فوج نے سینکڑوں شیعہ مسلمانوں کو دانستہ قتل کیا‘

0,,18941958_303,00

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام لگایا ہے کہ نائجیریا میں ملکی فوج نے ساڑھے تین سو سے زائد مقامی شیعہ مسلمانوںکو فائرنگ کرکے عمداً قتل کیا اور بعد ازاں انہیں اجتماعی قبروں میں دفنا دیا گیا۔

لاگوس سے جمعہ بائیس اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اس واقعے میں نائجیریا کی فوج نے نہ صرف 350 سے زائد شیعہ شہریوں کو قتل کرنے کے لیے باقاعدہ ارادے کے تحت پہلے انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس کے بعد ان کی لاشیں اجتماعی قبروں میں دفنا دی گئیں اور اس جرم کے شواہد ضائع کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔

اے ایف پی کے مطابق ایمنسٹی نے کہا ہے کہ یہ اجتماعی قتل گزشتہ برس دسمبر میں کیا گیا۔ ساتھ ہی اس بین الاقوامی تنظیم نے نائجیریا کی فوج کے ان دعووں کو بھی رد کر دیا ہے کہ گزشتہ دسمبر میں ہونے والی خونریز جھڑپوں سے قبل مقامی شیعہ مسلمانوں نے ملکی فوج کے سربراہ کو ہلاک کرنا چاہا تھا۔

اس بارے میں فوج کا دعویٰ یہ رہا ہے کہ دسمبر 2015ء میں نائجیریا میں اسلامک موومنٹ آف نائجیریا سے تعلق رکھنے والے جن شیعہ مظاہرین نے احتجاج کرنا شروع کر دیا تھا، وہ خونریز جھڑپیں شروع ہو جانے سے قبل دراصل ملکی فوج کے سربراہ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔

ایمنسٹی کے اس موقف کے برعکس نائجیریا کی فوج کا پہلے کی طرح اب بھی یہی موقف ہے کہ اس کی طرف سے پرتشدد مظاہرین پر فائرنگ کا فیصلہ درست تھا۔ ریاستی فوج پر الزام ہے کہ وہ سنی مسلمانوں کی عسکریت پسند تنظیم بوکو حرام کے جہادیوں کے خلاف اپنی مسلح کارروائیوں میں بار بار عام شہریوں کے ساتھ زیادتیوں اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوتی ہے۔

اس موضوع پر مفصل چھان بین کے بعد جاری کردہ ایمنسٹی کی رپورٹ کے بارے میں نائجیریا کی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ربّے ابوبکر نے کہا کہ یہ رپورٹ ’غیر منصفانہ‘ ہے اور اس کی اشاعت سے قبل فوج سے اس کے موقف کے بارے میں کوئی مشورہ نہیں لیا گیا۔

وزارت دفاع کے ترجمان نے جمعے کے روز اے ایف پی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اگر ان (ایمنسٹی) کے پاس کوئی ٹھوس شواہد موجود ہیں تو انہیں یہ ثبوت پیش کرنے چاہییں تاکہ ہر کوئی انہیں دیکھ سکے۔ ہم قانون کا احترام کرنے والے شہریوں سے کوئی تصادم نہ کر سکتے ہیں اور نہ کرتے ہیں۔‘‘ بریگیڈیئر جنرل ابوبکر نے کہا، ’’ہمارا جس کسی سے بھی تصادم ہوا، وہ عناصر لازمی طور پر مجرم اور ریاست کے دشمن رہے ہوں گے۔‘‘

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ نائجیریا کی فوج جن سینکڑوں شیعہ مسلمانوں کے دانستہ قتل کی مرتکب ہوئی، انہیں ان پرتشدد کارروائیوں کے دو دنوں کے دوران ہلاک کیا گیا تھا، جو 21 دسمبر 2015ء کو شروع ہوئی تھیں۔ تب آئی ایم این نامی اسلامی تحریک کے ایران نواز شیعہ مذہبی رہنما ابراہیم زکزکی کے بے شمار کارکن ایک مذہبی تقریب میں شریک تھے اور انہوں نے ملکی فوج کے سربراہ کے قافلے کو وہاں سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق اس تنظیم کی طرف سے جو چھان بین کی گئی، اس سے پتہ چلا کہ فوج اس موقع پر ’نہتے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ‘ کر کے ’غیر قانونی اقدام‘ کی مرتکب ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، ’’یہ واضح نہیں کہ فوج نے محض امن عامہ سے متعلق ایک صورت حال کے ردعمل میں ایک باقاعدہ فوجی آپریشن کیوں شروع کیا؟‘‘

انسانی حقوق کی اس بین الاقوامی تنظیم نے یہ بھی کہا ہے کہ ملکی فوج نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں دیے کہ آئی ایم این کے مظاہرین نے آرمی چیف کو قتل کرنے کی کوئی کوشش کی یا وہ ایسا کرنا چاہتے تھے۔

نائجیریا میں زاریا کے خطے سے متعلق یہ خوف ابھی بھی پایا جاتا ہے کہ اگر ملکی فوج نے وہاں مقامی شیعہ برادری کے خلاف کوئی آپریشن شروع کیا، تو اسی طرح کی بدامنی جنم لے سکتی ہے، جس طرح کی بدامنی کی وجہ بوکو حرام نامی شدت پسند گروہ بنا ہے۔ بوکو حرام کی طرف سے مسلح بغاوت 2009ء سے اب تک 20 ہزار انسانوں کی جان لے چکی ہے۔

ایمنسٹی نے اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ نائجیریا کی فوج نے گزشتہ دسمبر میں اپنی کارروائیوں کے دوران ’لوگوں کو زندہ جلا دیا، عمارتیں منہدم کر دیں، اور ہلاک شدگان کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفنا کر اپنی ان کارروائیوں کے ثبوت منظم طریقے سے تباہ کرنے کی کوشش بھی کی‘۔

DW

Comments are closed.