جب دادا امیر حیدر نوائے وقت کے دفتر آئے

زاہد عکاسی

گرمیوں کی وجہ سے میں پارٹی (کمیونسٹ پارٹی )کے دفتر کی چھت پر سوتا تھا اور صبح سویرے نہا دھو کر دفترآجاتا تھا۔ دفتر میں ہی ناشتہ کرتا تھا۔ یہ میرا روزمرہ کا معمول تھا ایک روز میں شام کو پارٹی کے دفتر پہنچا تو وہاں میں نے ایک بزرگ شخصیت کو پارٹی کے آفس سیکرٹری غلام محمد ہاشمی کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا۔ یہ برصغیر کے پہلے کمیونسٹ دادا امیر حیدر تھے جو اب اسی یا پچاسی کے پیٹے میں تھے۔ ان کے پاس ایک پرانا رجسٹر تھا جس میں انگریزی ٹائپ مشین کے ذریعہ ان کی لائف ہسٹری موجود تھی۔ کہنے لگے میں کسی وقت اپنی آپ بیتی شائع کراؤں گا۔

دادا نے مجھے بتایا تھا کہ وہ چین میں ڈاکٹر کٹنس سے بھی ملے تھے جنہوں نے اپنے عوام کی بڑی خدمت کی تھی اور اس کی زندگی پرہندوستان کے ہدایت کار وی شانتا رام نے 1946میں فلم بھی بنائی تھی جس کا نام ’’ڈاکٹرکٹنس کی امر کہانی‘‘ رکھا گیا تھا‘‘ یہ فلم وی شانتا رام کے ہی ادارے راج کمل کلا مندر نے تیار کی تھی جبکہ موسیقی وسنٹ ڈیسائی کی تھی اداکاروں میں وی شانتا رام کی پتنی جے شری نے ہیروئن کا کردارادا کیا تھا اور وہ خود ڈاکٹر کے روپ میں تھے دیگر اداکاروں میں دیوان شرر ، الیاس بابورائو، پندھارکر قابل ذکر تھے۔

مجھے مختار رانا نے بتایا تھا کہ دادا پر امریکہ کی ریاست شگاگو کی یونیورسٹی میں تھیسس بھی لکھا گیا تھا اور دادا کی ایک چٹ پر کوئی بھی شخص ماسکو جاسکتا تھا۔ بہرطور دادا کے ساتھ ڈھیر ساری باتیں ہوئیں۔ دادا نے بتایا کہ اس کی زمین کا ایک ٹکڑا راولپنڈی میں ہے جس پر وہ سکول قائم کرنا چاہتے ہیں۔ رات گئے ہم لوگ چھت پر ہی سو گئے۔ صبح میں تیار ہو کر دفتر جانے لگا تودادا کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ دادا میرے ساتھ ندائے ملت کے دفتر آگئے۔ وہاں میں نے ناشتہ منگوایا۔

گیارہ بجے تک چند ایک سب ایڈیٹر اور سٹاف کے لوگ دفتر آئے تھے جن میں سے کوئی بھی دادا کو نہیں جانتا تھا۔ مسعود سلیمان آیا تو میں نے اس سے دادا کا تعارف کرایا۔ وہ گھبرا گیا کہنے لگا یہ تم نے کیا کیا کہ دفتر میں لے آئے۔ تمہیں نہیں پتا یہ بڑے متعصب لوگ ہیں ،نوکری سے بھی نکال سکتے ہیں ۔دادا تھوڑی دیر بعد اٹھ کر چلے گئے اور پھر وہی ہوا جس کی پیش گوئی مسعود سلیمان نے کی تھی۔ دوسرے روز دوپہر کے وقت ندائے ملت کے کیشیرہاتھ میں ووچر پکڑے ہوئے آئے۔ مجھے نو سو روپے کا چیک دیااور ووچر پر دستخط کرنے کے بعد ہاتھ میں تھما دیا جس میں لکھا تھا کہ تم دوپہر تک دفتر چھوڑ دو۔ تمہیں نوکری سے برخواست کیا جاتا ہے۔

دفتر سے میری چھٹی تو ہو گئی لیکن نو سو روپے کا چیک دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کیونکہ ان دنوں نو سو روپے آجکل پندرہ بیس ہزار سے بھی زائد تھے ان دونوں سب ایڈیٹرز کی تنخواہ 125روپے سے شروع ہوتی تھی اور اس میں اچھا خاصا گزارا ہوجاتا تھا کیونکہ چائے کا کپ ایک آنے کا ہوتا تھا اور اخبار کی قیمت بھی دو آنے کی تھی۔ بارہ آنے میں ایک آدمی پیٹ بھر کر کھانا کھا لیتا تھا۔میں نے چیک اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرایا کیونکہ بینک پاس ہی تھا اور اس کے بعد پارٹی کے دفتر چلا گیا۔

وقت بہتا دریا، نیازمانہ ستمبر 2004

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *