علم و آگہی

سائنسی فلسفے کے خدوخال

سائنسی فلسفے کے خدوخال

جہانزیب کاکڑ فلسفہ کو عام طور پر خیالات کا  گورکھ دھندا سمجھا جاتا ہے جس کے تصورات کا عملی اور تجرباتی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اسکی وجہ دیگر علوم کا فلسفے کی کلیاتی کسوٹی  سے الگ ہونا  اور  شعبہ جاتی علوم کے ماہرین کا فلسفہ کے بارے میں پھیلائی گئی غلط فہمیاں ہیں۔ سائنس چونکہ ایک منظم تجرباتی […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
فکری و نظریاتی مباحث ایک تنقیدی جائزہ۔حصہ چہارم

فکری و نظریاتی مباحث ایک تنقیدی جائزہ۔حصہ چہارم

مہرجان مارکسزم کا بنیادی مقدمہ بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ جو مارکسزم میں ترمیم کے حق میں ہے جیساکہ فرینکفرٹ اسکول آف تھاٹ یا وہ جو مارکسزم کو آج کے دور سے غیر متعلقہ سمجھتے ہیں وہ پہلے مارکسزم کی بنیادی مقدمے کو سمجھ لیں، کہ دراصل مارکس نے جدلیاتی مادیت کی تناظر میں تاریخی مادیت کو آشکار […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
فکری و نظریاتی مباحث: ایک تنقیدی جائزہ۔ حصہ سوم

فکری و نظریاتی مباحث: ایک تنقیدی جائزہ۔ حصہ سوم

مارکسزم کیوں صحیح ہے؟ مہرجان اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ سمجھنا لازمی ہے کہ مارکس کا بنیادی مقدمہ کیا ہے؟ مارکس جب سماج کو سائنسی نقظہ نظر سے دیکھتا ہے تو دراصل وہ کہہ کیا رہا ہے؟ اس سے اختلافات کی بنیادی وجوہات کیا ہیں جس پہ “فرینکفرٹ اسکول آف تھاٹ” سے تعلق رکھنے والے مفکرین سامنے […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
فکری و نظریاتی مباحث ایک تنقیدی جائزہ۔حصہ دوم

فکری و نظریاتی مباحث ایک تنقیدی جائزہ۔حصہ دوم

مہرجان سیاست کے میدان میں اب عینیت پسندی، مادیت پسندی ، علمی ذوق شوق سے بڑھ کر دومختلف نظریاتی کیمپ بن گئے ہیں اور دوسری طرف باقاعدہ عقلیت پسندی و تجربیت پسندی کی تحریکیں بھی برپا ہوئیں، اٹھارہویں صدی میں باقاعدہ مغرب کی یونیورسٹیز میں عینیت پسندی کی تحریکیں اس طرح چلیں جس طرح آج کل پوسٹ ماڈرن ازم کے […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
فکری و نظریاتی مباحث ایک تنقیدی جائزہ

فکری و نظریاتی مباحث ایک تنقیدی جائزہ

مہرجان The owl of Minerva spreads its wings only with the coming of the dusk. Hegel فلسفے کی دنیا میں فکری و نظریاتی مباحث کو بنیادی ا ہمیت حاصل ہے۔ خاص کر عملی میدان میں “فکر و نظریہ‘ عمل کا پیکر بنتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اس حوالے سے مختلف مفکرین نےافکار و نظریات کو زیر قرطاس لاکر طبع آزمائی کی […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
جنگ کی جدلیات۔پانچواں و آخری حصہ

جنگ کی جدلیات۔پانچواں و آخری حصہ

مہرجان جنگ کی جدلیات میں جنگ کے پیچھے “دماغ” کارگر ہوتا ہے ، جنگ ایک ایسے دماغ /قیادت کا متقاضی ہوتا ہے جو “سو قدم” آگے سوچنے کی بجائے“سو سال” آگے سوچنے کی بصیرت رکھتا ہو یہ اسی صورت ممکن ہے کہ حالات و واقعات کو جدلیاتی انداز (بنیادی تضاد) سے دیکھا جائے ، بنیادی تضاد اپنی زمین سے جڑا […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
جنگ کی جدلیات۔۔ حصہ چہارم

