جب مجید نظامی نے مجھ سے کلمہ طیبہ سنا

زاہد عکاسی

ایک روز مقبول سرمد کو نہ جانے کیا سوجھی اس نے مجھے اٹھایا اور مغربی پاکستان کے دفتر لے گیا یہاں ملازمت کرو۔ وہاں نہ جانے کون سا نیوز ایڈیٹر تھا اس نے مجھے پاکستان ٹائمز کی ایک خبر ترجمے کے لئے دے دی۔ میں نے خبر اردو میں بنا دی اس نے اسی وقت کام شروع کرنے کے لئے کہا اس اخبار کے ایڈیٹر قمر اجنالوی تھے جنہوں نے لاتعداد تاریخی ناول لکھے جبکہ مالک شفاعت شیخ تھے۔ جو نہ صرف کنجوس بلکہ نہایت خبیث روح تھے ورکروں کی تنخواہ دیتے ہچکچاتے تھے مجھے کہنے لگے ہم تمہیں ساٹھ روپے ماہوار دیں گے۔ میں نے اس تنخواہ پر کام کرنے سے انکار کر دیا اور واپس چلا آیا۔

ایک روز میں دوپہر کے وقت امروز کے دفتر سے نکلا اور پرانی انار کلی سے باہر پیدل چوبرجی کی طرف جارہا تھا کہ پرانی انار کلی چوک سے ذرا فاصلہ پر ایک زرد رنگ کی بلڈنگ کے دروازے پر لائل پور کے سلطان عارف کھڑے نظر آئے انہوں نے مجھے دیکھتے ہی آواز دی اور کہا کیا نوکری کرو گے میں نے کہا ضرور۔ پوچھنے پر انہوں نے مجھے بتایا کہ مجید نظامی صاحب کی اپنے بھتیجے عارف نظامی سے ان بن ہوگئی ہے اور وہ اس بلڈنگ سے ایک نیااخبار’’ندائے ملت‘‘ کے نام سے شائع کرنا چاہتے ہیں پریس وغیرہ کا بھی انتظام ہوگیا ہے۔ ہمایوں ادیب ادارتی صفحہ کے انچارج ہیں یا دوسرے لفظوں میں ایڈیٹر انچارج ہیں۔تم اندر چلو اور نظامی صاحب کو ٹیسٹ دے دو۔ وہ مجھے پکڑ کر مجید نظامی صاحب کے پاس لے گئے۔

مجید نظامی نے مجھے ایک انگریزی کا مضمون دیا جو امریکن بلیٹن کے چار پانچ صفحات پر مشتمل تھا۔ یہ مضمون ٹوپیوں کے بارے میں تھا ۔میں ان دنوں نثر اچھی لکھتا تھا کیونکہ ابھی تک اخبارات کی خبروں اور مضامین سے کم ہی واسطہ پڑا تھا۔ اخبارات کی تحریر دراصل جلد بازی والی ہوتی ہے اس کا تخلیقی صلاحیتوں سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا بلکہ وقت مقررہ پر کاپی بھیجنے کی جلدی ہوتی ہے۔ لہٰذا عام طور پر اخبار نویس تخلیقی صلاحیتوں سے محروم ہو جاتے ہیں اور نشرواشاعت کا بھی ستیاناس ہوجاتا ہے۔اخبارات کے بعد میرے سا تھ بھی یہی ہوا۔

بہر طور نظامی صاحب نے جو مضمون دیا میں نے اس میں بہترین نثر نگاری دکھائی۔اس میں کچھ فرانسیسی لفظ بھی تھے جن کو نہ تو مجھے پتہ تھا اور نہ ہی نظامی صاحب کو۔ انہوں نے ترجمہ کیا مضمون پڑا تو بڑے خوش ہوئے میری تعریف بھی کی اور سلطان عارف سے پوچھا کہ کتنی تنخواہ مقرر کی جائے سلطان عارف نے کہا کہ یہ امروز میں کام کر رہا ہے وہاں سے چھوڑ کر آئے گا چنانچہ انہوں نے میری تنخواہ دو ترقیاں دے کر ساڑھے تین سو روپے مقرر کردی جبکہ ان دونوں سب ایڈیٹر کی تنخواہ 250روپے ہوتی تھی۔

مجھے ملازمت ملی تو میں کچھ مطمئن ہوا وہاں کیشئر کے طور پر پال صاحب کام کرتے تھے بڑے شفیق اور دوست نواز شخص تھے۔ میرا بڑا خیال رکھتے ۔ مجھے تقرری کا لیٹر ملا تو ہمایوں ادیب نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا کے تمہیں ہفتہ میں دو چھٹیاں ملا کریں گی یعنی تم ہفتہ اور اتوار ان دو چھٹیوں میں ایک فیچر لکھ کر بھی دو گے میں نے حامی بھرلی کہ ٹھیک ہے۔

سلطان عارف ندائے ملت میں نیوزایڈیٹر کے طور پر کام کررہے تھے جبکہ شفٹ انچارج کے طور پر حاجی محمدصالح صدیق تھے۔ رات کو شفٹ کے انچارج اعجاز رضوی تھے اور ان کے ساتھ سلطان شاہد، کیپٹن ممتاز ملک، مسعود سلیمان جبکہ اپرنٹس کے طور پر توصیف احمد خان اور شفیق جالندھری تھے۔ یہ دونوں نوجوانوں کا تعلق بھی لائل پور سے تھا اور ایم اے جرنلزم کررہے تھے۔ حاجی صاحب شفٹ ہولڈ کرنے کے ساتھ ساتھ فارغ بیٹھے کاغذوں پر تصویریں بنایا کرتے تھے اور مجھے کاپی جڑوانے کے لئے کھڑاکردیا کرتے تھے۔

اعجاز رضوی خبریں سارٹ کراتے اور سب ایڈیٹروں کو ترجمہ اور سبنگ کے لئے دیتے۔ سلطان شاہد اور کیپٹن ممتاز ملک دونوں ہی الکو حل پینے کے عادی تھے۔ کیپٹن صاحب تو گلاس ڈیسک کے نیچے رکھ لیتے تھے لیکن سلطان شاہد یا تو پی کر آتے یا جا کر پیتے تھے۔ پینے کے بعدسلطان شاہد کا بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا تھا اور وہ جھگڑے پر اتر آتے تھے جبکہ ترجمہ کرنے میں دونوں حضرات ہی بڑے تیز تھے۔ میرے کہنے پر سلطان عارف نے لائل پور سے آئے ہمارے ایک بزرگ صحافی رانا احسان کوبھی ملا زمت دے دی ۔ رانا صاحب بھی ترجمہ بڑی تیزی سے کرتے تھے۔ ان کی ڈیوٹی صبح کی شفٹ میں میرے ساتھ ہی ہوتی تھی۔

عام طور پر یہ ہوتا تھا کہ جب بھی سلطان شاہد کو پہلی تنخواہ ملتی وہ آپے سے باہر ہوجاتے۔یہاں بھی ایسے ہی ہوا پہلی تنخواہ ملتے ہی سلطان شاہد نے ٹھرے کی بوتل چڑھائی اور دفترمیں آکر نعرے بازی شروع کردی۔ امریکی سامراج مردہ باد، مولانا بھاشانی زندہ باد، اس کے ساتھ ہی اس نے مجید نظامی صاحب کے کیبن کادروازہ کھولا اور نعرہ لگایا امریکی کتے ہائے ہائے اس کے ساتھ ہی میز الٹ دی اور سگریٹ سلگا کر کاغذوں پر جلتی ہوئی پھینک دی جس سے آگ لگ گئی۔

آگ بجھائی گئی اور اس کے ساتھ ہی سلطان شاہد کی مستقل چھٹی ہوگئی۔مجید نظامی صاحب چونکہ مجھے بھی اس کا ساتھی سمجھتے تھے لہٰذا دوسرے روز مجھے بلایا اور کہا کہ کلمہ اور نماز سناؤ۔ میں نے عرض کی کہ حضور آپ نے اخبار کا دفتر کھولا ہے یا مسجد۔  انہوں نے کہا کہ پتہ چلا ہے کہ تم سوشلسٹ ہو۔ بہر طور کلمہ اور نماز سن کر وہ مطمئن ہوگئے اور یوں کام کرتے ہوئے مجھے چھ ماہ گزر گئے اب میرا(پروبیشن پیریڈ) عارضی عرصہ بھی ختم ہو چکا تھا لیکن معاملہ اس وقت گڑبڑہوا جب پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے الیکشن شروع ہوئے۔

وقت بہتا دریا، نیازمانہ ستمبر 2004

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *