افغانستان: صدر جوبائیڈن پر امریکی پریس میں سخت تنقید

امریکی پریس میں افغانستان سے فوجیں نکالنے پر صدر بائیڈن پر بہت سخت تنقید ہورہی ہے۔

اچھا اب یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تنقید کس بات پر ہورہی ہے؟

افغانستان سے فوجیں نکالنے پر تو سب راضی تھے، اور اکثریت کی رائے یہی تھی کہ اب امریکہ کو اس جنگ سے باہر نکل آنا چاہیے۔ لیکن جب افواج نکلیں اور جس حیران کن طریقے اور سرعت سے طالبان نے کابل پر قبضہ کیا ہے تو امریکی پریس کا غصہ اس بات پر ہے کہ افواج نکالنے کی حکمت عملی غلط تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کی جلدی نہیں کرنی چاہیے تھی اور اہم جگہوں پر بہرحال کچھ امریکی فوج کے دستوں کی موجودگی ضروری تھی۔

صدر بائیڈن نے کل اپنی پریس کانفرنس میں افغانستان سے فوجیں نکالنے کے فیصلے کو درست قراردیا ہے اور کہا ہے کہ مجھے اپنے اس فیصلے پر کوئی شرمندگی نہیں۔ ہاں فوجیں نکلنے کے بعد جس تیزی سے طالبان نے کابل پر قبضہ کیا ہے وہ میرے لیے بھی حیران کن ہے۔ امریکہ یہ توقع نہیں کررہا تھا ۔ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق شاید چھ ماہ لگنے تھے۔

 امریکی عوام ، پریس اور امریکی انٹیلیجنس اداے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ امریکی انٹیلی جنس کی ناکامی ہے ۔ شاید کچھ ہفتوں بعد صورتحال واضح ہو جائے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ اگر اس میں امریکی اداروں کی ناکامی ہوئی ہو گی تو نہ صرف اسے تسلیم کیا جائے گا بلکہ اس کمی کو دور کرنے کے لیے اقدامات بھی اٹھائیں جائیں گے۔

صدر جوبائیڈن نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمارا مقصد افغان قوم کی تعمیر نو نہیں تھا جس پر کافی تنقید ہورہی ہے۔ ہمارا مقصد القاعدہ یاپھر داعش کی سرگرمیوں کو ختم کرنا تھا اور حالیہ سالوں میں ان کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ ہم القاعدہ اور داعش کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر وہ امریکی یا ان کے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے دوبارہ خطرہ بنتی ہیں تو اس کا جواب اتنی ہی سختی سے دیا جائے گا۔

صدر بائیڈن نےکہا کہ اس وقت جو امریکی دستے کابل میں موجود ہیں وہ امریکہ اور اس کے اتحادی یا پھر ان کے لیے کام کرنے والے مقامی افراد کی حفاظت کے لیے ہیں اوران کے انخلا کویقینی بنایا جارہا ہے۔ اگر کسی نے امریکی یا اتحادیوں کی املاک یا سٹاف کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور جواب دیاجائے گا۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لیے ایک بڑی فوج تشکیل دی۔ اس کی تربیت کی ، انہیں جدید ترین ہتھیار دیے، ان کو تنخواہیں دی ان کو انٹیلی جنس مہیا کی، ان کی ائیر فورس کو تیار کیا اور اگر یہ بالکل ہی مقابلہ نہیں کر سکیں تو پھر میں کیا کر سکتا ہوں۔

امریکی ریڈیو، این پی آر(نیشنل پبلک ریڈیو) پر تاریخ کے ایک پروفیسر نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ طالبان کی خیرخواہ قوتیں کون سی ہیں؟ ان کا کردار بہت اہم ہے ان قوتوں میں پاکستان، چین، روس اور ایران شامل ہیں جنہوں نے افغانستان میں افغان حکومت اور اس کے اتحادیوں کو ہر ممکن ناکام بنانے کی کوششیں کیں ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان قوتوں کو موقع دیا جائے کہ وہ افغانستان کو ایک پرامن جمہوری ملک بنائیں۔

طالبان کے رہنماؤں نے جمہوریت کی بجائے اسلامی امارت کااعلان کیا ہے، جس کا مطلب جمہوریت ہر گز نہیں۔

امریکی پریس میں طالبان کے قائد پر بھی سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ مولوی ہیبت اللہ خاموش کیوں ہیں؟ وہ سامنے کیوں نہیں آرہے ؟ اگر وہ مرچکے ہیں تو اس کا اعلان کیا جائے اور ان کی جگہ نئے امیر کا اعلان کیاجائے۔
مولوی ہیبت اللہ بھی ملا عمر کی طرح کبھی سامنے نہیں آئے تھے ۔ اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ طالبان کی اچانک فتح پر پاکستان آرمی کو نیا امیر ڈھونڈنے میں اب مشکل کا سامنا ہے۔ یاد رہے کہ نائن الیون کے بعد مُلا عمر کراچی کی سبزی منڈی میں اپنی پختون برادری کے ساتھ کئی سال آلو بیچتے رہے تھے اور پھر وہیں انتقال فرما گئے تھے۔

شعیب عادل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *