کیا ہم اپنے ماضی سے پیچھا چھڑا سکتے ہیں؟

چند ماہ پہلے، کینیڈا میں کسی گورے نے ایک مسلمان کو چاقو مار کر قتل کردیا۔ تو فوراً ہی مسلمان خاص کر پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے اسلامو فوبیا کا شور مچایا گیا لیکن اگر ایسا کچھ مسلمان کریں تو ہم اسے نظر انداز کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیمات ایسی نہیں ہیں۔

ابھی پچھلے دنوں کینیڈا کے سکول نے ، نادیہ مراد کی کتاب کی تقریب رونمائی پر اس لیے پابندی لگادی کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونگے اور اسلاموفوبیا کا شور اٹھنے کا خدشہ ہے۔

نادیہ مراد جب چودہ سال کی تھی تو وہ داعش کی قید سے بھاگ نکلی تھی اور اس نے دوران قید اپنی روداد لکھی ہے کہ کیسے اسلام کے مجاہد اس سے شادی کرتے اور پھر طلاق دے کر اگلے کے حوالے کردیتے تھے۔

نادیہ مراد نے کوئی چودہ پندرہ صدیاں قبل کے واقعات بیان نہیں کیے تھے صرف چند سال پہلے کے واقعات لکھے اور پوری دنیا کے میڈیا پر ایسے واقعات کی خبریں آتی تھیں۔ لیکن مسلمان ہیں کہ میں نہ مانوں کا راگ الاپتے رہتے ہیں اور ان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ یہ سب اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا وغیرہ وغیرہ۔

مجاہد اسلام بیت اللہ محسود کی ویڈیوز بھی موجود ہیں جس میں وہ اپنے مخالف کو قتل کرنے سے پہلے قرآنی آیات پڑھتا تھا اور پھر احادیث مبارکہ کہ اسلامی ریاست کے باغی کی کیا سزا ہونی چاہیے ۔ بیت اللہ محسود پاکستانی میڈیا میں ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا تھاجو غیر ملکی طاقتوں کے خلاف جنگ کررہا ہے۔

اسی طرح بھارت میں 1947، میں نہرو نے تاریخ دانوں سے گذارش کی کہ ہندو مسلم اتحاد اور دوستی کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان حملہ آوروں اور ان کے مظالم کا ذکر نہ کیاجائے ہاں انگریز کی لوٹ مار اور ظلم کا ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی لیے آج ہمیں رومیلا تھاپر بھی اچھی لگتی ہے اور ارون دھتی رائے بھی۔

آخر مسلمان اپنے آباو اجداد کے مظالم کو غلط کہنا تو دور کی بات ان کے بارے میں ایک لفظ تک سننا کیوں نہیں گوارا کرتے؟

ترقی یافتہ قوم وہی ہوتی ہے جو اپنے آباو اجداد کے مظالم پر شرمندگی کا اظہار کرے اور حال کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ ترقی یافتہ دنیا میں سرکاری طور پر، ماضی میں کیے گئے مظالم پر نہ صرف شرمندگی کا اظہار کیا جاتا ہے بلکہ معافی بھی مانگی جاتی ہے۔

آج امریکہ میں آبائی باشندے، جنہیں پہلے ریڈ انڈینز کہا جاتا تھا( اب فرسٹ نیشن یا انڈیجنیس پیپلز کہا جاتا ہے)کے ساتھ کیے گئے سلوک پر شرمندگی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اسی طرح سیاہ فام افراد کو بطور غلام لانے اور ان سے ہونے والے شرمناک سلوک پر معافی مانگتے ہیں اور اس کا مداواکرنے کے لیے انھوں نے میوزیم بنائے ہیں جہاں نئی نسل کو بتایا جاتا ہےکہ ہمارے آبا و اجداد ماضی میں کیا کرتے رہےہیں۔

شعیب عادل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *