ذوالفقار علی بھٹو اور ادھورا انقلاب

بیرسٹر حمید باشانی

bhu


جنوری 1969میں جب حضرت مولانا مودودی کفر و شرک کے گھڑ مغرب سے اپنا کامیاب علاج کرا کر لوٹے تو سوشلزم کے خلاف ان لہجے میں بہت زیادہ تلخی اور سختی ا گئی۔سوشلزم کے خلاف برستے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سوشلزم یہاں کے سچے مسلمانوں کی لاشوں پر ہی آ سکتا ہے۔ مارچ میں ان کاغصہ آسمان کو چھو رہا تھا۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو حکم دیا کہ وہ گلی محلے میں پھیل جائیں اور جو کوئی سوشلزم کا نام لے اس کی زبان کاٹ دیں۔

سرمایہ داری اور سوشلزم کی طویل تاریخی لڑائی میں شائد ہی کسی سیاسی لیڈر یا مذہبی پیشوا نے سوشلزم کے خلاف اتنا سخت حکم دیا ہو۔مولانا کی فریسٹریشن بجا تھی۔انہیں سوشلزم کی آواز ہر گلی محلے میں سنائی دے رہی تھی۔یہ آواز ذولفقار علی بھٹو اور اس کی پیپلز پارٹی کی تھی۔ان دنوں ذولفقار علی بھٹو سوشلزم کے حق میں بے تکان بولتے تھے۔ہر جلسے و جلوس میں وہ سوشلزم کا نام لیتے اور اسے پاکستان کے تمام مسائل کا واحد حل قرار دیتے۔

وہ پر ہجوم جلسوں میں دل پر ہاتھ رکھ کر کہتے کہ میں سچا اور پکا سوشلسٹ ہوں۔میں اپنا مراعات یافتہ طبقہ چھوڑ کر پاکستان کے مزدور، کسان اور دانشور کے طبقے میں شامل ہو گیا ہوں اور میری جہدو جہد کا مقصد و محور پاکستان میں سوشلسٹ انقلاب ہے۔بھٹو صاحب کی اس توانا آواز سے کئی طبقات اور گروہ لرز اٹھے۔ان میں سر فہرست پاکستان کے جاگیر دار ، وڈیرے اور سردار تھے۔یہ وہ لوگ تھے جو لاکھوں ہاریوں، کاشت کاروں اور کھیت مزدوروں کے لہو پر زندہ تھے۔انہوں نے اپنی جاگیروں کی خاطر کانگرس سے طویل لڑائی لڑی تھی اور بر صغیر میں خون کی ہو لی کا موجب بنے تھے۔

اس کے بعد فوجی جنتا تھی جس کو اقتدار اور لوٹ کھسوٹ کا چسکا پڑ چکا تھا۔اور پھر رجعت پسند مذہبی قوتیں تھیں جو جانے انجانے میں سوشلزم اور سرمایہ داری کے درمیان لڑائی میں عالمی سامراج کے فٹ سولجر کا کردار اپنا چکی تھی۔قیام پاکستان کے فوراً بعد اورقائد اعظم کی زندگی میں ہی یہ لوگ پاکستان پر قبضہ کر چکے تھے۔ساٹھ کی دھائی تک یہ لوگ اپنے خلاف موجود ہر مزاحمت کو کچل چکے تھے۔آغاز انہوں نے پاکستان کی روشن خیال اور ترقی پسند قوتوں سے کیا تھا۔کمیونسٹ پارٹی پر پابندی کے بعد یہ طلبہ اور مزدور تنظیموں کو کچل چکے تھے۔انجمن ترقی پسند مصنفین جیسی ادبی تنظیم تک کو خلاف قانون قرار دیا جا چکا تھا۔حسن ناصر کو تشدد کر کے شہید کیا گیا۔