جنگ کی جدلیات۔۔ حصہ چہارم

مہرجان جس طرح جنگ، نظریہ اور فکر کی پاپند ہوتی ہے اسکی اپنی ایک جدلیات ہوتی ہے، اسی طرح جنگ “اصول و قانون” مضبوط ڈسپلن”اور “کمانڈ اسٹرکچر” کی بھی پاپند ہوتی ہے ، یہ سب کچھ جدلیاتی تناظر میں تاریخی مراحل سے گذر کر ، زمینی حقائق کے مطابق پنپتے رہتے ہیں نہ کہ باہر سے بقول ماؤ “ہو بہو […]

· 1 comment · علم و آگہی
جنگ کی جدلیات ۔ حصہ سوم

جنگ کی جدلیات ۔ حصہ سوم

مہرجان جنگ کو سماج کے اندر جدلیاتی انداز یعنی مجموعی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو جہاں ایک طرف ریاست امن کی فاختائیں اڑاتی ہے تو دوسری طرف ڈیتھ اسکواڈز کو تشکیل بھی دیتی ہے ، ایک طرف امن کانفرنسز ، یا امن کے نام پہ تھنک ٹینکس کا قیام عمل میں لاتی ہے تو دوسری طرف بندوق بردار […]

· 1 comment · علم و آگہی
جنگ کی جدلیات۔ حصہ دوم

جنگ کی جدلیات۔ حصہ دوم

مہرجان جب بات نو آبادیات کی ہو جسے مارکس نے معیشت سے زیادہ “سیاسی سوال” قرار دیا ہے تو نظریہ و جنگ کی جدلیات میں نظریہ کسی بھی بندوق بردار کو یہ امتیاز بخشتا ہے کہ اس میں اور عام بندوق بردار میں فرق ہے۔ اس کی بندوق ہمیشہ فکر و نظریہ کی پابند ہوتی ہے، جو محکوم کی محکومیت […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
جنگ کی جدلیات

جنگ کی جدلیات

یہاں بے اعتمادی کو خدا حافظ کہا جائے اور بزدلی کو دفن کیا جائے ، گوئٹے مہرجان مجادلہ (ٹکراؤ) وحدت پیدا کرتا ہے۔ جنگ عام اسی لیے ہے کہ “تشکیل وحدت” کے لیے جدل اور جہد مسلسل سے گزرنا لازم ہے ۔ یہی جدل و جہد “عدل” کی پہچان ہے یعنی بقول ہیراقلیطوس “مزاحمت انصاف ہے” ۔ جس سے تاریخ […]

· 1 comment · علم و آگہی
شناخت اقدار اور آزادی۔4

شناخت اقدار اور آزادی۔4

مہرجان بنیادی تضاد کی بنیاد پہ محکومیت کی”شناخت”جب بطور اجتماع کے ہو تو پھر انفرادی جہد کبھی بھی اس محکومیت کو ختم کرنے کے لیے کارگر ثابت نہیں ہوسکتی ، جس طرح ایک “اجتماع” کو محکوم رکھا گیا ہے اب “اجتماعی” جہد سے ہی اس محکومیت کا خاتمہ ممکن ہے ،اسی لیےاس اجتماعی جہد کے لیے ہر طبقے و ہرطبقہ […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
شناخت ،اقدار اور آزادی-3

شناخت ،اقدار اور آزادی-3

مہرجان اب اگر شناخت کو جدلیاتی تناظر میں مادی و نفسیاتی دنیاؤں سے جوڑ کر کلیت میں دیکھا جائے جو کہ جدلیات کا تقاضہ ہے، تو ذہن میں لامحالہ بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں کہ کیا انسان کی ایک شناخت ہے یا لاتعداد ؟ انسان کا ریشنل ہونا یقیناً اک بنیادی و حقیقی شناخت ہے ، لیکن انسان پھر […]

· 1 comment · علم و آگہی
کارل جونگ کے علمی تحفظات اور سیگمنڈ فرائڈ

کارل جونگ کے علمی تحفظات اور سیگمنڈ فرائڈ

پائندخان خروٹی علم نفسیات کی دنیا میں سب سے نمایاں نام سیگمنڈ فرائڈ کا ہے۔ فرائد کے ساتھ جن دو بڑی شخصیات کے نام آتے ہیں وہ کارل جونگ اور الفریڈ ایڈلر ہیں۔ کارل جونگ نہ صرف علم النفسیات کا معتبر نام ہے بلکہ سیگمنڈ فرائڈ کے ساتھ کئی برس کی قرابت، انٹرنیشنل سائیکواینالائٹکل سوسائٹی کی تشکیل اور بیرونی ممالک […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
شناخت ، اقدار اور آزادی۔2

شناخت ، اقدار اور آزادی۔2

مہرجان سیلف و ادر کی اس کشمکش (مزاحمت) کی وجہ سے نہ صرف ادارے اور ریاست جنم لے رہے ہیں ، بلکہ خود شعوری سے ایک سفر کا آغاز ہوتا ہے بقول ہیگل “ خود شعوری خود میں خود(سیلف) کے لیے وجود رکھتی ہے ، کیونکہ حقیقت میں یہ کسی اور کی خود شعوری (ادر) کے لیے وجود رکھتی ہے […]

· 1 comment · علم و آگہی
شناخت، اقدار اور آزادی

شناخت، اقدار اور آزادی

مہرجان آزادی کسی بھی فرد یا قوم کا بنیادی حق ہے ، کسی بھی فرد یا قوم کی آزادی اس کے وسائل کے ساتھ ساتھ شناخت سے بھی وابستہ ہے ۔اگر اس کی شناخت بطور محکوم ، یا غلام کی ہے تو اس شناخت کو کیونکر وہ اپنے آقا سے برابری کی بنیاد پہ لاسکتا ہے یا محکوم اپنی زندگی […]

· 1 comment · علم و آگہی
  مابعدجدیدیت کی بنیاد کیا ہے؟اور مابعد جدیدیت اور مذہب

  مابعدجدیدیت کی بنیاد کیا ہے؟اور مابعد جدیدیت اور مذہب

مظفر ممتاز Postmodernismمابعد جدیدیت کیا ہے؟ موضوع کوئی نیا نہیں ہے۔ میں نے اس پر بات کرنا اس لئے اہم سمجھا کہ اس تحریک کو مشرقی مفکر اپنے مخصوص معاشرتی ماحول کے حوالے سے دیکھتے ہیں اور مغربی مفکر اپنے اقدار کے مطابق اس پر بحث کرتے ہیں۔ بہت کچھ ان دو کے درمیان جو وسیع فکری خلیج ہے اس […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
فلسفہ میں وجود اور عدم کا معمہ

فلسفہ میں وجود اور عدم کا معمہ

تحریر وتحقیق: پائندخان خروٹی فلسفہ اور منطق پر متعدد کتابیں، مکالمے، مباحثے اور مقالے پڑھنے اور خود درجنوں آرٹیکلز لکھنے کے بعد بھی وجود (بی انگ) اور عدم (نھتنگ نیس )کے پیچیدہ موضوع نے مجھے ہونے اور نہ ہونے کے درمیان اُلجھا کر رکھ دیا۔ کاز اینڈ ایفیکٹ کے نظام کو آئیڈیلسٹ اور میٹریلیسٹ کے ” تسلیم شدہ اختتامیہ ” […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
محکوم کے لیے فلسفہ پڑھنا کیوں ضروری ہے؟

محکوم کے لیے فلسفہ پڑھنا کیوں ضروری ہے؟

میری خواہش ہے بلوچ نوجوان مارکس کو خود پڑھ کر اپنی تنقید سامنے لائیں۔بابا مری مہر جان فلسفہ کا نام سنتے ہی لوگ اسے انتہائی مشکل ،ناقابل فہم ، خشک اور ایک ایسا علم سمجھتے ہیں جس کا عوام کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ، یعنی اشرافیہ کے لیے اک مختص “ذہنی عیاشی کا علم” جس کا عام معاشرے […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟ حصہ15

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟ حصہ15

مہرجان میری نظر میں نو آبادیاتی معاشروں کے لیے فیڈریشن کی اصطلاح کو استعمال کرنا درست نہیں ہے ، یہاں تو رشتہ طاقتور اور کمزور ، آقا اور رعایا کا ہے “ بابا مری۔ فیڈریشن ایک سیاسی اصطلاح ہے جو معنی و مفہوم کی سطح پر بھی تغیر پذیر رہی ہے اور بطور سیاسی نظام بھی مختلف طرزوں کا حامل […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی
میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟۔حصہ 14

میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟۔حصہ 14

بلوچ قوم میں اسپرٹ ہے۔۔بابا مری مہرجان تاریخ فلسفہ میں اسپرٹ (روح) کو عمومی طور پر مذہبی اور اسطوریاتی (Religious & Mythological) پس منظر سے دیکھا گیا ، اس لیے بہت سے فلاسفر اسپرٹ کو مختلف معنی دیتے رہے ، کسی نے اسے مائنڈ ، کسی نے سائکی تو کسی نے اسے میٹا فزیکل کہا اور سب سے بنیادی بات […]

· Comments are Disabled · علم و آگہی