اسد الدین اویسی: جدید ہندوستان کا جناح؟

طفیل احمد

jinnah
اسلامسٹ عوام کے مسائل کا حل سیاسی و قانونی طریق کی بجائے مذہب اسلام میں تلاش کرتے ہیں۔محمد علی جناح نے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ خطے کا مطالبہ کیا ۔ تقریباً آٹھ دہائیوں کے بعداسد الدین اویسی اور دوسرے اسلامسٹ، مسلمانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی ادارو ں میں داخلوں کے لیے علیحدہ کوٹے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ایک بار پھر مسلمان رہنما سیاست کے لیے اسلام کو استعمال کر رہے ہیں۔

مہاراشٹر میں ، جو اسد الدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کا انتخابی علاقہ ہے ، ہر ہفتے اجتماعات منعقد کیے جارہے ہیں جہاں یہ مطالبہ زور وشور سے دہرایا جاتا ہے کہ ملازمتوں کے کوٹے کے لیے تمام مسلمان اکٹھے ہوجائیں۔

ان مطالبات کا مقصد بظاہر مسلمانوں کی پسماندگی کو دور کرنا اور ان کے مسائل کو حل کرنا ہے لیکن حقیقتاً اسلام کی آڑ میں مخصوص سیاسی مقاصد کا حصول ہے کیونکہ اگر فائدہ حاصل کرنا ہے تو اس کے لیے اسلام پر یقین ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ہندوستان میں اسلامی لابی ، اسد الدین اویسی اور جمعیت علماء ہند ، کو منی شنکر آئیور جیسے غیر مسلم سیاستدانوں کی حمایت بھی حاصل ہے جن کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو کوٹہ کی بنیاد پر حصہ ملنا چاہیے۔

یہ بات درست نہیں کیونکہ مسلمان اوبی سی یعنی ادر بیک ورڈ کلاس کے تحت کوٹہ سسٹم کے ذریعے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔لیکن اسد الدین اویسی کا خیال ہے کہ تمام مسلمان چاہے وہ امیر ہیں یا غریب ہیں،ا نہیں کوٹہ سسٹم کے ذریعے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ اویسی کے نزدیک مسلمانوں کے مسائل حل کے لیے اسلام کا استعمال ضروری ہے۔

یہ بات غیر اہم ہے کہ راشٹریہ سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھگوت نے ہندوتوا کا تصور کیسے وضع کیا۔فرقہ وارانہ سیاست کے نتیجے میں ہندوتواکو بھی ہندوازم کی آئیڈیالوجی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔اویسی نے اپنے حالیہ بیان میں ہندوتوا کے رہنماؤں کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ اس دنیا میں ہر کوئی پہلے مسلمان پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ کسی دوسرے مذہب کو اختیار کرتا ہے‘‘ یہ بیان کچھ کے لیے حیران کن ہومگر عام طور پر اسلامی سکالر اسی قسم کے دلائل دیتے ہیں۔

ہندوتوا یا دوسرے گروپ اویسی کے اس بیان کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہ بھی کریں تو اویسی کی مذہب کی بنیاد پر سیاست جاری رہے گی۔اویسی کی سیاست بھارتی مسلمانوں کے لیے اتنی ہی تباہ کن ہے جتنی کے جناح کی سیاست، پاکستان میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی۔

اسد الدین اویسی کو کئی معاملات میں جدید بھارت کا جناح کہا جا سکتا ہے ۔ جناح ہوں یا اویسی یا کوئی بھی جہادی تنظیم ، قدرتی طور پر سیاسی مسائل کے حل کے لیے مسلم اور غیر مسلم کی تفریق کرتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہیں۔جبکہ لبرل اور روشن خیال مسلمان لکھاری ان تعلیمات کا دفا ع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلام آپس میں مل جل کر رہنے کی تعلیم دیتا ہے ۔ وہ دلیل کے طور پر قرآن کی آیت (109:6) کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ تمھارا دین تمہارے لیے اور میرا دین میرے لیے‘‘۔

جبکہ یہ آیت بنیادی طور پر مسلمانوں اور غیر مسلموں میں تفریق کرتی ہے۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب مکہ کے غیر مسلموں نے حضرت محمدؐ کو دعوت دی کہ ہمیں مکہ میں اکٹھے رہنا چاہیے ۔انہوں نے یہ پیشکش رد کردی اور کہا کہ تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔ محمد علی جناح نے بھی یہی سیاست کی اور اویسی بھی یہی سیاست کر رہے ہیں۔

بھار ت میں اویسی کی سیاست کو سمجھنے کے لیے دو قومی نظریہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ نظریہ اسلام کے سیاسی استعمال کی وضاحت کرتا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق ہندو اور مسلمان دو علیحدہ علیحدہ قومیں ہیں جو اکٹھے نہیں رہ سکتیں۔ حقیقت میں یہ نظریہ مسلمان بمقابلہ ہندو نہیں بلکہ اسلام کی بنیادی تعلیم ہی یہی ہے کہ مسلمان اور غیر مسلم اکٹھے نہیں رہ سکتے۔مسلمان علماء بتاتے ہیں کہ اسلام انتہا ئی پرامن مذہب ہے جو غیر مسلموں کی حفاظت کرتا ہے لیکن روشن خیال علماء یہ نہیں بتاتے کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلم کی حفاظت اسی وقت ہو سکتی ہے جب وہ ذمی (دوسرے درجے کا شہری) بن کررہے۔

جناح اپنی ذاتی زندگی میں سیکولرتھے لیکن اجتماعی حوالے سے وہ سیکولر نہیں تھے۔ علامہ محمد اقبال نے جناح کو اسلام پڑھایا۔ اقبال نے کہا ، ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی رہی، بڑی مشکل سے پیدا ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔ اکبر ایس احمد اپنی کتاب’’ جناح، پاکستان اور اسلامی شناخت‘‘ میں لکھتے ہیں کہ جنوبی ایشیا کے دانشوروں کا اس نقطے پر اتفاق ہے کہ اقبال اپنے اس شعر میں اس بات پر مسرور ہیں کہ انہوں نے جناح کو اسلامی ریاست کے قیام کے لیے تیار کیا۔ یہ وہی اسلامی ریاست ہے جس کا پرچار (طالبان کرتے ہیں یا) آج ابوبکر البغدادی کر رہا ہے اور اسد الدین اویسی کی سیاست کا بھی یہی مقصد ہے۔

اقبال کے زیر اثر ہی محمد علی جناح کے سیاسی بیانات میں تبدیلی آئی۔ 1937 سے لے کر تقسیم تک جناح کی تقاریر اسلامی لفاظی سے بھرپور ہیں۔ ان کے بیانات کچھ اس قسم کے ہیں ’’مسلمانوں کو ایک ہزار سال سے دبایا نہیں جا سکا۔۔۔ میں مسلمانوں کو کبھی ہندوؤں کا غلام بننے نہیں دوں گا۔۔۔ ہندو گائے کی عبادت کرتے ہیں جبکہ مسلمان اسے کھاتے ہیں ۔۔۔ ہندو ولن ہیں اور مسلمان ہیرو۔۔۔ پاکستان کے حصول کا مقصد محض آزادی و خود مختاری کا حصول نہیں بلکہ اسلامی نظریہ حیات کے مطابق زندگی گذارنا ہے۔۔۔ یہ اسلام کی تعلیمات کا اثر ہے کہ پاکستان کا قیام عمل میں آیااور اب یہ پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے ایک اسلامی ریاست میں تبدیل کریں‘‘۔ اویسی بھی شاید ہی جناح کی سیاست سے اختلاف کر سکیں۔

اسلام نے مکہ میں غیر مسلموں کو اسلامی ریاست میں کوئی حصہ نہیں دیا تھا۔ جناح نے بھی ہندوؤں کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا تھا،اسد الدین اویسی بھی کے تحت کوٹہ لینے کی بجائے اسلام کی بنیاد پر سیاست کر رہے ہیں۔ چھ جنوری 2015 کو ’’ بیڈ‘‘ شہر میں اویسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ مسلمان کوٹہ سسٹم کا مطالبہ مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ پسماندہ ہونے کے ناطے کر رہے ہیں‘‘۔

ان کے نزدیک او بی سی شاید مسلم نہیں ہے۔ اویسی اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ وہ اسلام کی بنیاد پر سیاست کر رہے ہیں لیکن بنیادی طور پر ان کی سیاست اسلام کے گرد ہی گھومتی ہے جیسا کہ جناح کی سیاست تھی۔ اس تمام سیاست کا بنیادی نقطہ یہی ہے کہ صرف اسلامی نظریہ حیات ہی دنیا پر حکومت کر سکتا ہے۔

اویسی کی سیاست حیدر آباد اور ممبئی کے علاقوں میں بہت مقبول ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں سے مسلمان نوجوانوں کو انتہا پسندی اور جہادکی طرف مائل کرنے میں زرخیز ہیں۔ ہندوستان کی خون ریز تقسیم کے باوجود ہم نے وہی نظریہ اپنا یا ہے ۔ اویسی کی سیاست کو مسترد کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کوٹہ سسٹم کو ختم کر کے پسماندہ کمیونیٹز کے لیے فلاحی منصوبے بنائے جائیں۔ غربت کی سطح سے نیچے رہنے والوں کے لیے راشن کارڈ یا کسی عورت کی کم آمدنی کو مد نظر رکھ کر امداد دینے کے طریقے ختم کیے جائیں۔

اگر آپ کو ریلوے اسٹیشن پر پر پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس کوئی لڑکی بھیک مانگتی ہوئی نظر آئے تو اسے ہندو یا مسلمان کی نظر سے نہ دیکھیں ۔ ہمیں کوٹہ سسٹم کی ضرورت نہیں ۔ کوٹہ سسٹم سے کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ پاکستان بنا کر ہم سمجھتے تھے کہ اب امن قائم ہو جائے گا اور خوشحالی آئے گی۔ اسد الدین اویسی کی سیاست خطرناک حد تک جناح کی سیاست کا عکس ہے ۔ پاکستان کا تجربہ بتاتا ہے کہ صرف بھارتی آئین (سیکولر ازم) ہی ہمارا مذہب ہونا چاہیے۔

طفیل احمد، مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، واشنگٹن ڈی سی، میں ساؤتھ ایشیا پراجیکٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔
انگریزی سے ترجمہ ، جناح آف ماڈرن انڈیا، بشکریہ : دی نیو انڈین ایکسپرس، نو فروری 2015 ،

 

Comments are closed.