سوئس عدالت میں شہید بینظیر کیخلاف مبینہ مقدمہ

شرافت رانا

پاکستانی اخبارات اور میڈیا 1969 سے پی پی پی مخالف ہے۔ اس امر میں کوئی دو آرا نہیں ہیں کہ پی پی پی قیادت ،خصوصی طور پر شہید بھٹو، بینظیربھٹو اور پھر مرد حر آصف علی زرداری کی جو کردار کشی پاکستانی میڈیا میں کی گئی ہے اس کی شرطیہ طور پر دنیا کی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔اس سلسلہ میں ایک پروپیگنڈا مہم مختلف اوقات میں سوئس عدالتوں سے شہید بے نظیر بھٹو کے سزا ہونے کی بابت بھی ہے۔

یار لوگوں کو ایمان اور عقیدہ کی طرح یقین ہے کہ بینظیر بھٹو کے 60 ملین ڈالر سوئٹزرلینڈ کے کسی بینک میں موجود تھے اور اس بابت انہیں سوئس عدالت نے سزا بھی دی تھی۔

سب سے زیادہ اس غلط فہمی کا باعث سوئٹزر لینڈ اور پاکستان کے فوج داری قانون اور طریقہ ہائے انصاف کی کی عدم یکسانیت ہے۔ بارہا یہ خبریں شائع ہوئیں کہ سوئس مجسٹریٹ ڈیوڈ ڈینیل نے شہید بے نظیر بھٹو کو طلب کرلیا یا سزا دے دی۔ اسی دھوکا میں ایک سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ تو باولے ہی ہو گئے تھے اور وہ اس تاریکی میں دکھائی دینے والے سایہ کے پیچھے اس قدر دوڑے کہ ہانپ گئے ۔ مگر شہید بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری اس قدر چالاک نکلے کہ انہیں نہ جیل ہوسکی اور نہ ان کے خلاف کوئی حکم حاصل کیا جا سکا۔

سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ پاکستان میں سرکاری وکیل کو پراسیکیوٹر کہا جاتا ہے۔ کوئی بھی فوجداری مقدمہ عدالت میں دائر کرنے سے پہلے پراسیکیوٹر اس کی جانچ کرتا ہے اور قانونی طور پر اس کے پاس یہ اختیار موجود ہوتا ہے کہ وہ اس مقدمہ کو ابتدائی سطح پر خارج کردے کہ یہ عدالت میں پیش کیے جانے کے لائق نہیں ہے۔ بلاشبہ پاکستان میں پراسیکیوٹر کا کا کردار اس قدر فعال نہیں ہے۔ لیکن یورپ میں اس کا کردار حد سے زیادہ فعال ہے۔

یورپ میں پراسیکیوٹر نہیں ہوتے بلکہ پراسیکیوشن مجسٹریٹ کسی بھی عدالت میں مقدمہ بھجوانے سے قبل اس کی جانچ کرتے ہیں ۔پراسیکیوشن مجسٹریٹ مدعی گواہان یا ملزمان سے تفتیش کرنے کا بھی اختیار رکھتا ہے ۔جس مجسٹریٹ ڈیوڈ ڈینیئل کا پاکستانی میڈیا میں حد سے زیادہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ اس نے بینظیر بھٹو کو نوٹس دیا وہ دراصل پراسیکیوشن مجسٹریٹ ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں بے نظیر بھٹو یا آصف علی زرداری کے خلاف ایک مقدمہ نہیں بلکہ تین بار مقدمہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ 21 مئی 1998 سے 27 مئی 1998 کے دوران سوئس بینک، اے بی این ایمرو، میں تین اکاؤنٹ 20/20 ملین ڈالر کی رقم کے کھلوائے گئے گئے جن کے کھلوانے والے کے کا نام وہاں پر انگلش حروف میں

AAZ, BB, NB

 لکھوایا گیا۔ یاد رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں اکاؤنٹ کھلوانے والے کے لئے اپنی شناخت ظاہر کرنا ضروری نہیں ہے۔اس کے بعد سوئس عدالت میں حکومت پاکستان نے درخواست دے دی کہ یہ رقم آصف علی زرداری ، محترمہ نصرت بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی ملکیت ہے اور یہ اکاؤنٹس انکے ہیں۔الزام یہ لگایا گیا تھا کہ یہ رقم مختلف معاہدوں میں کک بیکس کے ذریعے وصول کی گئی تھی۔

بدقسمتی پاکستانی حکومت کی اور ان کے وکلا کی کہ وہ اس قدر جاہل تھے کہ یہ مقدمہ دائر کرنے سے قبل سوئٹزرلینڈ کا قانون پڑھنا بھول گئے۔ پراسیکیوشن مجسٹریٹ ڈیوڈ ڈینیل نے لکھا کہ کک بیکس یا کمیشن لینا کسی بھی اتھارٹی یا افسر مجاز کے لیے سوئس قانون کے مطابق جائز اور عین قانونی ہے۔ اس لیے یہ مقدمہ خارج کردیا گیا۔

اس کے بعد ذرا پکا ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی گئی اور مشہورزمانہ شورنگ خان منشیات کیس بنایا گیا۔ جس میں میں ایک ملزم شورنگ خان اور دوسرے عارف بلوچ ۔ دو ملزمان سے اقبالی بیانات لینے کی جدوجہد کی گئی کہ وہ اگر یہ کہہ دیں کہ یہ جو منشیات برآمد ہوئی ہیں۔ یہ آصف علی زرداری کی ملکیت ہیں تو انہیں وعدہ معاف گواہ بنایا جائے گا۔ اس مقدمہ کے پیچھے اس زمانہ میں یورپ کی منشیات کے معاملہ پر خصوصی دلچسپی اور خوف کا فائدہ اٹھانا تھا۔

اب کہا گیا کہ یہ 60 ملین ڈالر کی رقم بے نظیر بھٹو محترمہ نصرت بھٹو اور آصف علی زرداری نے منشیات سے کمائی ہے۔ توقعات کے برعکس شورنگ خان اور عارف بلوچ اقبالی بیان دینے پر راضی نہ ہوئے ۔لہذا یہ مقدمہ بھی درمیان میں ترک کرنا پڑا۔

یہ دوسرا راؤنڈ تھا جو سوئٹزرلینڈ کی عدالت میں کھیلا گیا اور پراسیکیوشن کی اسٹیج سے آگے نہیں گیا۔

اس کے بعد تیسری کوشش انتہائی محنت جدوجہد اور سوئس قوانین کو پڑھنے کے بعد کی گئی اور یہ پایا گیا کہ سوئس عدالتوں میں سب سے زیادہ سنگین کیس منی لانڈرنگ کا ہوتا ہے۔کہا گیا کہ یہ 60 ملین ڈالر پاکستان سے منی لانڈرنگ کرکےسوئس بینک میں جمع کرایا گیا ہے۔

اس مقدمہ میں پہلی بار شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام نوٹس جاری ہوئے یعنی پراسیکیوشن نے اس مقدمہ کو اس لائق سمجھا کہ ملزم فریق کا موقف حاصل کیا جائے۔اس سے قبل دونوں کوششوں میں ملزم فریق کو نہ کوئی نوٹس جاری ہوا اور نہ انہیں سمن کیا گیا۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹو پراسیکیوشن مجسٹریٹ ڈیوڈ ڈینیل کے روبرو پیش ہوئیں اور انہوں نے صاف لفظوں میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا کہ ان تینوں اکاؤنٹس سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔اس بیان کے بعد کاروائی ختم کر دی گئی۔

مندرجہ بالا کارروائی کے علاوہ تمام کارروائی سوئس عدالت میں نہیں بلکہ پاکستانی میڈیا میں ہی ہوتی رہی ہے ۔

جب خط لکھوانے کے بعد سوئٹزرلینڈ کی عدالت نے مقدمات کھولنے سے انکار کیا۔ تو یہ ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ وقت کی لیمیٹیشن ختم ہو گئی ہے۔ یعنی ٹائم بارڈ ہوگئے ہیں۔ یاد رہے ٹائم بارڈ یا وقت کا ختم ہونا ایک سول قانون کی اصطلاح ہے۔ جرم پر یہ اصطلاح کبھی لاگو نہیں ہوتی ۔ کوئی بھی جرم 1000 سال کے بعد بھی ثبوت کے حصول پر کھولا جا سکتا ہے اور اس میں سزا دی جا سکتی ہے۔

اب یہ بات سمجھنا بہت ہی آسان ہوگا کہ سوئٹزرلینڈ میں جو بھی کارروائی ہوئی وہ پراسیکیوٹر کے دفتر میں ہوئی نہ کہ عدالت میں۔اب چونکہ میری طرح کا کوئی شخص کسی بھی وقت اٹھ کر حکومتی وقت کے گلے میں ہاتھ ڈال سکتا تھا کہ سوئس عدالتوں میں کبھی کوئی مقدمہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف نہ دائر ہوا اور نہ چلایا گیا۔ تو اس الزام سے بریت کے لئے ایک نئی اور انتہائی ناقابل یقین مضحکہ خیز کہانی بنائی گئی۔

ایک ویڈیو دکھائی گئی جس کے مطابق لندن میں پاکستانی سفیر واجد شمس الحسن مبینہ طور پر ایک ٹرک دستاویزات کا مذکورہ سوئس عدالت سے وصول کر رہے تھے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ سوئس عدالت سے ثبوت لے کر غائب کردیئے گئے۔

اب عدالتوں میں کام کرنے والا کوئی منشی یا کوئی عام آدمی جس نے زندگی میں کبھی عدالت کا چہرہ دیکھا ہوا ہے وہ بھی یہ جانتا ہے کہ کوئی بھی دستاویز ایک بار اگر کسی عدالت میں پیش کر دی جائے تو تا قیامت اس کی مصدقہ نقول کا حصول ممکن ہوتا ہے۔ اگر مدعی یا پراسیکیوٹر کوئی اصلی دستاویزات بعد ازاں فیصلہ مقدمہ عدالت سے وصول کرنا چاہتا ہے تو اس کا ایک مجوزہ طریقہ کار ہے جس کے مطابق عدالت سے حاصل کردہ مصدقہ نقول عدالت کو پیش کی جاتی ہیں تاکہ وہ انہیں ریکارڈروم میں محفوظ رکھ سکے اور اصلی دستاویزات واپس لی جا سکتی ہیں۔

اب میں پی ٹی آئی قیادت اور پی پی پی کے دشمنوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ کبھی بھی وہ کسی بھی سوئس عدالت سے بے نظیر بھٹو کے خلاف چلائے جانے والے مبینہ کسی بھی مقدمہ کا کوئی فیصلہ یا کوئی نقل مصدقہ میڈیا کے لیے جاری کردیں تاکہ ہم لوگ شرمندہ ہو کر جھوٹے بن جائیں اور پی پی پی قیادت کی کی ہمدردی اور حمایت کرنا چھوڑ دیں۔ اگر آپ میں یہ جرات اور ہمت نہیں ہے تو پھر اس بکواس کو محترم دنوں پر دہرانا چھوڑ دیں۔

۔♦۔شرافت رانا، ریٹائرڈ سول جج ہیں اور وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.