کوئی بھی قدرتی آفت پاکستانی ریاست کے کھوکھلے پن کو عیاں کردیتی ہے

مری میں جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات شدید برفباری کے باعث راستوں میں پھنسی گاڑیوں میں کم ازکم 21 افراد ہلاک ہوگئے۔ جیسے ہی ان کی ہلاکت کی خبر یں عام ہوئیں تو سوشل میڈیا پر حکومت کی نااہلی پر تبصرے شروع ہوگئے ۔ سیاحوں کی ہلاکت سے پہلے جو حکومتی ادارے سوئے ہوئے تھے وہ اچانک بیدار ہوئے اور امدادی کاروائیاں شروع کردیں۔

سوشل میڈیا میں صوبائی و مقامی حکومت کے ساتھ ساتھ نیشنل ڈسسراٹر مینجمنٹ اتھارٹی، این ڈی ایم اے ،جس کے سربراہ ایک جرنیل ہیں، کے کردار پر بھی کڑی نکتہ چینی کی جارہی ہے کہ اربوں کے روپے کے فنڈز ہونے کے باجود یہ ادارے کسی مشکل وقت میں عوام کی مدد کو نہیں پہنچتے۔

مری کے سانحے میں مجموعی طور پر ریاستی نااہلی سامنے آتی ہے جو نہ تو عوام کو ایک حد سے زیادہ جانے سے روک سکی اور نہ ہی کسی امدادی کاروائیوں کے لیے کوئی تیاری کر رکھی تھی۔ سوشل میڈیا میں جو تبصرے ہوئے ان کےمطابق مری کے سانحہ میں غفلت تو برتی گئی ہے مگر سنگین جرم محض یہی ہے کہ 30 گھنٹے تک ٹریفک کھلوانے کی معمولی سی بھی کوشش نہیں کی گئی۔

دوسری طرف مری کے ہوٹل مالکان اور تاجروں کی بے حسی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں اور فی رات پچیس ہزار سے پچاس ہزار روپے تک کمرے کا کرایہ، پانچ سو روپے کا ابلا ہوا انڈا اور پانچ سو روپے کا چائے کا کپ ریاستی نااہلی کی داستان سناتے ہیں۔

یہ سانحہ کسی ایک حکومت کی نااہلی نہیں ہےبلکہ جب ریاست میں جمہوری ادارے کمزور ہوتے جائیں گے اور قومی وسائل دفاعی اخراجات کی نذر ہونگے تو ایسے سانحات و المیے پاکستانی قوم کے مقدر رہیں گے۔

پاکستانی ریاست میں ترقی کچھ شہروں تک محدود ہوتی ہے۔ لیکن زلزلہ، سیلاب یا کوئی طونان جسی قدرتی آفت پاکستانی ریاست کے کھوکھلے پن کو عیاں کردیتی ہے۔

اکتوبر 2005 میں کشمیر میں آنے والے زلزلے میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔جس کشمیر کے نام پر پاکستانی فوج اپنے دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافہ کرتی چلی آرہی ہے وہ ان کشمیریوں کی جان نہ بچاسکی۔

کشمیر و ملحقہ علاقوں، بلکہ پورے ملک میں آج بھی انفراسٹرکچر انتہائی ناقص ہے۔ غیر معمولی سیلاب، وطوفان اس کو برداشت نہیں کر سکتے۔ پاکستان کے چند بڑے شہروں کے علاوہ دور دراز کے علاقوں میں بنیادی علاج کی سہولتیں تک دستیاب نہیں۔

یہ درست ہے کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا لیکن اچھے انفراسٹرکچر اور احتیاطی تدابیر کی بدولت ان کی شدت کم کی جا سکتی ہے۔مری جیسا کوئی بھی سانحہ چند دن کے لیے میڈیا پر ابھرتا ہے اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے ۔

جب تک ہماری ترجیح عوامی فلاح و بہبود کی بجائےدفاعی اخراجات پر ہوگی تو دفاعی ادارے ملکی وسائل کو دیمک کی طرح چاٹتے رہیں گے۔سانحے اور المیے جنم لیتے رہیں گے۔اور شاید 27ویں رمضان کو یہی کچھ پاکستانیوں کی قسمت میں لکھ دیا گیا تھا۔

شعیب عادل

Leave a Reply

Your email address will not be published.