مولانا صاحب۔ خُوگر شکوہ سے تھوڑاسا مدح بھی سن لے

محمد حسین ہنرمل

کالم کے آغاز میں سب سے پہلے روح ِاقبال سے معذرت خواں ہوںکیونکہ ان کی شہرہ آفاق نظم کے جس مصرعے کو میں نے مضمون کا عنوان چنا ہے،اس میں چند الفاظ کی ترمیم کی جسارت کی ہے۔بات مولانا فضل الرحمن اور ان کے آزادی مارچ کے حوالے سے کرنا چاہ رہا ہوں۔میں اپنے مضامین میں بسا اوقات مولانا صاحب کی سیاست کاکئی وجوہات کی بنا پر ناقد رہا ہوں۔لیکن آج ان کے حالیہ مارچ اور ان کے کچھ اوصاف کابھی اعتراف کرناچاہتاہوں۔

یہ سطور لکھتے وقت مولانا صاحب کی قیادت میں کراچی سے نکلنے والا آزادی مارچ لاہور پہنچنے کے بعد اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کررہا ہے۔ اسلام آباد پہنچتے ہی خیبرپختونخوا سے جے یو آئی( کے پی) بشمول اے این پی اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کے قافلے بھی مارچ کا حصہ بنیں گے۔عمران خان حکومت کے خلاف میدان میں نکل کر مولانا صاحب نے بہت سے سیاسی حریفوں کی باتوں کے علاوہ بے شماردانشورکے تجزیوں کوبھی غلط ثابت کردیا دیا۔

لوگ سمجھتے تھے کہ مولانا نے اپنے سیاسی کیریئر کے ماہ وسال کے دوران ہر وقت کچھ لو کچھ دواورمصلحت کی پالیسی پر گامزن رہے ہیں یوں وہ کبھی بھی حکومت کے خلاف نکلنے کا نہیں لے سکتے۔بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ اس مولانا کے ساتھ دینی مدرسوں کے چندہزار طلباء کے علاوہ اور ہے کیا کہ وہ حکومت وقت کوللکاررہے ہیں۔لیکن اب یہ بات ثابت ہوگئی کہ فراخ دل اور مرنجان مرنج مولانا مشتعل ہوکر خاصا بڑارسک لے سکتے ہیں ۔ پچیس جولائی 2018کے عام انتخابات کے جوں ہی نتائج سامنے آئے ،اسی دن سے مولانا اس کو کسی صورت تسلیم نہ کرنے پر ڈٹ گئے۔ میاں نواز شریف جیسے اسٹبلشمٹ اور عمران حکومت کے زیرعتاب لیڈر بھی انہیں مشورہ دیتے رہے کہ کہ حکومت کوگرانے کی ذمہ داری اپنے سر لینے کے بجائے اس کوخوداپنی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے گرنے دیں۔

مجھے یاد ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے افطار ڈنر کے موقع پر شاہد خاقان نے کہاتھا کہ ہمارا آج کا ہدف حکومت گرانا نہیں ہے کیونکہ حکومت پہلے سے ہی گری ہوئی ہے۔ پیپلزپارٹی کا بھی شروع میں یہی موقف تھا کہ حکومت اگرچہ سلیکٹڈ ہے تاہم اس کواپنی مدت پوری کرنے دیں۔اسی طرح پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی جیسے جمہوریت حامی سیاستدان بھی موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے کے موڈ میں نہیں تھے ۔ عوامی نیشنل پارٹی ہویا قومی وطن پارٹی بھی پی ٹی آئی حکومت کے شدیدمایوس اوراسے اپنے لیے خطرہ سمجھتی تھیں لیکن اس کے خلاف نکلنے کا رسک نہیں لے سکتی تھیں۔واحد سیاستدان مولانا فضل الرحمن تھے جنہوں نے بہر صورت اس حکومت کے خلاف نکلنے اورگھر بھیجنے پر اصرار کررہے تھے۔

مولاناصاحب اگرحکومت سے بغاوت کی بنیادی وجوہات ختم نبوت کو خطرات ، شدیدمہنگائی ، ڈانواڈول ملکی معیشت اور کشمیر کاز جیسے مسائل بتارہے تھے اوردلیل دیتے تھے کہ نااہل لوگوں کو اقتدار سونپنے کی وجہ سے ملک ایسے گہرے سمندر میں جاگرا ہے جہاںسے ملک کونکالنا تمام جماعتوں کا قومی فریضہ ہے ۔لیکن سچی بات یہ تھی کہ مولاناصاحب ذاتی طور بھی اور جماعتی شکست کی وجہ سے بھی اندر سے سخت گھائل ہوچکے تھے ۔ جس خیبر پختونخوا میں وہ اپنی جماعت کو کنگ جماعت تصور کرتے تھے ، وہاں پر نہ صرف ان کے امیدواروں کو بری طرح ہروایا گیا بلکہ وہ اپنی ذاتی نشست بھی ہار بیٹھے ۔

انتخابات میں شکست فاش سے مولانا اور جے یوآئی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ، یوں اس کا ازالہ کرنے کیلئے انہوں نے حکومت کے خلاف نکلنے کا پہلے دن سے غیر متزلزل فیصلہ کرلیاتھا۔اپنی جماعت کے وجود کا اثبات دینے کیلئے مولانا صاحب ایسے کمر بستہ ہوگئے کہ جے یوآئی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ان کی قیادت میں اس جماعت نے چندمہینوں میں پندرہ مارچ کیے۔ستمبر کے آخر میں انہوں نے حکومت کولالٹی میٹم دیتے ہوئے کہاکہ تیس ستمبر تک حکومت مستعفی ہوجائیں ورنہ وہ اسلام آباد میں لاک ڈاون کیلئے آرہے ہیں۔بعدمیں انہوں نے باقاعدہ طورپر ستائیس اورپھراکتیس اکتوبر کو اسلام آباد میں آزادی مارچ کے نام سے ایک پرامن مارچ دینے کا اعلان کردیا۔

ان کے اعلان پر نوازشریف نے جیل میں لبیک کہتے ہوئے پیغام بھیجاکہ آزادی مارچ کا مسلم لیگ ن بھرپور ساتھ دے گی۔ پیپلزپارٹی پہلے آئیں بائیں شائیں کرتی تھی تاہم بعد میں اس جماعت نے بھی مولانا کاساتھ دینے پر حامی بھرلی۔ اُدھر نواز شریف کے حتمی فیصلہ آتے ہی محمودخان اچکزئی نے بھی جے یوآئی کے شانہ بشانہ آزادی مارچ میں حصہ بقدرجُثہ لینے پر رضامند ہوئے۔ اے این پی اور قومی وطن پارٹی جیسی اینٹی پی ٹی آئی جماعتوں میں بھی جان آگئی ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے یہ ثابت کردیا کہ ملک میں جے یوآئی وہ واحد مذہبی جماعت ہے جو اگر چاہے تو حکومت کیلئے ناقابل یقین حدتک مشکلات پیدا کرسکتی ہے ۔

ایک زمانے میں جس جے یوآئی کو تانگہ پارٹی کہاجارہاتھا، آج پورے ملک کی اپوزیشن جماعتیں اس کے پیچھے کھڑی ہیں۔ دیکھا جائے تو مولانا کے ساتھ مدارس کے طلباء کی صورت میں ایک ایسی جذباتی فورس موجود ہے جو کسی بھی دوسری جماعت کے کارکنوں سے کہیں زیادہ قربانیاں دے سکتی ہیں ۔ پی ٹی آئی حکومت چلی جائے یا موجودرہے لیکن مولانا نے یہ ثابت کردیا کہ ملکی سیاست میں ان کی جماعت کے سپیس کا انکار کرنا یا اسے نفی کرنا حماقت کے سوا اور کچھ نہیں۔مولانا نے یہ بھی ثابت کردیا کہ وہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن جیسی قومی جماعتوں کی قیادت بھی کرسکتے ہیں اور ان کے بغیر بھی حکومت وقت کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی بھر پور طاقت رکھتے ہیں۔

کوئی مانے یانہ مانے لیکن حقیقت میں لاکھوں کی تعدادمیں جے یوآئی کے ورکرزبشمول اپوزیشن جماعتوں کی اس بڑی اکٹھ کا سارا کریڈٹ مولانا ہی کو جاتاہے اور انہیں ضرور دینا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *