رینٹل پاور کیس اور لوڈ شیڈنگ کا قصہ

شرافت رانا

سال 2007 میں پٹرول کی بین الاقوامی قیمت بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے لئے لیے فرنس آئل اور پٹرول کا استعمال 60 فیصد تھا۔ یعنی ساٹھ فیصد بجلی ان ذرائع سے پیدا کی جاتی تھی۔ ملکی معیشت کمزور ہونے کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کرنا پڑی اور حکومت نے سوچا کہ مہنگے پٹرول کی فراہمی مسائل کی بجائے ان یونٹس کو گیس پر چلایا جائے۔ اب پاکستان میں اس وقت گیس بھی دستیاب نہیں ہو سکی تھی۔ اس لیے پرویز مشرف کے دور سے ہی رینٹل پاور پروجیکٹس کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ گیس پر چلنے والے نئے بجلی گھر بنائے جائیں گے جس سے بجلی کی اوسط قیمت پیداوار کم ہو سکے۔

پراجیکٹس کی جلد تکمیل کے لیے نجی شعبے کو دعوت دی گئی۔ ابھی یہ پالیسی عملی شکل اختیار نہیں کر پائی تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا دور شروع ہوگیا۔

پی پی پی نے  رینٹل پاور کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ۔ نجی شعبہ میں کوئی بھی منصوبہ شروع کرنے کی پالیسی کو سمجھ لیں۔ حکومت کسی بھی پراجیکٹ کی کل لاگت کی دس فیصد رقم ایڈوانس کے طور پر ادا کیا کرتی ہے۔ اسے موبلائزیشن ایڈوانس کہتے ہیں۔ یہ ایک قسم کا ٹوکن یا بیعانہ ہوتا ہے کہ حکومت پروجیکٹ کرنے میں سنجیدہ ہے اور 90 فیصد خرچ نجی کمپنی اپنی جیب سے کرنے کے بعد پروجیکٹ کو مکمل کرتی ہے ۔

اب یہ سمجھ لیں کہ تمام کمپنیوں نے اپنے منصوبے دیئے گئے وقت کے مطابق مکمل کر دیے۔ بدقسمتی سے ایسا ہوا کہ قطر سے گیس کی امپورٹ کا معاہدہ جس کے لیے ایک فرانسیسی کمپنی کو پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نےٹینڈر دیا تھا اس منصوبہ پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم امتناعی جاری کر دیا ۔

اب انویسٹرز کے ساتھ حکومت پاکستان کا معاہدہ یہ تھا کہ فیول یعنی سوئی گیس حکومت پاکستان تمام پروجیکٹس کو مہیا کرے گی۔ جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے گیس کے پروجیکٹ پر حکم امتناعی جاری کر دیا اور عملی طور پر اس منصوبہ کو ختم کر دیا۔ تو نجی کمپنیوں کی لوٹ مار کی داستانیں اخبارات میں شائع ہوئیں۔

مجھے اب یہ یاد نہیں کہ رینٹل پاور کی بابت سپریم کورٹ سوموٹو نوٹس لیا تھا یا کسی پارٹی سے درخواست دلائی گئی تھی۔ بہرحال جب کیس کی سماعت ہوئی تو افتخار محمد چوہدری فاضل چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے بہت دلچسپ جگت بازی کا مظاہرہ کیا۔

فاضل چیف جسٹس نے پوچھا کہ نجی کمپنیاں بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کس قدر رقم خرچ کر چکی ہیں اور اس میں حکومت کتنا پیسہ خرچ کر چکی ہے۔ بتایا گیا کہ اتنے ارب روپے مختلف کمپنیوں کو موبلائزیشن ایڈوانس کے طور پر دیے گئے ہیں ۔

جسٹس افتخار محمد چودھری نے عدالت میں میں چنگھاڑتے ہوئے پوچھا اچھا اتنا پیسہ خرچ ہو گیا اور یہ ایک یونٹ بجلی پیدا نہیں ہوئی کرپشن کی انتہا ہوگئی ہے۔

صاحب موصوف نے فرمایا کہ اتنے پیسے اگر ایک پلانٹ لگایا جاتا تو اس سے بجلی پیدا کی جا سکتی تھی۔ اتنے زیادہ پلانٹ کرپشن کی وجہ سے لگائے گئے ہیں ۔ حکومت پاکستان کے وکیل بیچارے کی نقار خانے میں طوطی آواز کون سنتاتھا۔

اٹارنی جنرل نے بار بار وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ گیس سپلائی کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی ۔ اور گیس کی سپلائی کی تمام کاوشیں حکم امتناعی کی وجہ سے ناکام ہو گئی ہیں۔ اور ایندھن کے بغیر کوئی بھی بجلی پیدا کرنے والا یونٹ آخر چلایا کیسے جاسکتا ہے ۔

نادر شاہی حکم جاری ہوا کہ تمام نجی انویسٹرز سے موبلائزیشن ایڈوانس ایک ھفتہ کے اندر سپریم کورٹ میں جمع کروایا جائے ۔

یاد رہے کہ دیگر کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ایک ترک کمپنی کارکے بھی اس میں شامل تھی ۔ جو بعد میں بین الاقوامی عدالت میں چلی گئی ۔ اور اس کے حق میں فیصلہ ہوا ۔

یہ بات اس لئے یاد آئی کہ آج حکومت کی جانب سے خبر شائع کروائی گئی ہے کہ کار کے خلاف بین الاقوامی ٹریبیونل میں حکومت پاکستان نے کرپشن کا مقدمہ جیت لیا ہے۔

کار کے کا مقدمہ صرف اسی قدر ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس بین الاقوامی انویسٹمنٹ پر مبنی کسی بھی پروجیکٹ کو ختم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ بین الاقوامی انویسٹمنٹ کسی بھی لوکل عدالت میں نہ چیلنج ہو سکتی ہے نہ اس کی جیورسڈکشن ہے۔ کسی بھی معاہدہ کے اندر پہلے سے بین الاقوامی میں ثالث کا نام دیا گیا ہوتا ہے جو کسی بھی تنازعہ کی صورت میں مقدمہ سننے کا مجاز ہوتا ہے۔

اب آتے ہیں پی پی پی کے دور میں لوڈ شیڈنگ کی کیا وجہ تھی۔

پی پی پی کے دور میں لوڈشیڈنگ ہونی کی وجہ یہ نہیں تھی کہ پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کم تھی۔

سال2008 سے قبل پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت سترہ ہزار میگاواٹ تھی تھی۔ 60 فیصد بجلی پیٹرول یعنی تھرمل پاور ہاوس کے ذریعے پیدا کی جاتی تھی۔ پٹرول کی بین الاقوامی قیمت زیادہ ہونے اور ملکی آمدنی کم ہونے کی وجہ سے بجلی بنا کر مارکیٹ میں بیچنا خسارہ کا کام تھا اور حکومت کے پاس خسارہ برداشت کرنے کو وسائل موجود نہیں تھے ۔

سال2005 میں بجلی کا ایک یونٹ تھرمل پاور ہاوس کے ذریعے پیدا کرنے میں 18 روپے فی یونٹ خرچ آرہا تھا۔ پی پی پی حکومت بھی اسی شرح پر بجلی بیچنے کو تیار ہو جاتی تو ایک روز میں میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنا ممکن تھا۔ مگر اٹھارہ روپے یونٹ اگر صنعتی بجلی فراہم کی جاتیں تو پاکستان بین الاقوامی تجارت سے آؤٹ ہو جاتا۔

پی پی پی حکومت مسلسل 5 سال تک صنعتی یونٹ کو چار روپے پر رکھ کر بجلی فروخت کرتی رہی۔ صنعتوں کو ایک شفٹ چلایا گیا اور ایک شفٹ صنعت چلانے سے پاکستان نے آج تک کی بلند ترین ایکسپورٹس کی شرح حاصل کی۔ 2013 میں پاکستان نے 25 ارب ڈالر کی برآمدات کی تھیں۔

نواز لیگ کی حکومت آتے ہی خوش قسمتی سے پٹرول کی بین الاقوامی قیمت ایک چوتھائی کم ہوگئی ۔ 147 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہونے والا پیٹرول 32 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔اس کے باوجود نواز شریف نے صنعتی بجلی کا یونٹ اٹھارہ روپے سے 22 روپے تک فروخت کیا۔ اب بجلی پیدا کرنے پر کم از کم 8 روپے فی یونٹ منافع ہو رہا تھا اس لیے بجلی کی لوڈشیڈنگ بغیر کوئی نیا پروجیکٹ لگائے ختم ہوگئی تھی۔

اب 18 روپے فی یونٹ پر صنعت کو چلا کر بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا ناممکن تھا لہذا تمام صنعتیں ایک ایک کرکے بند ہوتی چلی گئیں۔ جب نواز شریف کو برطرف کیا گیا تو 25 ارب ڈالر برآمدات کرنے والا ملک 17 ارب ڈالر تک رہ چکا تھا۔

پی پی پی کے دور میں صنعتیں ایک شفٹ چلتی تھی اور دو شفٹ کے مزدور نواز شریف اور شہباز شریف سے پیسہ لے کر پی پی پی حکومت کے خلاف جلسے جلوس نکالتے تھے جب نواز لیگ کی حکومت آئی تو صنعتیں مکمل طور پر بند ہو چکی تھیں اب جلسے جلوس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.