آئی ایس پی آر کے فیس بک اکاونٹس ڈیلیٹ کر دیئے گئے

فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ  ایسے 103 پیجز، گروپس اور اکاؤنٹس کو فیس بک سے ڈیلیٹ کر دیا گیا  ہے جن کا تعلق پاکستان کی فوج کے شعبہء تعلقات عامہ سے تھا۔

فیس بک نے کہا ہے کہ  انہوں نے ایسے فیس بک اور انسٹاگرام کے اکاؤنٹس کو ختم کر دیا ہے جو پاکستانی سیاست، سیاسی رہنماؤں، بھارتی حکومت اور  پاکستانی فوج کے بارے میں معلومات پھیلاتے ہیں۔

فیس بک کے سکیورٹی کے سربراہ ناتھانیئل گلائیشر نے ایک بیان میں کہا ہے،’’ آج ہم نے ایسے 103 پیجز، گروپس اور اکاؤنٹس کو ختم کر دیا ہے جو ایک ایسے نیٹ ورک کا حصہ تھے جو پاکستان سے چلایا جا رہا تھا۔‘‘ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر چہ اس ساری سرگرمی میں ملوث افراد نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی تھی، ہماری تحقیقات سے یہ پتا چلا ہے کہ ان اکاؤنٹس کا تعلق پاکستان کی فوج کے شعبہء تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر سے تھا‘‘۔

اس معاملے پر روئٹرز نے آئی ایس پی آر سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ فیس بک  کا  یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسے دنیا بھر سے  اس کے پلیٹ فارم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کے الزمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ فیس بک کے مطابق 24 پیجز، 57 اکاؤنٹس اور 7 گروپس کے کل 2.8 ملین فولوورز تھے۔ اس کے علاہ انسٹاگرام سے 15 اکاؤنٹس کو بھی ڈیلیٹ کیا گیا ہے۔

پاکستان میں ایسے سماجی کارکنان اور صحافیوں کو کڑی سنسر شپ کا سامنا ہے جو پاکستانی فوج یا  پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔  ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کی سائبر کرائمز برانچ نے چھ صحافیوں اور کچھ سیاسی جماعتوں کے خلاف انکوائریز کی سفارش کی ہے۔

ایف آئی اے کے ایک داخلی لیکن خفیہ خط میں، جو اس ایجنسی کے متعلقہ افسران کو حال ہی میں لکھا گیا، چھ صحافیوں کے ناموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں مرتضیٰ سولنگی، مطیع اللہ جان، اعزاز سید، عمار مسعود اور ہالینڈ میں مقیم پاکستانی احمد وقاص گورایہ بھی شامل ہیں۔ اسی خط میں مجلس وحدت المسلمین، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، حزب التحریر پاکستان اور تعمیرِ وطن پارٹی پر الزام لگایا گیا ہے کہ ان تنظیموں اور جماعتوں کے ارکان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے گزشتہ دورہ پاکستان کے خلاف انتہائی متحرک پائے گئے تھے۔

اس خط میں کہا گیا ہے کہ ان سب کے خلاف انکوائریز درج کرائی جائیں اور پیش رفت رپورٹ ایف آئی اے کے ایک افسر ایاز خان کو جمع کرائی جائے۔ بڑھتی سنسر شپ کے باعث بہت سے صحافی  یو ٹیوب اکاؤنٹس کا سہارا لے رہے ہیں کہ وہ گفتگو جو وہ ٹی وی چینلز پر نہیں کر سکتے وہ گفتگو وہ اپنے یو ٹیوب چینلز پر کر سکیں۔ واضح رہے کہ آئی ایس پی آر کے ترجمان  اکثر عوامی بیانات میں کہہ چکے ہیں کہ ’ففتھ جنریشن وارفیئر‘ معلومات کی جنگ ہے۔

دوسری جانب فیس بک نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے ایسے 687 پیجز کو ڈیلیٹ کر دیا ہے جن کا تعلق بھارت کی سیاسی جماعت کانگریس سے تھا۔ فیس بک کے مطابق یہ اکاؤنٹس مربوط طریقے سے اقنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غیر مستند اور غیر متصدقہ رویوں کے حامل ہیں۔

DW

Comments are closed.