افغانستان ۔۔۔ تو کتنا بد نصیب ملک ہے



سمل جان

ستمبر 2001 کو احمد شاہ مسعود کو پیغام موصول ہوا کہ دو عرب ٹیلی ویژن جرنلسٹ ان سے ملنے کابل سے شمالی اتحاد کے علاقے میں آنا چاہتے ہیں۔ ان کے پاس بلجیم کے پاسپورٹ تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق مراکش سے ہے۔ اس منصوبے کی تیاری کوئی سال بھر پہلے مئی میں کی گئی تھی۔ القاعدہ کئی بار شمالی علاقے میں ایجنٹ بھیجنے کی کوشش کر چکا تھا لیکن کامیابی نہیں ہوئی تھی۔

مسعود عربوں پر اعتبار نہیں کرتے تھے۔ لیکن اس بار یہ تیاری سے آئے تھے۔ اس کیلئے مسعود کے کمزور پوائنٹ کو استعمال کیا گیا تھا۔ مسعود اپنا پیغام عربوں اور اسلامی دنیا تک پہنچانے کے خواہاں تھے۔ وہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے اشتعال انگیز پراپیگنڈا کا جواب دینا چاہتے تھے۔ اس انٹرویو کی اجازت لینے کیلئے مسعود کے پرانے دوست سیاف کے ذریعے سفارش بھی کروائی گئی تھی۔ انہیں یقین دلوایا گیا تھا کہ اس کا مقصد مسعود کا پیغام مثبت طریقے سے دنیا تک پہنچانا ہے۔انہیں تاجکستان کی سرحد کے قریب خوجا بہاوٗ الدین کے مقام پر ان کو لے جایا گیا اور ایک گیسٹ ہاوٗس میں ٹھہرا دیا گیا۔

افغانستان، 1979 کے بعد، سیاسی اور عسکری نظریات کی تجربہ گاہ رہا ہے۔ وہ نظریات جو افغانستان سے باہر بنے اور یہاں پر بذریعہ طاقت لائے گئے۔ افغانستان کی جماعتیں، فوج، ملیشیا جن آئیڈیاز کے نام پر بنی تھیں، وہ یورپ، امریکہ، قاہرہ، سوویت یونین، دیوبند وغیرہ میں بنے تھے۔ یہاں لائے گئے تھے۔ افغان کمیونسٹ کے طور پر لڑے، حقِ خود ارادیت کے لئے لڑے، مجاہد بن کر لڑے، اسلامی امہ کے نام پر لڑے۔ ایک نوجوان قوم نے کم ہی ایسے نیشنلسٹ پیدا کئے جو کوئی بھی متبادل دینے کے اہل ہوں۔ احمد شاہ مسعود ایک استثنا تھے۔

لیکن وہ ویسا افغانستان نہیں بنا سکے جس کا وہ کہتے رہے تھے۔ اپنی حکومت کے دور میں وہ کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ کچھ ان کی اپنی کمزوریاں تھیں۔ کچھ ان کے مخالف ان سے زیادہ طاقتور اور زیادہ پشت پناہی رکھتے تھے۔ اپنی زندگی کے آخر میں، جب وہ القاعدہ اور طالبان سے لڑ رہے تھے، انہوں نے اتحاد بنا کر کام کرنے کا فن بھی ڈھونڈ لیا تھا۔ وہ سیاسی آئیڈیل کے لئے بھی لڑے تھے۔ وہ روایتی معنوں میں جمہوری لیڈر نہیں تھے لیکن بدترین حالات میں صبروتحمل کا اور برداشت کا مظاہرہ کرنے کی اہلیت رکھتے تھے۔

انہوں نے القاعدہ اور طالبان کو نامساعد حالات میں بھی روکے رکھا تھا جس کی وجہ ان کی غیرمعمولی تدبیری مہارت تھی۔ اسی مہارت سے جس سے انہوں نے سوویت آرمی کو اور سی آئی اے کو نچلا دکھایا تھا۔ اس علاقے میں ہونے والی جنگ کے ہر کردار ۔۔۔ سوویت یونین، امریکہ، سعودی عرب، پاکستان، افغان کمیونسٹ حکومت، طالبان، القاعدہ ۔۔۔ کا مقابلہ کیا تھا۔ اپنے مخالفین سے بھی عزت حاصل کی تھی۔ دوسرے تمام مجاہدین کمانڈروں کے برعکس اپنا ٹھکانا اور ٹریننگ کیمپ افغانستان میں رکھے تھے۔

امریکہ نے احمد شاہ مسعود سے براہِ راست تعلق اکتوبر 1999 میں قائم کیا تھا۔ یہ تاجکستان کے شہر دوشنبے کے سٹیشن سے تھا۔ رچ، جو پرانے اور آزمودہ ایجنٹ تھے، دوشانبے سے ان سے ملنے جاتے تھے۔ رچ ان کے گرویدہ ہو گئے تھے۔ وہ اپنے تاثر کے بارے میں کہتے ہیں،

