کیا لال مسجد والوں نے جنرل مشرف سے بدلہ لے لیا ہے


محمد شعیب عادل

سپریم کورٹ کی خصوصی عدالت نے جنرل مشرف کو آئین کے آرٹیکل چھ کو معطل کرنے کے الزام میں سنگین غدار قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے۔ خصوصی عدالت کے بینچ کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا کہ وہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو گرفتار کرنے اور سزا پر عملدرآمد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اگر وہ مردہ حالت میں ملیں تو ان کی لاش اسلام آباد کے ڈی چوک لائی جائے جہاں اسے تین دن تک لٹکایا جائے۔ جس پر کسی دل جلے نے سوشل میڈیا پر تبصرہ کیا کہ لال مسجد والے جنرل مشرف کو ڈی چوک پر پھانسی دینے کا اعلان کرتے تھے اور اب عدالت نے ان کی خواہش پوری کر دی ہے۔

اس میں کوئی دو رائے کہ نہیں جنرل مشرف نے ایک منتخب جمہوری حکومت کو برطرف کرکے اقتدار پر ناجائز قبضہ کیا۔عدالت کی طرف سے انہیں سنگین غداری کے الزام میں موت کی سزا سنانےسے سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان کی عدالتیں اتنی آزاد ہو گئیں ہیں کہ ایک سابقہ آرمی چیف کو موت کی سزا سنا دیں اور نہ صرف سزا بلکہ جج صاحب نے قانون سے بھی دو قدم آگے جاتے ہوئے قرون وسطیٰ کی روایت پر عمل کرتے ہوئے اس کی لاش کو ڈی چوک پر لٹکانے کا حکم دیا۔

خصوصی عدالت کی طرف سے جنرل مشرف کو موت کی سزا سنانا قطعاً آزاد عدلیہ کافیصلہ نہیں بلکہ اس فیصلے کو فوج کے اس طاقتور دھڑے کی حمایت حاصل ہے جو جنرل باجوہ کو فارغ کرنا چاہتے ہیں۔اس فیصلے سے چند ہفتے پہلے عدالت نے ایک اور اہم فیصلہ سنایا تھا جس میں جنرل باجوہ کو ملازمت میں توسیع دینے سے انکار کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو حکم دیا تھا کہ وہ اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کرے۔

یاد رہے کہ جنرل مشرف نے جب اقتدار پر قبضہ کیا تو سے تمام کورکمانڈرز کی حمایت حاصل تھی اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ منتخب حکومت کو برطرف کرنے میں کور کمانڈرز بھی شریک جرم تھے ۔امریکہ نے فوج کے اس اقدام کی سخت مخالفت کی تھی اور اس وقت کے صدر بل کلنٹن نے احتجاجاً پاکستان کا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا تھا اوربھارتی دورے کے بعد جب وہ پاکستان تھوڑی دیر کے لیے رکے تو انھوں نے جنرل مشرف سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسی دوران نائن الیون ہوگیا اور جنرل مشرف کی گویا لاٹری نکل آئی ۔جنرل مشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور طالبان کے خلاف کاروائی کرنے پر فوج کے اندر ان کی مخالفت شروع ہو گئی تھی۔ جنرل مشرف کے دور میں بے شمار دہشت گردوں کو امریکہ کے حوالے کیا گیا جن کے سر کی قیمت امریکہ نے مقرر کی تھی اور یہ دہشت گرد ایک وقت میں پاک فوج کے سٹریٹیجک اثاثے تھے۔

لال مسجد کا واقعہ اس سلسلے کا نقطہ عروج تھا۔ جنرل مشرف کی حکومت لال مسجد میں چھپےان دہشت گردوں کو گرفتار کرنا چاہتی تھی جن کی نشاندہی برطانیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی سکس نے کی تھی اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ برطانیہ کے انڈر گرائونڈ ٹرین سٹیشن کے حملہ آور لال مسجد میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور انھیں برطانیہ کے حوالے کیا جائے۔

لال مسجد پر آپریشن کی فوج کے مذہبی دھڑے نے سخت مزاحمت کی لیکن جنرل مشرف حکومت نے انہیں ہلاک کرکے ہی دم لیا۔لال مسجد کا واقعہ دراصل فوج کے مذہبی گروہ اور جنرل مشرف کے آزاد خیال یا روشن خیال گروہ کی لڑائی تھی جو بظاہر جنرل مشرف نے جیت لی ۔ لیکن اعلیٰ عدلیہ نے لال مسجد کے متاثرین کو اسلام آباد میں ہی متبادل پلاٹ دے کر انھیں اپنے پاوں پر کھڑا رکھا۔

جنرل مشرف بھارت کے ساتھ دوستی اور دو طرفہ تجارت کے حامی تھے اور کشمیرکے مسئلے کو حل کرنے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ جنرل مشرف نے لائن آف کنٹرول پر پانچ مقامات پر انٹری پوائنٹ بنائے تاکہ ایل او سی کے آر پار رہنے والے لوگ اپنے رشتہ داروں سے مل جل سکیں اور اس مقصد کے لیے پاسپورٹ کی شرط بھی ختم کر کے پرمٹ کا اجرا کیا گیا تھا۔ اور ان انٹری پوائنٹ پر دو طرفہ تجارت کی بھی اجازت دی گئی۔

اب یہ تمام اقدامات پاک فوج کے اکثریتی گروہ جو کہ شدید مذہبی اور بھارت دشمنی پر یقین رکھتا تھا ناقابل قبول تھے اور جنرل مشرف کے خلاف میڈیا میں ایک پروپیگنڈہ مہم شروع کر دی گئی اور پاکستانیوں کو بتایا گیا دیکھیں ملکی میڈیا کتنا آزاد ہو گیا ہے کہ اب ٹی وی چینلز پر حاضر سروس آرمی چیف کی پالیسیوں پر سخت تنقید ہوتی ہے۔آج جو یہ کہا جاتا ہے کہ جنرل (رجمشید گلزار کیانی،جنرل (راسد درانی ،جنرل (رضیاء الدین بٹ نے اسکو کو غدار کارگل جبکہ جنرل (ر) شاھد عزیز انکو غدار امت اور جنرل (ر) حمید گل انکو امریکی ایجنٹ کہتے تھے، تو ان الزامات کے پیچھے یہی سوچ کارفرما تھا۔

پاک فوج کے اکثریتی مذہبی گروہ نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو جنرل مشرف خلاف استعمال کیا اور مشرف کے کچھ اقدامات کے خلاف فیصلے دیئے جس پر جنرل مشرف نے انھیں آرمی ہاوس بلا کر ان فیصلوں کو واپس لینے کا کہا۔ افتحار چوہدری نے انکار کیا جس پر جنرل مشرف نے چیف جسٹس کو برطرف کردیا۔ پاکستانی میڈیا نے راتوں رات افتخار چوہدری کو ہیرو بنادیا۔ افتخار چوہدری کی بحالی کی مہم کے ایک اہم کردار اور فنانسر میاں نواز شریف تھے جو جنرل مشرف سے اپنی حکومت برطرف کرنے کا انتقام لینا چاہتے تھے۔

بیس جولائی 2007 کو جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی سربراہی میں تیرہ رکنی بنچ نے افتخار چوہدری کو بحال کر دیا گیا ۔ بحال ہونے کے بعد چیف جسٹس افتخار چوہدری سے جنرل مشرف کی طرف سے جاری نیشنل ری کانیسلیشن آرڈیننس (این آر او) کے خلاف سو موٹو نوٹس لے لیا اور اسے غیر قانونی قرار دیا۔ این آر او کے تحت پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر جو مقدمات بنائے گئے تھے وہ ختم کردیئے گئے تھے اور انہیں ملک میں واپس آکر انتخابات میں حصہ لینا تھا۔ یہ وہی این آراو ہے جسے مسلم لیگ نواز کے رہنماوں نے گالی بنا کر رکھ دیا تھا۔

جنرل مشرف کی حکومت نے اس دوران انتخابات کا اعلان کردیا اور پیپلز پارٹی ، سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم شروع کر دی۔ چیف جسٹس مسلسل انتخابی عمل میں روڑے اٹکانے میں مصروف تھے جس پر جنرل مشرف نے ایک بار پھر تین نومبر 2007کو افتخار چوہدری کو معطل کرکے ملک میں ایمر جنسی نافذ کردی۔اس دوران الیکشن ہو گئے پیپلزپارٹی نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنا لی لیکن نواز شریف افتخار چوہدری کو بحال کروانا چاہتے تھے۔

پیپلز پارٹی کی قیادت کو بخوبی احساس تھا کہ افتخار چوہدری کو بحال کرنا فوج کے مذہبی ایجنڈے کو پرموٹ کرنا ہے۔مسلم لیگ نواز نے مخلوط حکومت سے علیحدگی اختیار کر کے چیف جسٹس کی بحالی کی آڑ میں حکومت کی مخالفت شروع کردی۔آصف زرداری نے نواز شریف کو باربار سمجھانے کی کوشش کی مگر نواز شریف بحالی پر اڑے رہے اور لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ نواز شریف ابھی گوجرانولہ بھی نہیں پہنچے تھے کہ نئے آرمی چیف جنرل کیانی نے نواز شریف کو فون کرکے اطلاع دی کہ حکومت نے افتحار چوہدری کو بحال کر دیا ہے۔

بعد میں انہی چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں چودہ رکنی بنچ نے جولائی 2009 کو جنرل پرویز مشرف کے تین نومبر 2007 کو آئین معطل کرکے عبوری آئینی حکم نافذ کرنےکے اقدام کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو بغاوت کا مقدمہ قائم کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس پر پیپلز پارٹی کی حکومت نے یہ مقدمہ نہیں بنایا کیونکہ وہ انتقامی سیاست کی بجائے مفاہمانہ سیاست کے ذریعےتمام گروہوں کے ذریعے قانون سازی کرنا چاہتی تھی۔

آصف زرداری کی حکومت کا کارنامہ یہ تھا کہ تمام تر مخالفتوں کے باوجود مشترکہ طور پر اٹھارویں ترمیم منظور کروا لی۔ جو آج فوج کے گلے کا پھندا بنی ہوئی ہے۔ نواز شریف نے صرف اسی صورت ساتھ دینے کا وعدہ کیا کہ ضیا الحق کی قانون سازی کو نہ چھیڑا جائے اور نہ ہی آئین کی 62 اور63 شقوں کو ختم کیا جائے۔ نواز شریف کو اس ترمیم سے صرف اتنی دلچسبی تھی کہ آئین سے وزیر اعظم کی تیسری دفعہ الیکشن لڑنے پابندی کو ختم کیا جائے۔

اٹھارویں ترمیم میں میثاق جمہوریت میں طے کردہ ججز کی تقرری کا طریقہ بھی طے کیا گیا جسے افتخار چوہدری نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اس نے کہا کہ ججوں کی تقرری پارلیمنٹری کمیٹی کی بجائے وہ خود کریں گے اور نوازشریف نے افتخار چوہدری کا ساتھ دیا اور اپنی من مرضی کے وکلا کو ججز مقرر کروا لیا۔ افتخار چوہدری نے الیکشن ۲۰۱۳ میں کھلم کھلا مداخلت کی اور الیکشن کمشنر کو بائی پاس کرتے ہوئے خود چارج سنبھال لیا ۔ ریٹرننگ آفیسرز الیکشن کمشنر کی بجائے افتخار چوہدری کو رپورٹ کرنے لگے اور ان کے ذریعے انتخابات کے نتائج کو سبوتارژ کیا ۔ نتیجتاً میاں نواز شریف کو اکثریت حاصل ہوئی اور انھوں نے حکومت میں آ کر جنرل مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا۔

یہ مقدمہ چلتا رہا ، دونوں فریقوں کی دلچسبی ختم ہو گئی تھی کہ پاک فوج کے اندر اقتدار کی لڑائی نے اس مقدمے کو دوبارہ زندگی بخشی اور اس مقدمے کا فیصلہ اس لڑائی کا اظہار ہے۔ اب نواز شریف اور ان کے ساتھی بھی اس سزا سنانے پر چپ سادھے بیٹھے ہیں۔  یہ لڑائی ملک کے طاقتور اداروں کے اقتدار پر قبضے کی لڑائی ہے۔وقت نے ثابت کیا کہ نواز شریف نے اپنے جن ملازم وکیلوں کو جج بنوایا تھا وقت آنے پر انھوں نے ہی اسے نہ صرف کرپٹ قرار دیابلکہ اقتدار سے فارغ کروایا اور اس پر اسی 62 اور 63 کے تحت الزام لگایا گیا جس کو ختم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

معلوم نہیں لال مسجد والوں نے جنرل مشرف سے بدلہ لیا ہے یا نہیں لیکن اس کا نشانہ جنید حفیظ ضرور بنا ہے اور پاکستانی عوام مسلسل بن رہے ہیں۔لال مسجد والوں کے اپنے قانون ہیں جو ان سے غداری کرے گا اس کا انجام موت ہی ہے۔ جنرل مشرف کو پھانسی کی سزا سنانے سے ملک میں مارشل لا کا راستہ نہیں روکا جا سکتا ہے۔ نہ ہی بلوچ و پختون عوام کا قتل عام رک سکتا ہے۔ ان کے قاتل ہی آج ایوان اقتدار میں بیٹھے اپنی اقتدار کی لڑائی لڑ رہے ہیں ۔ عوام کو اسی وقت ریلیف مل سکتا ہے جب فوجی تسلط سے آزاد انتخابات کے نتیجے میں ایک جمہوری حکومت قائم ہو جو اپنے فیصلے خود کر سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *