علم و آگہی

فلسفہ میں وجود اور عدم کا معمہ

فلسفہ میں وجود اور عدم کا معمہ

تحریر وتحقیق: پائندخان خروٹی فلسفہ اور منطق پر متعدد کتابیں، مکالمے، مباحثے اور مقالے پڑھنے اور خود درجنوں آرٹیکلز لکھنے کے بعد بھی وجود (بی انگ) اور عدم (نھتنگ نیس )کے پیچیدہ موضوع نے مجھے ہونے اور نہ ہونے کے درمیان اُلجھا کر رکھ دیا۔ کاز اینڈ ایفیکٹ کے نظام کو آئیڈیلسٹ اور میٹریلیسٹ کے ” تسلیم شدہ اختتامیہ ” […]

· 0 comments · علم و آگہی
محکوم کے لیے فلسفہ پڑھنا کیوں ضروری ہے؟

محکوم کے لیے فلسفہ پڑھنا کیوں ضروری ہے؟

میری خواہش ہے بلوچ نوجوان مارکس کو خود پڑھ کر اپنی تنقید سامنے لائیں۔بابا مری مہر جان فلسفہ کا نام سنتے ہی لوگ اسے انتہائی مشکل ،ناقابل فہم ، خشک اور ایک ایسا علم سمجھتے ہیں جس کا عوام کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ، یعنی اشرافیہ کے لیے اک مختص “ذہنی عیاشی کا علم” جس کا عام معاشرے […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟ حصہ15

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟ حصہ15

مہرجان میری نظر میں نو آبادیاتی معاشروں کے لیے فیڈریشن کی اصطلاح کو استعمال کرنا درست نہیں ہے ، یہاں تو رشتہ طاقتور اور کمزور ، آقا اور رعایا کا ہے “ بابا مری۔ فیڈریشن ایک سیاسی اصطلاح ہے جو معنی و مفہوم کی سطح پر بھی تغیر پذیر رہی ہے اور بطور سیاسی نظام بھی مختلف طرزوں کا حامل […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟۔حصہ 14

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟۔حصہ 14

بلوچ قوم میں اسپرٹ ہے۔۔بابا مری مہرجان تاریخ فلسفہ میں اسپرٹ (روح) کو عمومی طور پر مذہبی اور اسطوریاتی (Religious & Mythological) پس منظر سے دیکھا گیا ، اس لیے بہت سے فلاسفر اسپرٹ کو مختلف معنی دیتے رہے ، کسی نے اسے مائنڈ ، کسی نے سائکی تو کسی نے اسے میٹا فزیکل کہا اور سب سے بنیادی بات […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟ حصہ 13

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟ حصہ 13

مہرجان (تشدد و عدم تشدد ) “مسلح جدوجہد دشمن کو زیادہ تکلیف پہنچاتی ہے” (بابا مری) کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ بابا مری دریا کو کوزے میں بند کرنے کا ہنر ایسے ہی جانتے تھے جیسے مکالمات افلاطون میں سقراط (افلاطون) کو نہ صرف لمبی لمبی و طویل تقاریر کے ہنر سے آشنا ہی تھی بلکہ اس کے پہلو […]

· 1 comment · علم و آگہی
میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟ حصہ 12

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟ حصہ 12

ہمیں تاریخ کے سبق کو دہرانا چاہیے کہ بالادست کے منہ سے محکوم قوم کے لئے ترقی کا لفظ صرف لوٹ کھسوٹ کیلیے نکلتا ہے(بابا مری) مہر جان   ترقی میں چُھپے  ہوئے استحصال کو باریک بینی سے دیکھنا اور اسکی مکاری کو پرکھنا بابا مری کا خاصہ رہا ہے،یہ بصیرت محکوم اقوام کے قوم پرستوں کو میسر رہی جو زبان […]

· 1 comment · علم و آگہی
میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں ؟ حصہ11

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں ؟ حصہ11

مہرجان  دنیا کبھی جنگ سے باہر نکلی ہی نہیں (بابا مری ) کی یہی بات اسی انداز میں بہت پہلے یونانی فلاسفر ہیراقلیطوس نے کہی کہ “مزاحمت ہی انصاف ہے “۔ دوسرے الفاظ میں War is father of all things جبکہ ھیگل کے فلسفہ کی بنیاد ہی یہی ہے، کہ دنیا کبھی جنگ سے باہر نہیں نکلی ، اگر وسیع […]

