Archive for January 3rd, 2022

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں ؟۔حصہ چہارم

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں ؟۔حصہ چہارم

مہرجان ‎بھوک اور شناخت دو بنیادی و فطری (حیوانی جبلت /تعقلی) ضرورتیں ہیں جہاں اول الذکر کے لیے طبقات اور مؤخرالذکر کے لیے قومیں لڑتی آرہی ہیں۔ اقوام کی بنیاد شناخت جبکہ طبقات کی بنیاد بھوک و افلاس ہوا کرتی ہے۔ یہی شناخت قوم سے بڑھ کر تہذیبوں تک آتی ہے، جہاں محکوم اقوام اپنی شناخت و روایات کو اپنی […]

· 1 comment · علم و آگہی
دو ٹکے کا فحش نگار

دو ٹکے کا فحش نگار

تنویر احمد خان کہاں قدرت اللہ شہاب اور اشفاق احمد جیسی برگزیدہ ہستیاں اور کہاں منٹو جیسا دو ٹکے کا فحش نگار۔ کہاں سرکاری مطالعہ پاکستان کے آسمان پر چمکتے عظیم اور پاکباز لکھاری اور کہاں ایک شرابی۔ لیکن قدرت اللہ شہاب یا اشفاق احمد کی طرح منٹو نے کبھی کشف و کرامات کی اسیری کا دعویٰ نہیں کیا۔ نہ […]

· 0 comments · بلاگ
جب ایک خفیہ خط نے نہرو کی کشمیرپالیسی بدل دی

جب ایک خفیہ خط نے نہرو کی کشمیرپالیسی بدل دی

بیرسٹرحمید باشانی گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ مئی 1964 میں شیخ عبداللہ کے دورہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے دوران اچانک ایک ایسا واقعہ ہوا، جس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر ایک بار پھر ایجنڈے سے اتر کر پس منظر میں چلا گیا۔ یہ واقعہ پنڈت جواہر لال نہرو کی اچانک موت تھی۔ پنڈت نہرو کی موت اگرچہ […]

· 0 comments · کالم