راجا پکسے فرار، لاکھوں روپے سرکاری رہائش گاہ میں پیچھے چھوڑ گئے

کولمبو پولیس کے مطابق صدر گوٹابایا راجا پکسے دارالحکومت میں اپنی رہائش گاہ سے فرار ہونے کے بعد لاکھوں روپے نقدی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ یہ رقوم پیر کو عدالت کے حوالے کی جا رہی ہے۔

گیارہ جولائی کو کولمبو سے موصول ہونے والی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق شدید سیاسی بحران کے شکار ملک سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکسے صدارتی محل سے فرار ہو گئے ہیں اور ہفتے کے روز صدارتی محل پردھاوا بولنے والے مظاہرین کو وہاں سے 17.85 ملین روپے نقد ملے ہیں۔ اس رقم کو مظاہرین نے پولیس کے حوالے کر دیا۔

پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ نقد رقم پولیس نے اپنے قبضے میں لے لی ہے اور اسے آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دستاویزات سے بھرا ایک سوٹ کیس بھی سرکاری محل میں چھوڑ دیا گیا تھا جسے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

راجا پکسے کیسے فرار ہوئے؟

 راجا پکسے نے دو صدی پرانی عمارت میں رہائش اُس وقت اختیار کی تھی جب ان کے نجی گھر پر31 مارچ کو مظاہرین نے دھاوا بولا تھا انہیں ان کے نجی گھر سے نکال دیا گیا تھا۔ 73 سالہ پکسے ملک میں سیاسی انتشار اور اپنے خلاف پُر تشدد مظاہروں کی پھیلتی ہوئی آگ سے کافی حد تک پریشان اور بے بس نظر آرہے تھے۔

سرکاری ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ راجا پکسے بحریہ کے اہلکاروں کی حفاظت میں صدارتی محل کے پچھلے دروازے سے فرار ہوئے اور انہیں کشتی کے ذریعے جزیرے کے شمال مشرق کی طرف لے جایا گیا۔

پیر کی صبح تک ان کے صحیح یا اصل ٹھکانے کے بارے میں معلومات موصول نہیں ہو سکی تھیں لیکن وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے کہا کہ راجا پکسے نے انہیں مستعفی ہونے کے ارادے کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

راجا پکسے کے مستعفی ہونے کی صورت میں 73 سالہ وکرما سنگھے خود بخود قائم مقام صدر بن جائیں گے، تاہم انہوں نے خود اعلان کیا ہے کہ اگر ایک اتحادی حکومت کی تشکیل پر اتفاق رائے ہو جاتا ہے تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔

راجہ پکسے نے پہلے ہی پارلیمانی اسپیکر مہندا ابی وردنا کو بتا دیا تھا کہ وہ بدھ کو اپنی سرکاری رہائش گاہ سے کسی زور زبردستی کے بغیر نکل جائیں گے تاکہ ایک پُر امن منتقلی کو عمل میں لایا جا سکے۔ تاہم ان کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد  ہی انہیں ان کے سرکاری رہائش گاہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا۔

راجا پکسے پر الزامات

ہزاروں مظاہرین نے ہفتے کے روز محل پر قبضہ کرنے کے فوراً بعد راجا پکسے کے ایک دفتر پر قبضہ کر لیا تھا۔ مظاہرین تین ماہ سے صدارتی سکریٹریٹ کے باہر ڈیرے ڈالے ہوئے تھے اور ملک کے بے مثال معاشی بحران پر ان کے استعفٰے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ راجا پکسے پر الزام ہے کہ انہوں نے معیشت کو اس حد تک خراب کر دیا ہے کہ اب ملک کے پاس انتہائی ضروری درآمدات کی مالی اعانت کے لیے زرمبادلہ ختم ہو چُکا ہے جس کی وجہ سے 22 ملین آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

dw.com/urdu

Comments are closed.