چھترپتی شیواجی:اورنگ زیب سے بہتر حکمراں تھے

چچا ارشد مدنی کے بعد ان کے بھتیجے محمود مدنی نے بھی اس بات کی حمایت کی ہے کہ آر ایس ایس سے بات چیت ہونی چاہئے۔


بھارتی نیوز ویب سائٹ، نیوز 18، کو دیے گئے انٹرویو میں جمعیۃ علما ء ہند (م) کے جنرل سکریٹری محمود مدنی نے اپنے چچا کی موہن بھاگوت سے ہوئی ملاقات کا استقبال کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ سماج کے دونوں طبقوں میں لگاتار بات چیت ہونی چاہئے اور اس میں کوئی برائی نہیں۔

محمود مدنی نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’اگر مجھے حکمراں کی شکل میں اورنگ زیب اور چھترپتی شیواجی کو نمبر دینے ہوں تو میں اورنگ زیب کو دس میں سے آٹھ نمبر دوں گا جب کہ پر چھترپتی شیواجی کو دس میں دس نمبر دوں گا، اور ایسا اس لئے کیونکہ چھترپتی شیواجی نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا‘‘۔

مولانا محمود مدنی نے نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے مسلمانوں کے ماحول کے تعلق سے بھی باتیں کیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ملک میں امن کا ماحول رہے گا تو مسلمان اپنی محنت کے دم پر آگے بڑھنے کے اہل ہیں اور ان کی ترقی کے لئے ملک میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کے بجائے ہمیں حال پر توجہ دینی ہو گی کیونکہ جب حالات تبدیل ہوتے ہیں تو سوچ بھی تبدیل ہوتی ہے۔

محمود مدنی نے اس گفتگو میں کہا کہ سَنگھ نے بڑا دل دکھانے میں بہت دیر کر دی، پھر بھی یہ سنہرا موقع ہے اور سبھی کو باہمی بات چیت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے، اور بات چیت کے راستے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئے۔

محمود مدنی نے کہا کہ موہن بھاگوت کا یہ بیان کہ مسلمانوں کے بغیر ہندوتوا ادھورا ہے، کافی حوصلہ افزا ہے اور یہ کہہ کر انہوں نے کئی قدم آگے برھا دیے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ لگاتار بات چیت ہوتی رہنی چاہئے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر انہیں آر ایس ایس سے بات چیت کرنے سے کوئی پرہیز نہیں ہے۔

قومی آواز۔ نئی دہلی

https://www.newsx.com/national/mahmood-madani-aurangzeb-bad-muslim.html

Comments are closed.