مجھے وہ چی گویرا کی طرح کا کردار لگے۔ دنیا کی تاریخ کے سٹیج پر ایک بڑا ایکٹر۔ مسعود ایک شاعر تھے، ایک عسکری جینئیس تھے۔ ایک مذہبی انسان تھے، بہادر لیڈر جس کو موت کی پرواہ نہیں تھی۔ میں نے ایسا گوریلا لیڈر کوئی اور نہیں دیکھا تھا۔ میرے دورے کے دوران وہ پانچوں وقت نماز پڑھتے تھے۔ ان کے گھر میں ہزاروں کتابیں تھیں۔ فارسی شاعری، افغان جنگوں کی تاریخ کی کئی زبانوں میں لکھی کتابیں، فوجی اور گوریلا لیڈروں کی بائیوگرافی۔ بات کرتے وقت وہ افغان تاریخ اور عالمی سیاست کو دلائل میں بڑی خوبصورتی سے لے کر آتے تھے۔ کم گو اور باوقار۔ ان سے بات کرتے ہوئے محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ آپ کسی ایسے شخص کے ساتھ ہیں جس کی شہرت ایک جنگجو، ایک وارلارڈ کے طور پر ہے”۔ (یہ لفظی ترجمہ ہے)۔

مسعود کو کابل کے قریب اپنی عسکری پوزیشن کا معائنہ کرنے جانا تھا جب ان کے ساتھی نے کہا کہ عرب صحافی انتظار کر رہے ہیں، پہلے ان سے مل لیں۔ مسعود نے انہیں اپنے ساتھی انجینیر عارف کے کمرے میں لے جانے کیلئے کہا۔ ایک مہمان رپورٹر نے سوالنامہ نکالا، دوسرا کیمرہ سیٹ کرنے لگا۔ مسعود نے کہا کہ وہ انٹرویو کے لئے تیار ہیں۔

صحافیوں نے پھر وہ کام کر دیا جو وہ اصل میں کرنے آئے تھے۔ دھماکے نے کیمرہ مین کے اپنے جسم کے چیتھڑے اڑا دئے۔ کمرے کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ دیوار پر آگ سلگنے لگی۔ مسعود کے سینے میں اس کے ٹکڑے گھس گئے۔ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔

گارڈ بھاگے آئے اور ان کے جسم کو اٹھا کر جیپ میں ڈالا۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال دس منٹ دور تھا۔ دوسرے عرب کو زیادہ زخم نہیں آئے تھے۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن پکڑا گیا۔ اس کو کمرے میں بند کر لیا گیا۔ جب وہ اس کمرے سے کھڑکی کے راستے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تو اس کو گولی مار دی گئی۔

ہیلی کاپٹر میں مسعود کا سر ان کے پرانے گارڈ عمر کی گود میں تھا۔ عمر نے ان کی سانس کو بند ہوتے ہوئے دیکھا۔

ان کے فوجیوں میں اب نہ صرف اداسی تھی بلکہ خوف بھی۔ مسعود کے پائے کے قریب کا بھی کوئی لیڈر ان کے پاس نہیں تھا۔ کیا ان کے ساتھ مزاحمت کی تحریک بھی ختم ہونے لگی تھی؟

دس ستمبر 2001 کو سی این این پر، پاکستان میں، ایران میں، تاجکستان میں، یورپ میں اور دنیا بھر میں خبر بریک ہو رہی تھی کہ احمد شاہ مسعود دنیا میں نہیں رہے۔ حامد کرزئی اس وقت پاکستان میں تھے۔ ان کو طالبان کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں ایک ہفتہ پہلے ہی پاکستان چھوڑنے کیلئے نوٹس دیا جا چکا تھا۔ اس میں تین ہفتے باقی تھی۔ کرزئی یورپ یا امریکہ نہیں جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے چند روز پہلے ہی مسعود سے بات کی تھی۔ وہ تاجکستان کے راستے افغانستان پہنچنا چاہتے تھے۔ وہاں سے طالبان کے خلاف پشتون مزاحمت شروع کرنے کا پلان کر رہے تھے۔

حامد کرزئی کے بھائی نے ان تک یہ خبر پہنچائی۔ بتایا کہ تصدیق ہو چکی ہے۔ احمد شاہ مسعود زندہ نہیں رہے۔ ان کے بھائی بتاتے ہیں کہ میری بات سن کر حامد کے تاثرات ایسے تھے جیسے دل پر گھونسا لگا ہو۔ کچھ دیر خاموش کھڑے رہے۔ ان کی آنکھوں میں نمی تھی جب انہوں نے یہ کہا، افغانستان ۔۔۔ تو کتنا بدنصیب ملک ہے۔

احمد شاہ مسعود کو ان کے حامیوں نے شیر کہا، ملا عمر نے لومڑی، امریکہ نے منشیات فروش، حکمت یار نے غدار، پاکستان نے نمک حرام، سوویت یونین نے دشمن نمبر ایک۔ اپنی جگہ سبھی ٹھیک ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ انسان بڑی پیچیدہ چیز ہے بہت سے پہلو رکھتا ہے۔ اس کو لیبل لگا کر جج نہیں کیا جا سکتا۔ شیر، لومڑی، قائد، قاتل جیسے بہت سے الفاظ کے ساتھ احمد شاہ مسعود پر ایک اور لیبل تھا جس پر کسی کو اختلاف نہیں تھا۔ جس بھی معنی میں ۔۔۔ لیکن ہر ایک نے احمد شاہ مسعود کو ہمیشہ مجاہد کہا۔

دہشت گردوں کے ہاتھوں افغان مجاہد کی موت بہت جلد پسِ منظر میں چلی گئی۔ اگلا دن 11 ستمبر 2001 تھا۔ افغانستان ایک اگلی بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا تھا۔ اس بار یہ جنگ احمد شاہ مسعود نے نہیں لڑنی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *