روس کا یوکرائن پر حملہ


محمد شعیب عادل

دنیا میں کوئی بھی ملک پرفیکٹ ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی نظام ۔آج کی ترقی یافتہ دنیا اپنے تجربے سے اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ جمہوریت ہی وہ نظام ہے جس کے ذریعے انسانی ترقی اور عوامی بھلائی کےلیے زیادہ سے زیادہ کام کیا جا سکتا ہے۔جب جمہوریت کو دنیا کا بہتر ین نظام قرار د یا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ یہ سو فیصد پرفیکٹ نظام ہے۔ سوفیصد پرفیکٹ نظام صرف الہامی یا نظریاتی کتابوں میں ہی ملتا ہے۔عملی زندگی میں ایسے کسی نظام کا وجود نہ ہوا ہے اور نہ ہوگا۔

نظریاتی دوستوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ سیاسی و سماجی مسائل کو بلیک اینڈ وائٹ میں دیکھنے کے عادی ہیں جبکہ عملی سیاست میں ایسے رویے کو آمریت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ آپ کی سیاسی سوجھ بوجھ اور شعور میں اسی وقت اضافہ ہوگا جب اپ بلیک اینڈ وائٹ کی بجائے اپنی رائے میں لچک رکھتے ہوئے گرے ایریا میں زیادہ سے زیادہ جگہ بنا پائیں ۔

آمریت کے برعکس جمہوریت میں اتنی لچک ہوتی ہے کہ اگر حکمران جماعت کی پالیسیوں پر حزب مخالف کڑی تنقید بھی کرتا ہے تو اسے نہ صرف برداشت کیا جاتا ہے بلکہ آئندہ ووٹ لینے کے لیے آپ کو کمپرومائز بھی کرنا پڑتا ہے۔ا جمہوریت میں اختلاف کرنے والے کو کبھی جھوٹے مقدمے بنا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیجا جاتا اور نہ ہی زہر دے کر مارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔جمہوریت میں مسائل گولی اور بندوق کی بجائے باہمی مذاکرات سے حل کیے جاتے ہیں۔ جمہوری ممالک نے ہمیشہ فوجی کاروائی کرنے سے پہلے مذاکرات کا آپشن کھلا رکھا ہے۔

حالیہ بحران میں امریکہ اور مغربی ممالک نے روس سے آخری وقت تک مذاکرات کا آپشن کھلا رکھا بلکہ پوری کوشش کی معاملہ جنگ تک نہ پہنچے ۔ ابھی بھی امریکہ اور یورپی ممالک، روسی جارحیت کے جواب میں براہ راست ملوث نہیں ہوئے۔ کچھ دوستوں کا موقف ہے کہ روس کا موقف زیادہ معقول ہے کہ وہ مغربی ممالک سے گارنٹی چاہتا تھا کہ یوکرائن نیٹو میں شامل نہ ہو ۔ یوکرائن کے نیٹو میں شامل ہونے سے روس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ میری رائے میں یہ موقف انتہائی بودا ہے۔ یوکرائن سے پہلے روس کی سرحد کے ساتھ جو دوسرے ممالک ہیں وہاں نیٹو پہلے سے موجود ہے اور نیٹو کی موجودگی کے باوجود یہ ممالک روس سے نہ صرف دوستانہ تعلقات بلکہ تجارتی تعلقات رکھے ہوئے ہیں۔ بلکہ روس امریکہ اور یورپی ممالک سے کئی بلین ڈالرکی مالیت کا کاروبار کررہا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے کالم نگار، تھامس جے فرائیڈ مین لکھتے ہیں کہ پوٹن کو اس بات کا کوئی خدشہ نہیں کہ یوکرائن نیٹو کا رکن بن جاتا ہے۔ اصل خطرہ یوکرائن کی جمہوریت ہے جس سے پوٹن خوفزدہ ہے۔ یوکرائن اور روس کے عوام کے درمیان گہرے ثقافتی و تجارتی تعلقات ہیں۔ اگر روس میں ایک جمہوری حکومت ہوتی تو شاید یہ صورتحا ل نہ ہوتی ۔ یاد رہے کہ روس میں جو تھوڑی بہت اپوزیشن ہے اس نے روسی صدر کے اس اقدام پر تنقید کی ہے۔ پوٹن پچھلے بیس سال سے ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیار کرکے صدر یا وزیر اعظم بن جاتا ہے اور اگر کوئی اس کے مقابلے میں کھڑا ہونے کی کوشش بھی کرتا ہے تو اسے کرپشن کے الزام میں جیل میں ڈال دیتا ہے یا زہر دے کر مروانے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ درست ہے کہ یوکرائن اور روسی عوام کے درمیان گہرے ثقافتی و تجارتی تعلقات ہیں ۔ اور جو چیز پوٹن کو تکلیف دیتی ہے وہ جمہوریت ہے اور یوکرائن کی یورپی یونین میں شمولیت کی خواہش ہے۔2014 میں روس نے پہلے حملہ کرکے کرائمیہ پر قبضہ کیا پھر روسی سرحد سے متصل یوکرائن کے صوبوں میں علیحدگی پسندوں کی مالی و فوجی امداد کی۔ حتیٰ کہ یوکرائن کے انتخابات میں روسی کاروباری اشرافیہ (اولی گارکس ) نے روس کے حمایت یافتہ امیدوار کی مالی امداد کی اور جواب میں مخالف امیدوار نے اپنی کامیابی کے لیے مغربی ممالک سے امداد طلب کی ۔ ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود یوکرائن کے موجودہ صدر بھاری اکثریت سے انتخاب جیتے۔ یاد رکھیں کہ یوکرائن میں جمہوریت مغربی معیار کی نہیں ابھی تو وہاں جڑیں پکڑ رہی تھی جس سے پوٹن کو بہت تکلیف ہے۔

یہ کہنا کہ یوکرائن روس کا تاریخی حصہ رہا ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ لیکن کمیونزم کے خاتمے کے بعد جب باقی ریاستیں الگ ہوئیں تو یوکرائن بھی الگ ہوا اور وہاں جمہوریت کی جدوجہد ہوئی۔ شروع میں روس نواز حکومت تھی جس سے روس کو کوئی پریشانی نہیں تھی۔ لیکن جیسے جیسے جمہوریت جڑ پکڑنے لگتی ہے تو ضروری نہیں ہر وقت روس نواز حکومت ہو۔ مغرب نواز بھی ہو سکتی ہے۔یعنی جب تک روس نواز حکومت ہے تو یوکرائن ایک آزاد ملک ہے اور جب روس نواز حکومت نہیں رہی تو روس اس پر قبضہ کر سکتا ہے کیونکہ یوکرائن روس کا تاریخی حصہ ہے۔

اگر اسی دلیل کو درست مانا جائے تو پھر پاکستان بھی ہزار سال سے ہندوستان کا حصہ تھا اور بھارت اپنے اس دعوے کو لے کر پاکستان میں چڑھائی کردے تو کیا بھارت کا یہ عمل درست سمجھا جائے گا؟ اسی طرح پاکستان کا پشتون علاقہ بھی تاریخی طور پر افغانستان کا حصہ ہے تو کیا افغانستان کو حق ہے کہ وہ پاکستانی پشتون علاقوں پر چڑھائی کردے؟

ممتاز صحافی احمد بشیر کہا کرتے تھے کہ پاکستان کا قیام انتہائی غلط تھا اس تقسیم کو نہیں ہونا چاہیے تھا مگر اب جبکہ یہ تقسیم ہوگئی ہے، دو علیحدہ ملک وجود میں آگئے ہیں تو تقسیم کے عمل کو ان ڈو نہیں کیا جا سکتا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی دوستی اور تجارت کے تعلقات ہوں اور بارڈر ویسے ہی بے معنی ہوجائے جیسے کہ امریکہ اور کینیڈا کے بارڈر ہیں یا یورپی ممالک کے۔

Comments are closed.