· 1 comment · علم و آگہی
میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟ حصہ دہم

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟ حصہ دہم

مہرجان  مزاج ، قوموں کی تاریخ کا سر چشمہ ہوتا ہے (بابا مری) تاریخی عمل میں “شناخت” کی جنگ کسی بھی قوم کے لیے بقول بابا مری ایک سیاسی پروگرام سے بڑھ کر ایک نصب العین بن جاتا ہے جیسا کہ لینن کے لیے انقلاب ایک پروفیشن بن جاتا ہے ، یعنی نصب العین سے مراد کسی سیاسی پروگرام کا […]

· 1 comment · علم و آگہی
میں نیشنلزم پہ کاربند کیوں ہوں؟۔۔ حصہ نہم

میں نیشنلزم پہ کاربند کیوں ہوں؟۔۔ حصہ نہم

مہرجان فلسفے کی دنیا میں لازمیت کے کئی پہلو اجاگر کیے گئے ہیں ۔ایک پہلو جسے پہلے بیان کیا گیا کہ لازمیت میں جبر کے ٹوٹنے کے امکان کو آزادی کہا گیا دوسرا پہلو ارسطو کے فلسفہ جوھر میں پوشیدہ ہے جسے ھیگل وہاں سے اخذ کرکے تاریخی عمل میں دیکھتا ہے۔اسی بنیاد پہ ھیگل کو تاریخیت کا فلاسفر بھی […]

· 2 comments · علم و آگہی
میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں ؟۔۔۔ حصہ ہشتم

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں ؟۔۔۔ حصہ ہشتم

مہرجان  ریاستی دانشور جس طرح قومی بالادستی کے تناظر میں تاریخ سے منہ موڑ لیتا ہے وہ اپنی تئیں حاکم و محکوم کے تضاد کو محدودے چند اختلافات کا نام نہ دےکر بھی قابض ریاست کی سالمیت و اجارہ داری (سپر اسٹرکچر /پاکستانیت) کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔اب تاریخ میں بلوچ قومی مزاحمت کار نے جس […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
میں نیشنلزم پہ کاربند کیوں ہوں؟ حصہ ہفتم

میں نیشنلزم پہ کاربند کیوں ہوں؟ حصہ ہفتم

مہر جان سنہ 48سے ‎ریاستی دانشوروں کا کردار ہمیشہ ان تمام افعال کیلئے جواز مہیا کرنا رہا ہے جو محکوم و مفتوح قوموں پر مسلط کردیئے جاتے ہیں۔یہاں بھی اگر ان کا کردار دیکھنا مقصود ہو تو پہلی بات ہمیں یہ سمجھ لینی چاہیے کہ ریاست پاکستان نے ریاست قلات پہ بزور شمشیر جب قبضہ کیا تو اب ان دو […]

· 3 comments · علم و آگہی
جبر اور اختیار کا فلسفہ

جبر اور اختیار کا فلسفہ

 تحریر وتحقیق: پائندخان خروٹی  فلسفہ و منطق میں کاز اینڈ ایفیکٹ کے حوالے سے ماضی کے لگے بندھے اصولوں کی پیروی کرنا موجودہ ترقی یافتہ دنیا میں ممکن نہیں رہا۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ جب کسی جگہ دھواں اٹھتا نظر آئے تو وہیں پر آگ ضرور لگی ہوگی۔ لیکن آج کا مشاہدہ ہے کہ آگ اور […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
‏‎ میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں ؟۔۔ حصہ ششم

‏‎ میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں ؟۔۔ حصہ ششم

مہرجان سماجی شعور میں بھی شناخت کی اہمیت کو کسی طور نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ، سماج میں انسان اپنی شناخت و خودمختاری کے لیے مسلسل جہد کے ساتھ برسر پیکار ہے یہ شناخت کی وہی جنگ ہے جس کی وضاحت ھیگل نے آقا و غلام کی جدلیات میں کی ہے کہ کیسے ایک انسان اپنی شناخت کے لئے موت […]

· 1 comment · علم و آگہی
میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں ؟ حصہ پنجم

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں ؟ حصہ پنجم

مہر جان  مینوفیکچرڈ کامن سینس کا ڈومین فلسفہ میں لسانیات ہے۔ لسانیات کا تعلق ذہن سے ہے لیکن بعض مفکرین لسانیات کو اس قدر اہمیت نہیں دیتے ، وہ اسے شاہد لفظوں کا کھیل ، آسمانوں سے اوپر کی بات سمجھتے ہیں لیکن دوسری طرف بعض مفکرین بشمول گرامشی جو کہ خود اک ماہر لسان تھے فوک لور (لسانیت) کو کامن سینس […]

· 4 comments · علم و آگہی
میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں ؟۔حصہ چہارم

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں ؟۔حصہ چہارم

مہرجان ‎بھوک اور شناخت دو بنیادی و فطری (حیوانی جبلت /تعقلی) ضرورتیں ہیں جہاں اول الذکر کے لیے طبقات اور مؤخرالذکر کے لیے قومیں لڑتی آرہی ہیں۔ اقوام کی بنیاد شناخت جبکہ طبقات کی بنیاد بھوک و افلاس ہوا کرتی ہے۔ یہی شناخت قوم سے بڑھ کر تہذیبوں تک آتی ہے، جہاں محکوم اقوام اپنی شناخت و روایات کو اپنی […]

· 1 comment · علم و آگہی
میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟۔حصہ سوم

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟۔حصہ سوم

مہرجان شناخت و قومیت پہ ا یک بڑا اعتراض جو لبرل حلقوں کی طرف سے کیا جاتا ہے کہ شناخت و قومیت اپنانے میں آپ کی اپنی رضامندی (آزادی) شامل نہیں تو پھر ایسے میں شناخت و قومیت کے لیے یہ مزاحمت چہ معنی دارد ؟ یا یہ کہ شناخت فطری نہیں ہے ،اس لیے شناخت کی کوئی اہمیت نہیں […]

· 4 comments · علم و آگہی
فلسفہ میں منطقی مغالطہ اور پیراڈوکس

فلسفہ میں منطقی مغالطہ اور پیراڈوکس

پائندخان خروٹی فلسفہ اور سائنس کی دنیا میں کوئی بھی رائے حتمی اور مطلق نہیں ہو سکتی۔ خلقی سیاسی مفکورہ میں ہر دریافت شدہ اصول یا قانون میں نئی دریافت کی تلاش نظر آتی ہے، ہر قائم شدہ دلیل کے مقابلے میں ایک اور نئی دلیل اُبھر آتی ہے، ہر سوال سے ایک نیا سوال جنم لیتا ہے، ہر جواب […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں۔حصہ دوم

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں۔حصہ دوم

مہرجان نیشنل ازم پہ اکیڈمک دنیا میں سب سے بنیادی اعتراض جو کیا جاتا ہے وہ یہ کہ “نیشنل ازم امیجنری ہے“۔نیشنل ازم کے حوالے سے چار بڑے نظریہ ساز ایرک ہابسبوم (مارکسسٹ مورخ)، بینیڈکٹ اینڈرسن، ارنیسٹ گیلنر (لبرل)، اور سوشلسٹ نائجل ہیرس ہیں۔ یہ چاروں اس بات پر متفق ہیں کہ “قوم ایک امیجنری تشکیل ہے” اس اعتراض کے […]

· 1 comment · علم و آگہی
سائنس وفلسفہ میں اسباب اور نتائج

سائنس وفلسفہ میں اسباب اور نتائج

 پائندخان خروٹی ہر ذی شعور شخص اس بات پر متفق ہے کہ دنیا میں کوئی واقعہ بغیر کسی وجہ کے ظہور پذیر نہیں ہوتا۔ بالفاظ دیگر کوئی عمل بےوجہ نہیں ہوتا۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کسی شخص سے سرزد ہونے والا فعل یا کسی واقعہ کی ظہور پذیری کے پیچھے اصل وجہ کا آپ کو ادراک نہ ہو […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
ڈائیلاگ، سچ کی بالادستی کا ضامن

ڈائیلاگ، سچ کی بالادستی کا ضامن

پائندخان خروٹی جب تک کمیونیکیشن کے سرچشمے اور نصاب بنانے کے اختیارات زردار اور زور دار کے کنٹرول میں ہوں اُس وقت تک ذہنی نشوونما اور انسانی عقل کی بالادستی قائم کرنے کا خواب، خواب ہی رہیگا، پولیٹیکل اکانومی پر مسلط عناصر کا قبضہ چھڑانے کیلئے ضرور ہے کہ تمام سیاسی سرگرمیوں اور ریاستی پالیسیوں کو مفاد خلق , رائے […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی