مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن

resized_india-pakistan-war-1971-4
میجر جنرل خادم حسین راجہ ( 1922-1999) مارچ 1971میں جی ۔ او ۔ سی ڈھاکہ تھے ۔ مشرقی پاکستان کس طرح بنگلہ دیش بنا اس کے وہ چشم دید گواہ تھے ۔ 26۔ مارچ 1971کو جو فوجی ایکشن ہوا ، اس کا منصوبہ ا ن کے بقول انھوں نے میجر جنرل راؤ فرمان علی کے اشتراک سے تیار کیا تھا ۔ ذیل میں ان کی کتاب’’ اے سٹرینجر ان مائی اون کنٹری‘‘ کے ایک باب کا ترجمہ ہم قارئین کے لئے شائع کر رہے ہیں ۔ جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت ہماری فوجی اشرافیہ کی سوچ کیا تھی۔ میجرجنرل راجہ نے اسے بڑی مہارت اور صاف گوئی سے بیان کیا ہے (ادارہ )۔۔

جنرل ٹکا خان ان ایکشن

میجر جنرل (ر)خادم حسین راجہ
ترجمہ : لیاقت علی ایڈووکیٹ

مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن کرنے کے فیصلے سے اتفاق نہ کرتے ہوئے جب ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل یعقوب علی خان نے مارچ 1971 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تو صدر جنرل یحییٰ خان نے ان کے متبادل کے طور پرلیفٹیننٹ جنرل ٹکا خان کو منتخب کیا تھا ۔ میدان جنگ میں متعدد کامیابیاں حاصل کرنے کی بنا پر جنرل ٹکا خان فوج میں خاصے مقبول تھے ۔ انھوں نے بلوچ قبائلیوں کے خلاف فوجی ایکشن کرکے انھیں ہتھیار ڈالنے یا ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا ۔ جب بھارتی افواج نے پاکستان کے علاقے رن آف کچھ میں دراندازی کرتے ہوئے کچھ علاقے پر قبضہ جما لیا تھا تو یہ جنرل ٹکا خان ہی تھے جنھوں نے سرعت سے کاروائی کی اورجارح بھارتی فوج کو شکست دے کر اسے پاکستان کی سر زمین سے نکال باہر کیا تھا ۔
بعد ازاں ستمبر 1965کی جنگ میں انتہائی نازک مرحلے پر انھوں نے سیالکوٹ سیکٹر میں پاک فوج کے دستوں کی کمان سنبھالی تھی ۔ بطور کمانڈر انھوں نے صورت حال کو سنبھالا اور دشمن پر جوابی حملہ کرتے ہوئے بہت سا پاکستانی علاقہ جس پر بھارتی فوج قابض تھی، اس سے واگذار کروالیا تھا ۔اس فوجی پس منظر کے حامل ٹکا خان کے بارے میں فوج میں عام تاثر یہ تھا کہ وہ ’ وہ کم الفاظ اور زیادہ ایکشن‘ پر یقین رکھنے والے فوجی افسر ہیں ۔ان کی بطو ر کمانڈر ایسٹرن کمانڈ تقرری صدر یحییٰ خان کی طرف سے مشرقی پاکستان کے عوام اور سیاسی قیادت کے لئے صلح یا دوستی کا پیغام نہ تھا ۔ یہ تقرری اس بات کا اشارہ تھی کہ صدر نے مشرقی پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی اور ترجیحات تبدیل کر لی تھیں۔ وہ مشرقی پاکستان میں ’ فاختاؤں ‘ کی بجائے ’عقابوں ‘پر انحصار کی پالیسی اپنا رہے تھے ۔
لیفٹیننٹ جنرل ٹکا خان 7مارچ 1971کو انتہائی خاموشی سے شام چار بجے میجر جنرل راؤ فرمان علی کی ہمراہی میں ڈھاکہ ایر پورٹ پر اترے ۔راؤ فرمان علی صدر یحییٰ سے ملا قات کی خاطراولپنڈی گئے تھے تاکہ موجود بحران میں سمجھوتے کی کوئی صورت نکل سکے لیکن ان کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔ میں اور جنرل یعقو ب علی خان ان کے استقبال کے لئے ائیر پورٹ پر موجود تھے ۔جب ہم جہاز سے دور کھڑی گاڑیوں کی طرف جانے لگے تو جنرل ٹکا خان نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ’ خادم ! تمہارا ڈویژن اس تمام عرصے میں یہاں کیا کرتا رہا ہے ‘؟۔’ یہاں تو صورت حال انتہائی مخدوش اور خراب ہے ‘۔میں نے جنرل ٹکا خان کے ان ریمارکس جو موجود صورت حال سے عدم واقفیت کے غماز اور کرختگی کا پہلو لئے ہوئے تھے، کا برا منایا تھا ۔ میں نے بھی سخت لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا ’ اب آپ یہاں آگئے ہیں ،بہت جلد آپ کو صورت حال کا پتہ چل جائے گا‘۔
نئے باس اور میرے ما بین یہ کوئی خوش گوار آغاز نہیں تھا ۔ائیر پورٹ سے روانہ ہونے سے قبل یہ طے ہوا کہ لیفٹیننٹ جنرل یعقوب علی خان 8 مارچ کی شام ڈھاکہ سے راولپنڈی کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔ میں نے وہاں(ائیر پورٹ پر) موجود سبھی احباب کو اپنی رہائش گا پر جنرل یعقوب علی خان کے اعزاز میں اگلے دن شام کو’ خاموش‘ الوداعی کھانے کی دعوت دی ۔جنرل ٹکاخان نے میری بات کاٹتے ہوئے سختی سے کہا کہ الوداعی دعوت آپ کی رہائش گاہ کی بجائے گورنر ہاؤ س میں ہوگی ۔میں نے شائستگی سے ان سے کہا کہ گورنر ہاؤس میں دعوت کا اہتمام کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہوگا ۔ لیکن جب میں نے دیکھا کہ وہ اپنی تجویز سے پیچھے ہٹنے کو تیا ر نہیں ہیں تو میں نے یہ کہہ کر اپنی دعوت واپس لے لی کہ آپ اپنے مجوزہ پروگرام پر بخوشی عمل در آمد کریں ۔ میر ے لئے اُ ن کا یہ پروگرام باعث مسرت ہوگا لیکن میری رہائش گا ہ پر ’ دال روٹی ‘ پھر بھی تیار ہوگی اور اگر وہ مناسب خیال کریں تو تشریف لا سکتے ہیں۔
اگلے دن جنرل ٹکا خان کو معلوم ہو ا کہ مشرقی پاکستان کے چیف جسٹس بی ۔اے صدیقی نے بغیر کسی لگی لپٹی کے انھیں گورنر کے عہدے کا حلف دلانے سے انکار کر دیاتھا ۔چیف جسٹس کا موقف تھا کہ مشرقی پاکستان میں تعینات ہم (مغربی پاکستانی فوجی افسران) تو محو پرواز پرندے تھے جب کہ نہ صرف انھیں بلکہ ان کی آئندہ نسل کو بھی اُسی سرزمین پررہنا تھا ۔ جنرل ٹکا خان کو یہ بھی معلوم ہوا کہ انھیں کمانڈ ہاؤس میں رہائش رکھنا ہوگی کیونکہ گورنر ہاؤس کا تمام اسٹاف اور ملازمین چھوڑ کر جاچکے تھے ۔ یہ کہنے کی ضرور ت نہیں کہ بالا خر ہم سب نے اُ سی ’دال روٹی ‘ پر گذارا کیا جس کی دعوت میں نے ابتدائی طور پر دی تھی ۔
جی ایچ کیو میں موجود بہت سے دیگر سنیئر افسروں کی طرح جنرل ٹکا خان بھی مشرقی پاکستان کے زمینی حقائق سے یا تو بے خبر تھے یا پھر ان کی معلومات بہت کم تھیں۔ انھوں نے اپنے فوجی کیرئیر میں کبھی بھی مشرقی پاکستان میں خدمات سر انجام نہیں دی تھیں ۔
یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ مشرقی پاکستان کے بارے میں ان کا علم انتہائی سطحی تھا۔ جنرل ٹکا خان جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے عہدے پر فائز رہے تھے ۔ انھوں نے اس حیثیت میں مشرقی پاکستان کے وقتاً فوقتاً جو دورے کئے تھے اور ان دوروں کے دوران انھیں فوجی اور سویلین افسر جو بریفنگ دیا کرتے تھے ،پاکستان کے اس صوبے کے بارے میں ان کی معلومات انہی تک محدود تھیں۔ یہ بات تو روز اول سے ہی واضح تھی کہ ہم جو اس وقت مشرقی پاکستان میں اعلی عہدوں پر فائز تھے ، کے بارے میں ان کا رویہ منفی تھا۔میں نہیں سمجھتا کہ انھیں اس امر کا ادراک تھا کہ اس دفعہ انھیں جو مشن سونپا گیا تھا وہ ناممکن تھا ۔ان کے پاس سیاسی مینڈیٹ نہیں تھا جب کہ مسئلے کی نوعیت بنیادی طور پر سیاسی تھی اور اس کا حل بھی فو جی نہیں سیاسی تھا ۔ یہ خام خیال تھا کہ اس سیاسی مسئلے کو فوجی طریقے سے حل کیا جاسکتا تھا ۔
بنگالی عوام اس مرتبہ اپنے ناقابل تنسیخ حقوق حاصل کرنے کے لئے پر عزم تھے ۔اور موجود صورت حال سے بخوبی واضح ہورہا تھا کہ اگر انھیں اُن کے یہ حقوق نہ دئیے گئے تو وہ آزادی سے کم کسی بات پر راضی نہ ہوں گے ۔ برسر اقتدار افراد کو متعدد مواقع ایسے ملے جنھیں استعمال کرتے ہوئے موجود دگرگوں سیاسی اور انتظامی صورت حال میں بہتری لا ئی جاسکتی تھی لیکن فیصلہ ساز قوتوں کا رحجان مذاکرات اور سمجھوتے کی بجائے طاقت کے استعمال کی طرف تھا ۔ طاقت کے استعمال کی اس اپروچ کا اختتام ناکامی پر ہونا طے تھا۔
جنرل ٹکا خان کے ماتحت دیگر افراد کے علاوہ دو اشخاص بہت اہم تھے ۔ ایک میں جو فوجی دستوں کا کمانڈر تھا دوسرے میجر جنرل راؤ فرمان علی جن کے ذمے سول انتطامی امور تھے ۔ بریگیڈئیر محمد حسین انصاری لاجسٹکس کے ذمہ دار تھے۔ جنگ میں مصروف فوجی دستوں کے لاجسٹکس کی دیکھ بھال ان کی ذمہ داری تھی ۔ہم چار وں کا تعلق فوج کی آرٹلری رجمنٹ سے تھا اور ہم ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ہمار ا آغا ز اتنا اچھا نہیں تھا جتنا کہ ہونا چاہیے تھا تاہم واقعات اتنی تیزی سے رونما ہورہے تھے کہ ہم وقت ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے ۔ ایک ہفتے کے اندر اندر ہم نے اپنے باہمی اختلافات پر قابو پا لیا تھا اور ہم چاروں ایک موثر اور باہم تعاون کرنے والی ٹیم میں ڈھل گئے تھے ۔ہمارے مابین اختلافات تو یقیناًموجود تھے لیکن ان کی نوعیت شخصی اور تعصب پر مبنی نہیں تھی بلکہ صورت حال کے دیانت دارانہ تجزیے پر مبنی ہوتی تھی ۔
ہم ان اختلافات کے مختلف پہلووں پر باقاعدگی سے ہونے والے اجلاسوں اور کانفرنسوں میں کھل کر بات چیت اور بحث و تمحیص کیا کرتے تھے ۔بلا شبہ آخری فیصلہ باس ہی کا ہوا کرتا تھا جسے ہم سب کھلے دل سے قبول کرتے تھے ۔ بعض اوقات ہم سمجھتے تھے کہ باس نے جو حل، حکمت عملی یا راہ عمل تجویز کی ہے وہ نامناسب اور قابل عمل نہیں لیکن اس کے باوجود ہم سر تسلیم خم کرتے تھے۔ ہمارے غیر مشروط باہمی تعاون کی بدولت ہمیں تیزی سے فوجی کامیاب میسر آئی لیکن مجھے یہ بیا ن کرتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ ہماری کامیابیوں کی نوعیت عارضی تھی اورحقیقی مسائل جن کی نوعیت سیاسی تھی، کو حل کرنے میں ہماری یہ فوجی پیش قدمی موثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی تھی اور یہ حل طلب سیاسی مسائل ہی تھے جن کی بدولت ہم بطور قوم تقسیم ہوگئے ۔
مارچ 1971کے ابتدائی دنوں میں مغربی پاکستان سے فوجی دستوں کی ہوائی جہازوں کے ذریعے ڈھاکہ آمد جاری تھی۔پی آئی اے کے بوئنگ طیارے فوجیوں کو مشرقی پاکستان پہنچارہے تھے۔بھارت نے پاکستانی طیاروں کو اپنی فصائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ میں نے اس امر کی پیشین گوئی کئی ماہ قبل کردی تھی اور فوج کے کمانڈر انچیف جنرل عبد الحمید خان کو بھی اس بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔ کوئٹہ میں میجر جنرل نذر حسین شاہ کی کمان میں موجود 9۔ڈویژن اور کھاریاں میں میجر جنرل شوکت رضا کی سربراہی میں 17۔ڈویژن کو ڈھاکہ بھجوایا جارہا تھا ۔ذرائع آمد و رفت کی ہماری صلاحیت محدود تھی ۔ مشرقی پاکستان کی یکطرفہ فلائیٹ آٹھ گھنٹوں پر محیط تھی چنانچہ مارچ کا پورا مہینہ اور اپریل کا کچھ حصہ فوجی دستوں کو ڈھاکہ پہنچانے میں لگ گیا تھا ۔مزید برآں جہازوں میں صرف سپاہی اور ہلکا فوجی اسلحہ ہی مشرقی پاکستان پہنچ سکا تھا ۔ دسمبر 1971 میں جب بھارت نے براہ راست مشرقی پاکستان پر حملہ کردیا تو بھاری اور مناسب مقدار میں جنگی سازو سامان کی عدم دستیابی نے ہمارے فوجی دستوں کی لڑاکا صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کیا تھا ۔
جب ٹکا خان کو مشرقی کمان کا سربراہ بنایا گیا تو آغاز میں صدر یحییٰ کی پالیسی یہ تھی کہ فوج حتی الامکان فوجی چھاؤنیوں تک محدود رہے گی اور کوئی ایسا قدام نہیں کیا جائے گا جس سے صورت حال خراب ہو اور عوام میں اشتعال پھیلے ۔سٹیٹ بنک، ریڈیو پاکستان اور ڈھاکہ ٹیلی ویژن کی عمارتوں کی حفاظت پر چھوٹے چھوٹے فوجی دستے تعینا ت کئے گئے تھے جب کہ باقی ماندہ فوج کو بیرکوں تک محدود کر دیا گیا تھا۔جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے سول انتظامیہ نے فوج کی مدد کرنے سے مکمل طور پر انکار کردیا تھا ۔ حتی کہ ملٹری انجئینرنگ سروس اور کنٹونمنٹ بورڈ کی انتظامیہ نے بھی کام کر نا بند کر دیا تھا ۔فوجی دستوں کو خشک راشن پر گذارہ کرنا پڑ رہا تھا جو کہ بہت ہی مشکل تھا۔ہر طرف مختلف النوع کی افواہوں کا زور تھا ۔
اس ساری صورت حال کا سب سے مایوس کن اور تکلف دہ پہلو یہ تھا کہ بنگالی فوجی دستوں میں بغاوت تیزی سے پھیل رہی تھی اور بڑے پیمانے پر بغاوت آس پاس منڈ لا رہی تھی ۔ خانہ جنگی کا خطرہ تھا کہ دروازے پر دستک دے رہا تھا لیکن ہم ہر صورت اس سے بچنا چاہتے تھے ۔چنانچہ اس صورت حال میں ، میں نے جلد از جلد زیادہ سے زیادہ سے فوجی چھاؤنیوں کے دورے کرنے کا فیصلہ کیا ۔ان دوروں کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کے دونوں بازوں سے تعلق رکھنے والوں فوجی جوانوں کے مابین اعتماد کی فضاپیدا کی جائے ۔چنانچہ اپنے اس منصوبے کے پہلے مرحلے پر میں نے ڈھاکہ کے نواح میں تعینات 2۔ایسٹ بنگال رجمنٹ کے سنٹر کا دورہ کیا ۔
اس رجمنٹ کے بارے میں خبر تھی کہ اس میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ میرے خدشات درست ثابت ہورہے تھے ۔ جونہی میرے ہیلی کاپٹر نے زمین کو چھوا تورجمنٹ سنٹر سے متصل بازار سے عوام کا ایک بڑا ہجو م وہاں جمع ہوگیا ۔قائم مقام کمانڈنگ آفیسر نے میرا استقبال کیا اور ہم آفیسرز میس میں اکٹھے ہوئے جہاں میں نے بٹالین کے افسروں سے خطاب کیا ۔تیزی سے پھیلتی ہوئی افواہوں کا توڑ کرنے اوربنگالی فوجی افسروں اور جوانوں کے ذہنوں میں جنم لینے والے خدشات اور وسوسوں کو دور کرنے کے لئے میں نے موجود صورت حال کے مختلف پہلووں کی وضاحت کی ۔بعد ازاں میں نے فوجی دستوں کا معائنہ کیا جو ماضی کے ایک ہندو راجہ کے محل کے سامنے واقع کھلی گراؤ نڈ میں انفرادی ٹریننگ میں مصروف تھے ۔جب میں اپنی ٹیم کے ساتھ پریڈ گراؤنڈ میں فوجی دستوں کا معائنہ کر رہا تھا اُ س دوران گراؤنڈ کے کناروں پر لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم جمع ہو چکا تھا جو مسلسل تضحیک آمیز اشارے بازی میں مصروف تھا ۔میں نے یہ تاثر دینے کو کوشش کی کہ میں اُن کی موجودگی سے بے خبر ہوں کیونکہ صورت حال کا یہی تقاضا تھا ۔ لوگوں کا ہجوم گراؤنڈ کے کناروں پر کھڑا رہا لیکن فوجی دستوں نے انھیں وہاں سے بھگانے کی قطعاً کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ رجمنٹ سنٹر کا دورہ اور فوجی دستوں کا معائنہ کرنے بعد میں ڈھاکہ لوٹ آیا۔ا یسٹ بنگال رجمنٹ سنٹر کے ا س دورے سے میں اس بات کا مزید قائل ہوگیا کہ بنگالی فوجی بغاوت کے دھانے پر کھڑے اور ہم بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔
