اردو زبان کا بیانیہ

خالد محمود

ہمارے ہاں اردو لکھاریوں اور صحافیوں کا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ سیدھی بات نہیں کہنی۔ بات کو زبان و بیان اور علم کلام کے تمام میسر آلات جیسے اشارہ، کنایہ، تشبیہ، استعارہ، طنز اور تاویل سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونا ہے، تاکہ الفاظ کے بے دریغ استعمال سے صفحات کا پیٹ بھی بھر جائے اور کسی کے کچھ پلے بھی نہ پڑے۔ بھرتی کے مترادف الفاظ کے ساتھ مرصع اور مقفیٰ جملوں سے ایسی بھول بھلیاں تعمیر کی جائیں کہ آپ اپنے پیٹرن سے حاصل شدہ مراعات، خلعت اور انعامات سے محروم نہ رہیں۔

تحریر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ہتھیار عملی دو گرفتگی ہے جسے انگریزی میں

Ambivalence

کہا جاتا ہے۔ بیس جنوری کے ڈان اخبار میں اشرف جہانگیر قاضی کا کالم پاکستان، اسلام اور ایجوکیشنچھپا ہے۔ اس کالم میں موصوف نے پاکستانی ریاست کے آرگنز کی غیر فعالی اور فتور فعل کا نہایت شاندار پیرائے میں معروضی جائزہ لیا ہے۔ اس کالم میں ژاں پال سارتر، گرامچی، چامسکی اور ولیم ھمبولٹ کے حوالے دیے گئے ہیں۔ اپنے کالم میں وہ جرات مندانہ طریقے سے ملٹری کو ڈی فیکٹو طاقت اور تمام فیصلہ کن اختیارات کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ اور یہ تشخیص بھی کرتے ہیں کہ خاکی اشرافیہ کے انہی ماورائے آئین اٹھائے گئے اقدامات کی وجہ سے آج ہر شعبے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ لیکن کالم کے عین درمیان میں وہ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ سے رجوع کرتے بلکہ مذہب کا تڑکا لگاتے پائے گئے ہیں۔ لکھتے ہیں

: Our scientific and cultural heritage of Baghdad, Andalus, Iran and Central Asia needs to be repossessed and carried forward.

یہاں لیاقت علی ایڈووکیٹ کی کہی بات زیادہ برمحل ثابت ہوتی ہے کہ: “مذہبی فکر کا حامل دانشور عقل و دانش کی جتنی مرضی لمبی سیٹرھی پر چڑھ جائے پاوں اس کے مولوی کی فکر ہی میں پھنسے رہتے ہیں۔ سرسید، عبداللہ چکڑالوی، مولوی احمد دین ،غلام احمد پرویز اور اب غامدی جتنا چاہیں مذہب کو عقلی پیمانوں پر کسنے کی کوشش کریں ایک پوائنٹ آتا ہے جب انھیں مولوی کو مرشد تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ مولوی کی فکر ہی اصل مذہبی فکر ہے۔

اس زمرے میں اب ہماری سول سروس کے نگینے بھی آ چکے ہیں۔ مسندِ اقتدار اور مسجد کے منبر میں فاصلہ بڑی تیزی سے سمٹتا جا رہا ہے۔ وہ اپنے اُس کالونیل نظام تدریس پر انگلی نہیں اٹھاتے جس کی تعلیم و تربیت کی بدولت وہ اس مملکت خدا داد و آدم ساز میں اعلی افسر لگتے ہیں۔ اپنی سروس کے دوران ہر غیر آئینی اقدام پر پوری یکسوئی سے عمل درآمد کروانا اور ریٹائرمنٹ کے بعد اشارے کنائے میں بڑبڑانا بھی کوئی انہی سے سیکھے۔

ہالی وڈ کی شہرہ آفاق حسینہ میری لِن منرو نے کہا تھا: “سویٹی اگر تم نے دو چہرے ہی رکھنے ہیں تو کم از کم ایک تو خوبصورت بنا لو۔

اردو لکھاریوں نے بالخصوص اور انگریزی مسلمان لکھاریوں نے بھی بالعموم، یہی طریقہ واردات اپنا لیا ہے۔ جو بات کہنی ہوتی ہے اُسے کبھی مخفی رکھا جاتا ہے اور کبھی واضح دکھا دیا جاتا ہے۔ یہ چکمہ بھی دیا جاتا ہے کہ محض کسی غلطی کے بارے میں آگاہی سے دینے سے وہ غلطی از خود پاک ہو جائے گی — اور اپنے تئیں اسے مزاحمت کے برابر سمجھ لیا جاتا ہے۔

اس طرح کے بیانیے کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ شاذ و نادر ہی ان پریشانیوں کا حل تجویز کرتا ہے، جس کے اوپر اسے صحیح سمت میں سوال اٹھانا ہوتا ہے۔ آپ کے مسائل اور غربت کا مذاق اڑانا، یا ان کے بارے میں شک یا شرم کا اظہار کرنا، ان کی سٹیٹس کوسے وابستگی کی نفی نہیں کرتا؛ اور نہ ہی اپنے آپ کو منافقت، بزدلی، یا نسل پرستی کے لیے سرزنش کرنا ضروری سمجھا جاتا ہےجو انہیں منافقت، بزدلی، نسل کشی یا ایلیٹ ازم کی اسیری سے رہائی دلا سکے۔ جیسے جیسے ہمارے نظریاتی نظام میں دراڑیں تیزی سے نظر آنے لگی ہیں، اردو لکھاریوں، صحافیوں اور دانشوروں کا یہ اضطراری ٹریپ بھی مزید پیچ دار ،بھول بھلیاں اسارتا اور گنجلک ہوتا جاتا ہے۔

One Comment