سندھ، بلوچستان اور پختون خواہ میں قوم پرست اور ترقی پسند رہنما اکثر پابند سلاسل رہتے۔یہ سارے اقدامات کرنے کے بعد ملاں، ملٹری اور جاگیرداری کا یہ اتحاد یہ باور کر چکا تھا کہ اب پاکستان میں کسی ترقی پسند یا جمہوری قوت کا خطرہ ہمیشہ کے لیے مٹ چکا ہے۔یہ عالمی سامراجی آقاوں کو بھی یہ بات باور کرا چکے تھے اور اپنی ان خدمات کا پورا پورا معاوضہ وصول کر چکے تھے۔ایسے میں ذوالفقار علی بھٹو کا اچانک سیاسی افق پر نمودار ہونا اور پاکستان پیپلز پارٹی جیسی ترقی پسند اور سوشلسٹ پارٹی کا تقریبا راتوں رات ایک عظیم عوامی قوت بن کر ابھرنا ان لوگوں کے لیے ایک صدمہ انگیز واقعہ تھا۔چنانچہ ان کے اوسان خطا ہو گئے یہ ایسے بیانات دینا شروع ہو گئے جو ہوش و ہواس میں نہیں دئیے جاتے۔

سن1947سے لیکر1965تک ان لوگوں نے جو سلوک اس ملک کے ساتھ کیا تھا وہ نا قابل یقین تھا۔وہ اس ملک کی روح نکال کر اسے ایک مردار میں تبدیل کر چکے تھے اور اب سب مل کر اسے گدھوں کی طرح نوچ رہے تھے۔عوام ان کی لوٹ اور استحصال سے تنگ آ چکے تھے۔ملک میں ایسے حالات پیدا ہو چکے تھے کے کسی وقت بھی انقلاب پھوٹ سکتا تھا۔ذولفقار علی بھٹو جیسا دانشمند شخص اس صورت حال کا اندازہ کر چکا تھا۔چنانچہ اس نے ٹھیک وقت پر ایک درست فیصلہ کیا اور ایک ترقی پسند سوشلسٹ پارٹی کے قیام کا علان کر دیا۔

اس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو ایک سکے بند سوشلسٹ جے۔اے۔ رحیم کے ساتھ ملکر 1966 میں پیرس میں ایک ڈاکومنٹ تیار کر چکے تھے۔یہ دستاویز تیس نومبر1967ڈاکٹر مبشر کے گھر پارٹی کی بنیادی دستاویز قرار دی گئی۔پارٹی کی اس بنیادی دستاویز میں یہ الفاظ درج تھے کہ پارٹی کا بنیادی مقصد ایک غیر طبقاتی سماج کا قیام ہے اور ہمارے دور میں یہ صرف سوشلزم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔اس طرح پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک بائیں بازو کی سوشلسٹ پارٹی کے طور پر اپنی سیاست کا آغاز کیا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے نظام کو اس کی جڑوں تک ہلا کر رکھ دیا، مگر وہ اسے تبدیل کرنے میں نا کام رہے۔یہ نابغہ روزگار شخص اپنی بے پنا ہ ذہانت کے باوجود یہ بات نظر انداز کر گیا کہ انقلاب شروع کرنے کے بعد ادھورا نہیں چھوڑا جا سکتا اور استحصالی طبقات کے ساتھ سمجھوتے کی گنجائش نہیں ہوتی ۔چنانچہ پارٹی بتدریج اپنے طبقاتی کردار سے ہٹ کر ایک کثیر الطبقاتی پارٹی بن گئی اور اس کی قیادت روایتی رجعتی سیاست کاروں اور وڈیروں کے ہاتھوں میں چلی گئی۔

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کے اس محاذ پر بھٹوصاحب نے کئی نظریاتی اور عملی غلطیاں کیں، لیکن ان غلطیوں کا احساس انہیں جیل میں ہو چکا تھا۔وقت اگر انہیں مہلت دیتا تو وہ یقیناً تلافی کرتے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی موت پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست اور عوام کے لیے ایک ایک نا قابل تصور دھچکا اور نا قابل تلافی تقصان تھا۔ان کے بعد سیاست مکمل طور پر رجعت پسند قوتوں کے ہاتھ میں چلی گی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان قوتوں کی سیاست پر گرفت بڑھ رہی ہے جو کہ ترقی پسند اور روشن خیال قوتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

One Comment