میں نے صوبے کی دیگر فوجی چھاؤنیوں کے طوفانی دوروں کا پروگرام بنایا ۔ اپنے اس پروگرام کے تحت میں نے جیسور، کومیلا ،چٹاگانگ، سلہٹ اور رنگ پور کی فوجی چھاؤنیوں کے دورے کئے اور وہاں فوجی افسروں اور جوانوں سے خطاب کیا ۔میر ا خیال ہے کہ ان دوروں کی بدولت میں جزوی طور پراُن (بنگالی افسروں اور جوانوں ) کے خدشات اور پریشانیوں کو دور کرنے میں کامیاب ہوا تھا ۔ یہ ان دوروں ہی کا نتیجہ تھا کہ میری کمان میں کوئی دراڑ اُس وقت تک نہ آئی جب تک خود ہم نے پہل کرتے ہوئے ٹریگر نہیں دبا یا تھا ۔25مارچ سے قبل حکم عدولی اور بغاوت کے واقعات نہ ہونے کے برابر تھے لیکن ہیجان اور پریشانی ہر چہرے سے ہویدا تھی ۔بنگالی فوجیوں میں بھگوڑا ہونے کے متعدد واقعات ہوئے بالخصوص سگنل بٹالین سے تعلق ر کھنے والے ایک صوبے دار اور اُس کے اردلی کا واقعہ بہت مشہور ہوا تھا ۔
جنرل ٹکا خان کو ڈھاکہ آئے ہوئے ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ صدر یحییٰ خان 15 مارچ کو بنفس نفیس ڈھاکہ آپہنچے ۔ صدر کے وفد میں ان کے مشیروں اور کچھ دیگر افراد کے علاوہ بری فوج کے سربراہ جنرل عبدالحمید خان بھی شامل تھے۔صدر جس شام ڈھاکہ پہنچے اُسی شام انھوں نے کانفرنس بلائی تھی ۔میں اس کانفرنس میں موجود تھا اور میں نے مشرقی پاکستان کی موجود صورت حال اور اس کی مختلف جہتوں کے بارے میں شر کاء کوتفصیلی بریفینگ دی تھی ۔کانفرنس میں شریک زیادہ تر لوگوں نے بحث و تمحیص میں حصہ نہیں لیا تھا گو کہ چند ایک حضرات کی طرف سے کچھ تبصرے ہوئے اور کچھ نے مختلف امور کے بارے میں تجاویز دی تھیں۔
میرے بعد ائیر کموڈور مسعود آئے جو مشرقی پاکستان میں ائیر فورس کے چیف تھے ، انھوں نے پر زور انداز میں فوجی ایکشن کو بطور حل تجویز کرنے والوں کی مخالفت کی تھی ۔ ان کا موقف تھا کہ فوجی ایکشن کوئی حل نہیں تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان میں بہاری مہاجروں اور مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود ہے اور فوجی ایکشن کے نتیجے میں ان کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہو جائیں گی۔ ان لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری صدر پاکستان پر عائد ہوتی تھی ۔ائیر کموڈور مسعو دکی گفتگو کا لب وہ لہجہ جوش و جذبہ سے بھرپور اور جذبات سے معمور تھا ۔ان کی تقریر کے دوران کانفرنس میں مکمل خاموشی چھائی رہی ۔ بالآ خر صدر نے مداخلت کی اور کہا کہ وہ تمام تر صورت حال کا مکمل ادراک رکھتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے انھوں نے عجلت میں کانفرنس ختم کردی ۔
اس واقعہ کے چند دنوں بعد ائیر کموڈور مسعود کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا دیا گیا اور ان کی جگہ ائیر کموڈور ( بعد ازاں ائیر مارشل ) انعام الحق کو مشرقی پاکستان بھیج دیا گیاتھا ۔واپس مغربی پاکستان آنے کے چند ہفتوں بعد ائیر کموڈور مسعود کو قبل از وقت ریٹائر کر دیا گیا تھا ۔ایک بے مثال ہوا باز کے شاندار کیر ئیر کا یہ افسوس ناک انجام تھا ۔ ائیر کموڈور مسعود نہ صرف پاکستان ائیر فورس کے حلقوں میں مقبول تھے بلکہ ہم جیسے افراد بھی جنھوں نے ان کے ساتھ کام کیا تھا ، ان کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کے مداح تھے ۔
سولہ مارچ کو صدر نے شیخ مجیب سے مذاکرات کا آغاز کیا ۔ شیخ مجیب کی معاونت عوامی لیگ کے اقتصادی اور آئینی ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم کر رہی تھی۔ جیسا کہ ایسے مو قعوں پر ہوتا ہے ،ان مذاکرات کے حوالے سے اگلے دن کے اخبارات میں جو بیان شائع ہوا وہ توقع کے عین مطابق گول مول سا تھا ۔ اسی دن سہ پہر کو میں جنرل ٹکا خان سے ملا اور ان سے جاری مذاکرات کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے انتہائی سادگی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اتنا ہی جانتے ہیں جتنا اخبارا ت میں چھپ چکا تھا ۔ان کے جواب سے میں حیران ہوا اور میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ ایوان صدر جائیں اور نہ صرف جاری مذاکرات بلکہ دیگر امور کے بارے میں بھی خود کو باخبر رکھیں ۔
میں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ صورت حال سے نبٹنے کے لئے ہمارے پاس کوئی ہنگامی پلان نہیں ہے ۔ میں نے اُن سے کہا کہ ہنگامی صورت حال میں فوجی دستوں تک پیغام رسانی اور ایک مربوط فوجی ایکشن کے لئے مجھے اچھا خاصا وقت چاہیے ہوگا کیونکہ ہمارے فوجی دستے کسی ایک شہر یا علاقے میں نہیں بلکہ پورے صوبے میں پھیلے ہوئے ہیں۔میں نے انھیں یہ بھی بتایا کہ جنرل یعقوب علی خان اور ایڈمرل احسن نے مجھے فردا فردا بتایا تھا کہ صدر یحییٰ خان مشرقی پاکستان کی صورت حال کے بارے میں ان سے ہم مشورہ ہونے کی بجائے اپنے مشیروں پر زیادہ انحصار کرتے تھے ۔ یہ عجیب و غریب صورت حال تھی کہ صدر مشرقی پاکستان میں موجود اپنے اعلی ترین عہدیداروں کی بجائے اپنی کچن کیبنٹ کے ارکان کے مشوروں پر زیادہ اعتماد کرتے تھے ۔
سترہ مارچ کو رات تقریبا دس بجے مجھے لیفٹیننٹ جنرل ٹکا خان نے ٹیلی فون کیا اور کہا کہ میں میجر جنرل راؤ فرمان علی کو ہمراہ لے کر ان سے ملاقات کے لئے کمانڈ ہاؤس آؤں۔چند روز قبل فرمان اور ان کی اہلیہ گورنر ہاؤس چھوڑ چکے تھے اور ان دنوں ہمارے ساتھ چھاؤنی میں رہ رہے تھے ۔ہم دونوں جب ایسٹرن کمان کے ہیڈ کوارٹر پہنچے تو دیکھا کہ جنرل عبدا لحمید خان بھی وہاں موجود تھے ۔جنرل ٹکا خان نے مطلع کیا کہ شیخ مجیب کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے ،لہذا صدر چاہتے ہیں کہ ہم دونوں فوجی ایکشن کے لئے تیاری اور منصوبہ بندی کریں۔مزید زبانی یاتحریری ہدایات اس ضمن میں ہمیں نہیں دی گئی تھیں۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ ہم دونوں مل کر فوجی ایکشن کی منصوبہ بندی کریں اور 18 مارچ کی شام اپنے تیارکردہ پلان کے مختلف پہلووں کے بارے میں فوج کے اعلی ترین عہدیداروں ۔۔ کمانڈر انچیف جنرل عبدا لحمید خان اور سپریم کمانڈر جنرل یحییٰ خان سے صلاح مشورہ کریں ۔
اٹھارہ مارچ کی صبح میں اور فرمان میرے دفتر میں مجوزہ فوجی ایکشن کی منصوبہ بندی کے لئے اکٹھے ہوئے ۔میں نے اس بات کا اہتمام کر لیا تھا کہ ہماری دفتر میں موجودگی کے دوران میری بیوی میرے بنگالی اے ڈی سی کو کسی نہ کسی طریقے سے مصروف اور دفتر سے دور رکھے گی۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ فرمان کی صبح سے ہی میرے دفتر میں موجودگی کی بنا پر اس کے دل میں شکو ک و شبہات پیدا ہوں کیونکہ فرمان اور میرا اس طرح اکٹھے ہونا کوئی معمول کاواقعہ نہیں تھا بلکہ موجود صورت حال کی سنگین نوعیت کے پس منظر میںیہ ایک غیر معمولی بات تھی ۔وقت چونکہ بہت کم تھا اس لئے ہم نے فوجی ایکشن کی موٹی موٹی تفصیلات طے کرنے پر ہی اکتفا کیا تھا۔ پھر ہم دونوں نے منصوبے کے حوالے سے اپنے اپنے علیحدہ نوٹس لکھے ۔
پلان کے مطابق ڈھاکہ چھاؤنی سے جو اقدامات کئے جانے تھے ان کی قیادت اور نگرانی فرمان کی ذمہ تھی جب کہ باقی سارے صوبے میں فوجی ایکشن کی کمان میرے فرائض میں شامل تھی۔ چنانچہ پلان کا ابتدائیہ فرمان نے لکھا جس میں انھوں نے ڈھاکہ میں فوجی ایکشن کس طرح ہوگا اس کی تفصیل بیان کی تھی۔میں نے پلان کے مطابق مقامی کمانڈروں اور فوجی دستوں کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کردیا تھا۔ 18مارچ کی شام طے شدہ پروگرام کے مطابق ہم ایسٹرن کمان ہیڈ کوارٹر میں دوبارہ اکٹھے ہوئے ۔ اس شام ہونے والے اجلاس میں ، میں نے ابتدائیہ اور فوجی ایکشن کی دیگر تفصیلات شرکاء کو بتائیں۔ہمارے تیار کردہ پلان کو اجلاس کے شرکاء نے بغیر کسی بحث و تمحیص کے منظور کر لیا ۔
اکیس مارچ کو بھٹو اپنے مشیروں اور پارٹی ساتھیوں کے ہمراہ ڈھاکہ پہنچے ۔ہمیں ان کی آمد کی خبر صرف ایک دن قبل ملی تھی ۔مارشل لاء سٹاف ۔۔۔ بریگیڈئیر ( بعد ازاں لیفٹیننٹ جنرل )غلام جیلانی خان اور چند دوسرے افسربھٹو اور ان کے وفد میں شامل افراد کی سکیورٹی اور ان کی رہائش کے امور کو دیکھ رہے تھے ۔ انھوں نے اس حوالے سے صدر یحییٰ خان کے پرنسپل اسٹاف آفیسر لیفٹیننٹ جنرل پیرزادہ سے رہنمائی چاہی تو موصوف نے کہا کہ بھٹو اور ان کے وفد میں شامل افراد سیاست دان ہیں لہذا وہ کسی سرکاری پروٹوکول کے حقدار نہیں ہیں اور ڈھاکہ آمد اور قیام کے دوران اپنے جملہ انتظامات انھیں خود ہی کر نا چاہئیں۔ بھٹو اور ان کے وفد کو اس طرح بے یارو مدد گار چھوڑنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ڈھاکہ اُ س وقت شدید غصے اور احتجاجی سیاست کی گرفت میں تھا اور ایسی صورت حال میں اگر بھٹو کو قتل کر دیا جاتا تو اس کے نتیجے میں مغربی پاکستان میں آگ لگ جاتی ۔
یہ سب کچھ ذہن میں رکھتے ہوئے ہم نے بھٹو کے استقبال اورانھیں اور ان کے وفد کو ہوٹل انٹر کانٹینیٹل میں ٹھہرانے کا بند وبست کیا تھا ۔بھٹو ڈھاکہ میں جتنے روز قیام پذیر رہے ان کی سکیورٹی کی ذمہ داری ہم نے نبھائی۔بھٹو کی سکیورٹی کی ذمہ داری بریگیڈئیر جہانزیب ارباب کو سونپی گئی تھی جو ان دنوں ڈھاکہ گیریژن کے کمانڈر تھے ۔ تمام ضروری اقدامات اس ضمن میں انھوں نے ہی کئے تھے ۔ بعد ازاں بھٹو جب بر سر اقتدار آئے تو انھوں نے ارباب کے اس احسان کا بدلہ انھیں لیفٹیننٹ جنرل کا عہدہ اور اپنے آبائی صوبے کا کو ر کمانڈر بنا کر اتارا تھا۔یہ بات قارئین کے لئے دل چسپی کا باعث ہوں گی کہ شیخ مجیب جو ان دنوں مشرقی پاکستان کا ڈی فیکٹو حکمران تھا ، نے بھی بھٹو کا استقبال کرنے اور میزبان بننے کی پیش کش کی تھی ۔ بھٹو کی حفاظت اس صورت میں عوامی لیگ کے رضاکاروں نے کرنی تھی ۔ تا ہم ہم یہ سمجھتے تھے کہ شیخ مجیب کے مجوزہ انتظامات فول پروف نہیں تھے اس لئے کسی قسم کا رسک لینے کی ضرورت نہیں تھی۔
ڈھاکہ پہنچنے پر بھٹو اور ان کے وفد کے ارکان کو ایک مضبوط فوجی دستے کی حفاظت میں ہوٹل پہنچایا گیا تھا ۔ہوٹل میں فوجی دستے تعینات کئے گئے تھے ۔ جس روٹ سے بھٹو اور ان کے وفد نے گذرنا تھا اس پر بھی فوجی دستوں کو متعین کیا گیا تھا بالخصوص فارم گیٹ پر جو فسادی ہجوم اور غنڈہ عناصر کے اجتماعا ت کے لئے خاصا بدنام تھا ۔چنانچہ یہ تھے وہ حالات جن میں بھٹو ڈھاکہ پہنچے ، وہاں ہونے والے مذاکرات میں حصہ لیا ،اپنا کردار ادا کیا اور پھر بحفاظت واپس مغربی پاکستان پہنچے تھے ۔
قارئین کی توجہ اس حقیقت کی جانب مبذول کرائی جاتی ہے کہ ملک کے دو اہم ترین سیاسی رہنما، صدر مملکت اور مسلح افواج کے سربراہ ایک ہی چھت کے نیچے بے سود مذاکرات میں مصروف تھے۔ دو نوں سیاسی رہنماؤں کا مختلف امور پر موقف انتہاپسند ی پر مبنی تھا اور ان کے مابین سمجھوتے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے ۔بظاہر صدر نے بھی آئندہ کے سیاسی انتظام میں خود کے لئے کردار حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا ۔ جاری مذاکرات کی رفتار اور فریقین کے نکتہ ہائے نظر میں موجود بعد اور تفاوت کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ ناکامی ان مذاکرات کا مقدر بن چکی تھی ۔ ہم جیسے افراد کے لئے جو ان واقعات سے قریبی طور پر وابستہ تھے یہ صورت حال بہت ما یوس کن تھی ۔
ان سنگین حالات میں ایک شخص نے جسے میری ذات پر بہت زیادہ اعتماد تھا انتہائی راز داری میں مجھ سے رابطہ کیا تھا۔اُ س شخص جس کا نام میں نہیں لینا چاہتا، نے تجویز دی تھی کہ اُن دنوں ڈھاکہ میں جمع فوجی اور سیاسی قیادت کو ہم حراست میں لے کر ملک کا انتظام و انصرام سنبھال لیں۔ملک اور عوام کو دیانت دار اور مخلص قیادت کی ضرورت ہے اور ہم یہ قیادت فراہم کر سکتے ہیں ۔ جس سنجیدگی سے مجھے یہ تجویز دی گئی تھی میں نے اسی سنجیدگی سے اُ س کے بارے میں غور و فکر کا وعدہ کیا تھا ۔میں نے پوری رات اس تجویز اور اس کے مضمرات پر غور کیا تھا ۔ میں نے کسی دوسرے شخص حتی کہ اپنی بیوی سے بھی اس تجویز بارے کوئی بات نہیں کی تھی ۔جب میں اگلی صبح دفتر جانے کے تیار ہوا تو میں اس تجویز بارے اپنا فیصلہ کر چکا تھا ۔ میں نے اس تجویز کو مستر د کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ میں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں اپنے فرائض ادا کرتا رہوں گا۔
اب جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے خوشی ہوتی ہے کہ میں نے اپنا ذہنی تواز ن بر قرار ر کھا ور لالچ کا شکار نہیں ہوا تھا ، میں نے اُ س تجویز کو مسترد کر دیا تھا ۔میں نے وہ فیصلہ اس لئے نہیں تھا کہ مجھ میں بہادری اور جرات کی کمی تھی۔میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں ایک حد تک میری زندگی کا دارو مدار مقدر پررہا ہے ۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اونچے عہدے اور مقام کے حصول کی خواہش نے مجھے کبھی بے چین نہیں کیا ۔ میری ہمیشہ یہی دعا رہی ہے کہ میری فیملی خوش و خرم رہے اور میں ایمانداری سے ایک نفیس زندگی گذاروں ۔
میجر راؤ فرمان علی اور میں نے مشترکہ طور پر فوجی آپریشن کا جونیا منصوبہ بنایا تھا اُ س کا نام ’ آپریشن سرچ لائٹ‘ رکھا گیا تھا ۔ یہ نام کیوں رکھا گیا تھا اس کی کوئی خاص وجہ اور اہمیت نہیں تھی ۔ہم اپنے منصوبے کے ساتھ تیار تھے اور اس انتظارمیں تھے کہ ہمیں احکامات ملیں اور ہم اس پر عمل درآمد شروع کر دیں۔ اس مرحلے پر اہم مسئلہ یہ تھا کہ سکیورٹی انتظامات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ’آپریشن سرچ لائٹ ‘ پر عمل در آمد کے احکامات جونیئر کمانڈرز تک کیسے پہنچائے جائیں ۔ اس حوالے سے بہت سی مشکلات درپیش تھیں۔ہمارے پاس چونکہ وقت بہت کم تھا اور صدر، شیخ مجیب اور بھٹو کے مابین جاری مذاکرات بھی کچھوے کی چال چل رہے تھے ، اس دور ان ہماری کوشش یہ تھی کہ پورے صوبے میں متعلقہ حلقے ہر لحاظ سے تیار ہوں اور جونہی انھیں احکامات ملیں وہ بغیر کسی تاخیر کے اپنی کاروائیاں شروع کر دیں۔
یہ فیصلہ ہوا تھا کہ میں کومیلا اور چٹا گانگ جا کر بالترتیب بریگیڈیر اقبال شفیع اور لیفٹیننٹ کرنل فاطمی جو 20 بلوچ رجمنٹ کی کمان کر رہے تھے ،کو ’آپریشن سر چ لائٹ‘ پر عمل در آمد کرنے کے احکامات پہنچاؤں گا۔ یہ بھی طے ہوا تھا کہ میں چٹاگانگ میں موجود ایسٹ بنگال رجمنٹل سنٹر کے سیکنڈ ان کمانڈ کرنل شگری اور چٹا گانگ ہی میں متعین کرنل جنجوعہ جو 8۔ایسٹ بنگال کے کمانڈر تھے ،کو ا س آپریشن کے بارے میں کم از کم معلومات فراہم کروں گا ۔معاملات اُس وقت تھوڑے خراب ہوئے جب میجر جنرل افتخار جنجوعہ جو اس وقت جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ماسٹر جنرل آف آردیننس کے عہدے پر فائز تھے ،نے تین سٹاف آفیسرز کے ہمراہ چٹاگانگ جانے کے لئے مجھ سے لفٹ لینے کا فیصلہ کیا تھا ۔
وہ ’آپریشن سر چ لائٹ‘ کے بارے میں نہیں جانتے تھے کیونکہ طے یہ ہوا تھا کہ ا س آپریشن کے بارے میں صرف انھی افراد کو معلومات فراہم کی جائیں گی جنھیں ان کی ضرورت ہے ۔ بریگیڈئیر انصاری جو کمانڈر لاجسٹکس تھے، بھی اس سفر میں ہمارے ساتھ تھے ۔ بریگیڈئیر انصاری کا میرے ساتھ جانا اس لئے ضروری تھا تاکہ وہ چٹاگانگ کی بند گاہ پر کھڑے بحری جہاز ’ایم۔وی ۔سوات پر موجود سامان کو فوجی دستوں کی مدد سے اتروائیں۔ ایم وی سوات مغربی پاکستان سے سات ہزار ٹن اسلحہ بارود لے کر آیا تھا اور چٹاگانگ بندر گاہ پر ٹھہرا ہوا تھا ۔ یہ معمول کی سپلائی تھی جو مشرقی پاکستان میں موجود فوج کے لئے تین ماہ تک کے لئے بطورریزرو کافی تھی ۔
جب قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہوا تو مشرقی پاکستان میں شکوک و شبہات میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا تھا ۔ اس ہیجان اور احتجاج سے بھرپور صورت حال میں عوامی لیگ نے گودی مزدوروں سے اپیل کی کہ وہ مغربی پاکستان سے آنے والے بحری جہازوں کو ان لوڈ نہ کریں کیونکہ ان میں اسلحہ لایا جائے گاجو عوام کے خلاف استعمال ہوگا ۔ چنانچہ گودی مزدوروں نے عوامی لیگ کی اس اپیل کا فوری جواب مکمل ہڑتال کر کے دیا تھا ۔ گودی مزدوروں کی ہڑتال کے باعث ایم وی سوات گذشتہ کئی ہفتوں سے چٹاگانگ بندر گاہ پر کھڑا تھا اور اس کو ان لوڈ نہیں کیا جاسکا تھا ۔
چٹاگانگ روانہ ہونے سے قبل میں نے ایسٹ بنگال رجمنٹل سنٹر کے کمانڈنٹ ایم ۔آر مجمدار کے بارے میں بھی تفصیلی بحت مباحثہ کیا تھا ۔ بریگیڈئیر مجمدار اس وقت مشرقی پاکستان میں سنئیر ترین بنگالی فوجی افسر تھے ۔ صوبے کے بنگالی فوجی افسر بالخصوص یونٹ کمانڈرز رہنمائی کے لئے ان کی طرف دیکھتے تھے ۔بریگیڈئیر بنگالی فوجی افسروں کی خواہشوں ، امنگوں اور فوجی نقل و حرکت اور کاروائیوں کے حوالے سے مرکزی حیثیت اختیار کرچکے تھے ۔چٹاگانگ ہمارا کمزور محاذ تھا ۔ یہ سمندر میں ایک اہم ترین مقام پر واقع تھا اور اس کی اہمیت اس وقت تو اور بھی بڑھ چکی تھی جب بھارت نے پاکستانی ہوائی جہازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی لگادی تھی ۔
چٹاگانگ ایک بڑی فوجی چھاؤنی تھی لیکن یہاں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے جو فوجی دستے متعین تھے ان کا تعلق صرف بلوچ رجمنٹ ہی سے تھا اور یہ رجمنٹ آپریشن کے آغاز سے پہلے ہی مغربی پاکستان روانہ ہورہی تھی ۔ میرے خیال میں سات آفیسرز اور دو سو فوجی جوان بحران شروع ہونے سے پہلے ہی ایڈوانس پارٹی کے طور پر مغربی پاکستان جاچکے تھے ۔ یہ کٹی پھٹی بلوچ رجمنٹ چٹاگانگ چھاؤنی کی حفاظت اور بندر گاہ کو فنکشنل رکھنے کے حوالے سے ناکافی تھی ۔اس صورت حال میں ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ میں واپس ڈھاکہ جاتے ہوئے کسی بہانے بر یگیڈئیر مجمدار کو بھی اپنے ہمراہ لیتا جاؤں گا ۔
اس مشکل اور انتہائی پیچیدہ مشن کے ساتھ میں کومیلا کی طرف روانہ ہوا ۔میں نے بر یگیڈئیر انصاری کو ہدایت کی کہ وہ ہمارے ہمراہ آنے والے میجر جنرل افتخار جنجوعہ او ر ان کی ٹیم کے ارکان کو چٹاگانگ چھاؤنی میں اسلحہ ڈپو اور دیگر فوجی تنصیبات کے معائنے کے لئے لے جائیں ۔ میں نے لیفٹیننٹ کرنل محمد یعقوب جو 53فیلڈ رجمنٹ کی کمان کر رہے تھے ،کو پیغام بھیجا کہ وہ بریگیڈئیر اقبال شفیع کی ہمراہی میں میری بریفنگ میں شریک ہوں ۔میں نے انتہائی کامیابی سے انھیں مجوزہ منصوے کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی ۔منصوبے کے مطابق بر یگیڈئیر شفیع کو اپنے بریگیڈ کے ایک مضبوط فوجی دستے کی کمان کرتے ہوئے چٹاگانگ کا کنٹر ول حاصل کرنا تھا ۔
لیفٹیننٹ کرنل یعقوب ملک کو اپنی رجمنٹ اور کچھ دوسرے مغربی پاکستانی فوجیوں کے اشتراک سے کومیلا شہر اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کا کنٹرول حاصل کرناتھا۔
کومیلا میں جو بریفنگ میں نے دی تھی اس سے میں معقول حد تک مطمئن تھا ۔یہاں سے فارغ ہو کر اپنے ساتھی مسافروں کے ساتھ چٹاگانگ روانہ ہوگیا ۔چٹاگانگ پہنچنے پر میں نے بریگیڈئیر مجمدار سے کہا کہ وہ بر یگیڈئیر انصاری کے ساتھ جاکر چٹاگانگ بند ر گا ہ پر کئی دنوں سے کھڑے بحری جہاز ایم ۔ وی سوات کو ان لوڈ کرانے کے انتظامات کرے ۔میں نے بر یگیڈئیر مجمدار سے یہ بھی کہا کہ ڈھاکہ کے نواح میں واقع جو دیب پور میں تعینات -2 ایسٹ بنگال رجمنٹ کے دستوں میں مناسب کمانڈر کی عدم موجودگی کے باعث بے چینی اور عدم اطمینان پایا جاتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ ڈھاکہ چلے اور رجمنٹ کے افسروں اور جوانوں سے ’پاپا ٹائیگر ‘ کے طور پر بات کرے اور ان کے شکوک و شبہا ت دور کرے ۔ میری اس گفتگو سے اسے اپنی اہمیت اور مقام کا احساس ہوا اور پھر بر یگیڈئیر مجمدار کے حوالے سے کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا تھا ۔ ڈھاکہ پہنچ کر ہم نے انھیں حفاظتی تحویل میں لے لیا اور بعد ازاں مغربی پاکستان منتقل کر دیا جہاں وہ جنگی قیدیوں کے تبادلے تک مقیم رہے ۔
چٹاگانگ میں ہوئی بریفنگ خاصی پیچیدہ تھی ۔ یہاں 20 –بلو چ رجمنٹ کے لیفٹیننٹ کرنل فاطمی کو مکمل طور پر بریف کرنا ضروری تھا کیونکہ ان کی زیر کمان مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے فوجی دستوں نے مجوزہ فوجی ایکشن میں حصہ لینا تھا ۔ایسٹ بنگال رجمنٹ کے کرنل شگری اور لیفٹیننٹ کرنل جنجوعہ بنگالی فوجی دستوں کی کمان کرنے کے حوالے سے بے بس ہو چکے تھے ۔ تاہم یہ بات قابل اطمینان تھی کہ وہ اپنے مغربی پاکستانی ساتھیوں اور ان کے کنبوں کی حفاظت کرنے کی حد تک پر عزم تھے ۔ میں گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے کرنل فاطمی کے ہاں جا پہنچا اور اسے فوجی ایکشن کے بارے میں مکمل بریفنگ دی اور جہاں تک کرنل شگری کا تعلق تھا تو ان کے ساتھ میں محض چند لمحے ہی گذار سکا ۔
کرنل شگری کوئی بہت تیز طرار اور ہوشیار فوجی افسر نہیں تھے ۔ دوران گفتگو میں نے جو ریمارکس دیئے ان سے وہ کسی حد تک پریشان ہوگئے تھے ۔ میرے ریمارکس کی اہمیت ان پر چند دن بعد اس وقت واضح ہوئی جب بر یگیڈئیر اقبال شفیع اپنے فوجی دستوں کے ساتھ چٹاگانگ پہنچے اور وہاں کا کنٹرول سنبھال لیا ۔کرنل شگری اپنی حفاظت کرنے میں تو کامیاب رہے تھے لیکن کرنل جنجوعہ اتنے خوش قسمت نہیں تھے ۔ ان کے سیکنڈ ان کمانڈمیجر (بنگلہ دیش کے قیام کے بعد جنرل اور صدر مملکت ) ضیا ء الرحمن نے بٹالین کے دیگر دو فوجی افسروں کے ساتھ انھیں بھی موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔
جہاں تک صوبے کے دوسرے شہروں اور چھاؤنیوں کا تعلق تھا وہاں تک پیغام رسانی کوئی مشکل کام نہیں تھا ۔ جب میں کومیلا کے لئے روانہ ہوا تھا تو فرمان جیسور چلے گئے تھے جہاں انھوں نے بریگیڈئیر درانی کو جو 107 –بریگیڈ کی کمان کررہے تھے فوجی ایکشن کے بارے میں احکامات اور منصوبے کی تفصیلا ت پہنچادی تھیں۔اگلے دن مجھے رنگ پور اور راجشاہی کے لئے روانہ ہونا تھا جب کہ فرمان کی منزل سلہٹ تھی۔لیکن جنرل ٹکا خان نے کسی ممکنہ ہنگامی صورت حال سے نبٹنے کے لئے ہم دونوں کو ڈھاکہ ہی میں روک لیا ۔ میری بجائے کرنل سعد اللہ خان کورنگ پور اور راجشاہی بجھوادیا گیا ۔کرنل سعد اللہ خان نے اپنا مشن جاری رکھتے ہوئے 27۔پنجاب رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل شفقت بلوچ کو راجشاہی ڈراپ کیا ۔ بر یگیڈئیر علی الادروس سلہٹ گئے اور وہاں انھوں لیفٹیننٹ کرنل سرفراز ملک کو جو 32 پنجاب رجمنٹ کی کمان کررہے تھے فوجی ایکشن سے متعلق تفصیلات اور حکمت عملی سے آگا ہ کیا ۔
آپریشن سرچ لائٹ‘ کے بارے میں باقاعدہ تحریر ی احکاما ت نہیں دیئے گئے تھے ۔ اس آپریشن پر زبانی احکامات کی روشنی ہی میں عمل درآمد کیا گیا تھا ۔ تاہم میرے پاس ایک کاپی تحریری احکامات کی موجود ہے جو میں نے اس کتاب کے آخر میں بطور ضمیمہ شامل کردی ہے ۔تحریر ی احکاما ت بھی صرف گائڈ لائن کی حد تک تھے بہت سی تفصیلات اور جزئیات فیلڈ کمانڈرز کی صوابدید اور پہل کاری پر چھوڑی دی گئی تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جیسور سیکٹر کے راجشاہی اور چوڈنگا کے علاقوں میں ہمیں شدید ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔فیلڈ کمانڈرز یہ باور کرنے میں ناکام رہے تھے کہ وہ سرکشی کی صورت حال سے نبرد آزما ہیں۔ بظاہر ان کے اذہان میں یہ تصور راسخ تھا کہ وہ ’ سول حکومت‘ کی مدد کر رہے ہیں جیسا کہ وہ ایک دو سالوں سے کر رہے تھے اور وہ اس کے عادی بھی تھے ۔ درپیش صورت حال ماضی سے قطعی طور پر مختلف تھی اس کا انھیں بالکل ادراک نہیں تھا ۔ اگرچہ ان کے اس رویے کی بدولت بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں لیکن ذمہ دار افسر محض قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر بری الذمہ ہوگئے ۔

One Comment