی سوچ کے لیے جگہ پیدا ہوتی ہے۔ ایک ایسی سوچ جو دنیا میں جمہوریت اور شخصی حکمرانی کے درمیان مقابلے کے بجائے سچی سوشلسٹ جمہوریت کی بات کرے ، تاکہ جمہوریت کے خلاف ابھرتی ہوئی لہر کا مقابلہ کیا جا سکے۔

حال ہی میں سامنے آنے والی تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق ترقی پذیر جمہو ریتوں میں امیر جمہو ریتوں کے مقابلے میں دگنے لوگ آباد ہیں۔ اور اگر بنگلہ دیش نائجیریا اور ترکی جیسی ہائی برڈ جمہو ریتوں کو بھی شامل کیا جائے تو ترقی پذیردنیا میں آباد لوگوں کی تعداد تین گنا زیادہ ہے۔ لیکن اس قدر آبادی والے ممالک امریکی پالیسی سازی کے دوران قابل اعتنا نہیں سمجھے جاتے۔ ان کو صرف اس وقت اہمیت دی جاتی ہے جب وہ کسی وسیع جیو پولیٹیکل تصادم میں کام آتے ہوں۔ ان کا نظر نہ آنا یا نظر انداز ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ یہ غریب ممالک ہیں۔ یہ دنیا کی سیاست اور معیشت پر وہ اثرات نہیں رکھتے جو امیر جمہو ریتیں رکھتی ہیں۔

دوسری طرف امیر جمہو ریتیں ہیں۔ یہ دنیا کی کل آبادی کا پندرہ فیصد ہیں۔ لیکن یہ دنیا کی کل جی ڈی پی کے 43 فیصد دولت کے مالک ہیں۔ ان کا فوجی بجٹ بھی بہت بھاری ہے۔ امریکہ کا کئی جمہو ریتوں کے عوام کے ساتھ نسلی اور ثقافتی تعلق بھی ہے۔ اس طرح کچھ امریکی رہنما جمہوریت اور دولت کو آپس میں گڈ مڈ کرتے ہیں۔ اس طرح وہ دنیا میں جمہوریت کے فروغ کے مقصد کو کنفیوز کر دیتے ہیں۔حالیہ برسوں میں امیر جمہو ریتیں بڑی تیزی سے غلط سمت کی طرف بڑھتی رہی ہیں۔ ظاہر ہے اس طرح کی پالیسی کا ناکام ہونا لازم ہے، جو امیر جمہوریت کی ترجیحات پر مبنی ہو ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ غریب جمہوری ممالک کے مفادات اکثر امیر جمہوری ممالک کے مفادات سے متصادم ہوتے ہیں۔ اور اکثر امیر جمہوری ممالک ترقی پزیر جمہوری ممالک میں شخصی حکمرانی والی حکومتوں کی طرف جھکا و رکھتے ہیں۔یہ تجربہ تاریخی طور پر بار بار دیکھنے میں آیا ہے۔ اس طرح اس وقت دنیا میں جمہوریت پسندوں اور شخصی حکمرانی کے درمیان جنگ میں ایک اہم نقطہ عدم مساوات پر توجہ دینا ہے، جو عالمی معیشت کا ایک نمایاں اور بد صورت رخ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *