کلدیپ نیئر: صحافت کی ادھوری گنگا

طارق احمد مرزا

کلدیپ نیئربھی برصغیر سے رخصت ہوگئے ۔ ان کی کل دنیایہ برصغیر ہی تو تھا،اس لئے جب یہ کہاجائے کہ وہ بر صغیر سے رخصت ہو گئے توسمجھ لیناچاہئے کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ان کا اوڑھنا برصغیر تو ان کا بچھونا برصغیر تھا،ان کا سوچنابرصغیرتوان کا لکھنا برصغیر تھا۔ ان کا پڑھنا برصغیرتو ان کا بولنابرصغیرتھا۔ ان کاصدمہ برصغیر اور ان کاقہقہ بھی برصغیر ہی تھا۔ان کی نیند،ان کی جاگ،ان کااحساس،ان کا شعور،ان کا مان ان کی سہار،غرض ان کی ساری زندگی ان کے سارے وجود ،سارے کپڑوں سمیت برصغیر کے سواکچھ بھی تو نہ تھی۔

کلدیپ جی ازلی وابدی صحافی تھے۔جتنی قدیم گنگا ہے ، کلدیپ جی کی صحافت بھی اتنے ہی قدیم تھی۔اس فرق کے ساتھ ان کی صحافت کی گنگا تقسیم برصغیرکے ساتھ دوحصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ ایک حصہ توان کے وطن مالوف سیالکوٹ اور اس سے ملحقہ اس سارے علاقے میں ،جسے اب پاکستان کہتے ہیں،اچانک ایسے کہیں غائب ہو گیا تھا جیسے بلوچستان میں ندیوں کا بہتا پانی اچانک کسی کاریزمیں جاکر غائب ہو جاتا ہے۔پچانوے سالہ ادھورے کلدیپ جی اپنی صحافت کی بقیہ ادھوری گنگابھارت سے ہی بہاتے رہے۔یارلوگ یہ طعنے بھی دیتے تھے کہ کلدیپ جی تو بس جب دیکھو الٹی گنگابہاتے رہتے ہیں،حالانکہ ایساہرگز نہیں تھا۔ جب گنگا کا ایک حصہ اپنے بقیہ (اور گمشدہ)حصے کی تلاش میں سرگرداں ہوگا تو وہ الٹی سمت بہتا ہی تو دکھائی دے گا۔ 

کلدیپ جی نے جوآنکھوں دیکھا اورجو کانوں سنا،وہی لکھا۔ان کے سچ کو بھی لوگوں نے جھوٹ سمجھا۔قراردادلاہوروالے جلسے میں آپ عین سٹیج کے سامنے اورقریب بیٹھے ہوئے تھے۔آپ کے مطابق قرارداد کے ا لفاط میں مسلمانوں کے لئے برصغیر کے شمال مشرق اور شمال مغرب میں دوممالک (States)کے قیام کا ذکرکیا گیاتھانہ کہ ایک ملک(state) کا۔قائداعظم محمدعلی جناح نے بعد میں وضاحت کی کہ یہ ٹائپسٹ کی غلطی تھی۔’’سٹیٹس ‘‘نہیں’’ سٹیٹ ‘‘ لکھنا تھا۔بنگلہ دیش بنا تو کلدیپ جی نے کہا کہ دیکھا ’’اصلی‘‘قراردادلاہورپہ اب عملدرآمد ہواہے۔یعنی برصغیر میں مسلمانوں کے دوملک بن گئے ہیں۔انہوں نے ایک موقعہ پر اس کا ذکر وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹوسے کیا تو انہوں نے ہنس کرکہا کہ وہ اسی لئے اپنے اسٹینوکا ٹائپ کردہ ہر مسودہ غور سے پڑھتے ہیں۔ 
https://www.outlookindia.com/magazine/story/the-pakistan-resolution/201977

کلدیپ جی اس بات پہ بھی کلپتے تھے کہ 1947 میں برطانوی سامراج سے آزادی کی حقیقی خوشی پارٹیشن نے خاک میں ملادی۔ہندوؤں کے لئے یوم آزادی یومِ تقسیم بن کر رہ گیا۔جب کہ مسلمانجب ’’لے کے رہیں گے آزادی‘‘کا نعرہ لگاتے تھے تو اس کا مطلب گوروں سے نہیں بلکہ ہندوؤں سے آزادی لینا مرادہوتا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ لفظ’’پارٹیشن‘‘ زیادہ ترہندوستان میں استعمال کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں اس کے بالمقابل ’’یوم آزادی‘‘ کی اصطلاح زیادہ استعمال ہوتی ہے۔گویا ہندوپارٹیشن کے غم میں مبتلا چلا آرہا ہے اور پاکستانی مسلمان آزادی کی خوشی میں سرشاردکھائی دیتاہے۔

کلدیپ نئیر نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان مل کربرصغیر کے آخری وائسرائے لارڈماؤنٹ بیٹن پر نسل کشی(ہولوکاسٹ) کا مقدمہ دائر کریں۔ان کے مطابق لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم ہندوستان کے لئے بالکل بھی تیاری نہیں کی تھی اور مجوزہ بارڈراور اس سے ملحقہ علاقوں پر سیکیورٹی کا انتہائی ناقص اور ناکافی انتظام کیا تھا۔ان کی اس مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ایک ملین مقامی افرادقتل ہوئے۔ یہ ہولوکاسٹ نہیں تو اور کیا ہے۔افسوس کہ کلدیپ جی کی اس درخواست کونہ تو ہندوستان نے اور نہ ہی پاکستان نے درخوراعتناء سمجھا۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ لارڈمونٹ بیٹن کی اس مبینہ مجرمانہ غفلت کا بدلہ قدرت نے خود ہی یو ں لے لیا کہ بم کے ایک حملے میں ان کے جسم کے حصے تقسیم در تقسیم ہوکرہوامیں اڑتے ہوئے دوردور جاکرگرے۔

کلدیپ نیئر محض صحافی نہ تھے،ایک دانشور،محقق،تاریخ دان،پارلیمنٹیرین،سٹیٹ مین،ڈپلومیٹ،مصنف اور ایکٹیوسٹ بھی تھے۔ آپ کا معمول تھا کہ جب تک صحت نے اجازت دی سالہاسال 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب ایک روشن شمع ہاتھ میں تھامے واہگہ بارڈرپرپہنچاکرتے تھے۔

کشمیریوں کے ساتھ اظہار ہمدردی ویک جہتی کرنے کے’’جرم‘‘ میں انہیں پاکستان اور آئی ایس آئی کا ایجنٹ بھی قراردیا گیا تھا۔شاید اس وجہ سے بھی کہ وہ 14 اگست کو پیدا ہوئے تھے ۔گوکہ یہ سنہ 1923 کا 14 اگست تھالیکن پولیس والوں کو اس سے کیا۔سنہ جو بھی ہو تاریخ تو 14 اگست ہی تھی نا۔ اگر وہ آج سے نو دن قبل 14 اگست 2018 کو انتقال کرجاتے تو ان پر لگایا گیایہ الزام سچا ثابت ہوجاتا۔

آج کلدیپ جی ہم میں نہیں ۔وہ برصغیر کوچھوڑ کر نجانے کہاں چلے گئے ہیں ۔لگتا ہے ا پنی ادھوری گنگاکے دوسرے حصے کوڈھونڈتے ڈھونڈتے خود بھی کسی کاریز کے اندر اترکر ہمیشہ کے لئے غائب ہو گئے ہیں۔ 

Comments are closed.