ہانگ کانگ کے شعلے

محمد حنیف 

جہاز ہانگ کانگ کے ایئرپورٹ پر اتر رہا تھا جب پائلٹ نے اعلان کیا کہ ایک وائرس پھیلا ہوا ہے، آپ اس سے متاثر ہیں تو سرجیکل ماسکل پہن لیں۔میں نے کہا کہ یہ پائلٹ مروائے گا کیونکہ چند ہفتے پہلے ہانگ کانگ کی حکومت ماسک پہننے کو جرم قرار دے چکی ہے۔

ہانگ کانگ کی حکومت کئی اور چیزوں کو بھی جرم قرار دے چکی ہے جس میں بغیر اجازت کے لوگوں کا اجتماع، چینی جھنڈے کی شان میں گستاخی جیسے جرائم شامل ہیں۔میرے پانچ دن کے قیام میں ان جرائم کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

راقم کوئی چھ، سات سال پہلے ڈھائی دن کے لیے گیا تھا اور لگا تھا کہ کیا شاندار شہر ہے۔ ہم گاؤں سے شہر آنے والوں کو پہلا طعنہ یہ ملتا تھا کہ ’کیا بتیاں دیکھنے آئے ہو‘ اور صحیح ملتا تھا۔اب بھی شہر کی شان و شوکت کو بتیوں کی تعداد اور ان کی چکا چوند سے ہی پرکھتا ہوں۔ ہانگ کانگ کی بتیاں نیو یارک اور لندن کی بتیوں سے زیادہ روشن تھیں۔ پہلی دفعہ زندگی میں سمجھ آیا کہ بقعہ نور کسے کہتے ہیں۔

سڑکیں تک چمکدار تھیں، پبلک ٹرانسپورٹ بھی دنیا کے بڑے شہروں سے زیادہ صاف ستھری اور تیز رفتار وائی فائی ہر جگہ پر موجود اور برق رفتار۔جو مجھے دیہاتی اور غریب علاقے دکھائے گئے مجھے وہ بھی اپنے ڈیفنس کلفٹن نظر آئے۔ میرا ڈھائی دن کا دورہ اتنا پُرسکون بلکہ ’بورنگ‘ تھا کہ مجھے بتیوں کہ علاوہ کچھ یاد نہیں رہا۔

اسی لیے گذشتہ سال جب صحافیوں اور لکھاریوں کی بین الاقوامی تنظیم پین” نے دعوت دی کہ آپ ہانگ کانگ آکر یونیورسٹی میں کچھ انسانی حقوق اور ادب پر بات کریں تو میرا پہلا ردِعمل تھا کہ بھائی آپ کے انسانی حقوق کو کیا ہو گیا ساری دنیا کے امیر ترین کاروباری آپ کے ہاں موجود ہیں۔

چین نے اپنا علاقہ واپس لے کر بھی اس کو لاڈلے کی طرح رکھا ہوا ہے لیکن پھر خیال آیا کہ  پین تنظیم والے ساری دنیا میں لکھاریوں کے ساتھ ہونے والی ظلم زیادتی پر آواز اٹھاتے ہیں۔ جانا چاہیے۔

ہانگ کانگ میں گذشتہ چھ ماہ میں جمہوریت کے حق میں مظاہرے شروع ہوئے تو میرے بھی کان کھڑے ہوئے۔ ایک دن سات ملین کی آبادی میں سے کوئی ڈیڑھ ملین سڑکوں پر۔

حکومت نے وہ بل بھی واپس لے لیا جس کے تحت تفتیش کے لیے ہانگ کانگ کے شہریوں کو چین بھیجا جا سکتا تھا، ہنگامے پھر بھی جاری رہے۔

میزبانوں سے پوچھا کہ کیا کرنا ہے، انھوں نے کہا آپ کا خطاب تو ہو کر ہی رہے گا۔ میری انا کو تھوڑی اور تسکین ہوئی۔انھوں نہ کہا کہ یہاں ہم پانچ دن کام کرتے ہیں اور صرف ویک اینڈ پر احتجاج کرتے ہیں، یونیورسٹی والے آپ کے منتظر ہیں۔

ہم نے ایک دھواں دار تقریر لکھنی شروع کر دی۔ فلائٹ پکڑنے سے پہلے کراچی کے دوستوں نے کہا وہاں خطرے کی کوئی بات نہیں، میں نے انھیں یاد کرایا کہ ہم نے آدھی زندگی کراچی میں نائن زیرو کا پانی بھرتے گزاری ہے اب ہانگ کانگ کے پپو مظاہروں سے ہمیں کیا خطرہ۔

نصف شب ہانگ کانگ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں برق رفتار انٹرنیٹ کے مزے لیتے ہوئے اور چھپ کر سگریٹ پینے کی جگہ ڈھونڈنے کے بعد سو گئے۔صبح فون کی گھنٹی نے اٹھایا۔ پیر کا دن تھا۔ ہانگ کانگ کی نارمل زندگی بحال ہونے والی تھی۔ میزبان نے کہا کمرے سے باہر مت جانا پورے شہر میں ہنگامے ہو رہے ہیں اور یونیورسٹی میں بھی گڑبڑ ہے۔

میں نے کہا آپ تو کہتے تھے کہ پیر سے جمعے تک کام ہوتا ہے، ہنگامے صرف ویک اینڈ پر۔ جواب آیا ٹھیک کہا تھا لیکن آج صبح گولی چل گئی۔

مجھے ہانگ کانگ میں پہلی دفعہ اپنائیت کا احساس ہوا۔

پوچھا کہ کوئی ہلاکت، جواب آیا پولیس نے تین مظاہرین کی ٹانگوں میں گولیاں ماری ہیں۔ مجھے یقین دلانے کے لیے ویڈیو بھی بھیج دی گئی۔میں نے کہا شکر ہے بچت ہو گئی۔ انھوں نے کہا بچت؟ ہانگ کانگ کی تاریخ میں پولیس نے کبھی گولی نہیں چلائی۔ آپ نے کمرے سے باہر نہیں نکلنا، ہم حالات کا جائزہ لے کر آپ کو بتاتے ہیں۔

کراچی کی تربیت کے بعد اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ابھی اور فوراً باہر نکلنا ہے تو ہم بھی ایم کیو ایم کے کسی پرانے سیکٹر کماندار کی طرح جائے وقوعہ کا جائزہ لینے نکل پڑے۔دیکھا تو 19، 20 سال کی عمر کے طالبِ علم کلاس روموں سے بینچ، کرسیاں اور میز نکال کر سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے۔

رکاوٹیں کیا تھیں آرٹ کے نمونے تھے۔ کہیں رنگ برنگی رسیاں، کہیں لیبارٹریوں سے نکالا ہوا سامان، چار چار انچ کے کیلوں کی تکونیں بنا کر سڑکوں پر بچھائی جا رہیں تھیں۔

میں نے سوچا بچوں نے سڑکیں بلاک کی ہیں کسی پتلی گلی سے نکل جائیں گے، لیکن جدھر جائیں آرٹ کا ایک نمونہ ہمارا راستہ بند کیے ہوئے تھا۔

طالبِ علموں کی ایک جوڑی سے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے، انھوں نے کہا پانچ طلبا کے وارنٹ نکلے ہیں۔ خدشہ ہے کہ پولیس آئے گی۔ ہم اس کے استقبال کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

میں نے بتایا کہ میں پاکستان سے ان سے خطاب کرنے آیا ہوں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک کیفے کھلا ہے وہاں طلبا کے علاوہ کسی کو کھانا نہیں ملتا، آپ کو دلوا دیں گے۔میں نے کچھ بحث کرنے کی کوشش کی کہ دیکھو آپ کی اپنی پولیس ہے وہ یونیورسٹی میں آ بھی گئی تو کیا ہے۔ ہماری کراچی یونیورسٹی میں 30 سال پہلے رینجرز آئے تھے، آج بھی بیٹھے ہیں۔ مجال ہے ہمارے طالبِ علموں نے کبھی ان کے خلاف ناکے لگائے ہوں۔

بلوچستان کی کچھ یونیورسٹیوں میں تو ہمارے سکیورٹی اداروں نے آدھی آدھی کلاس ہی غائب کر دی۔ نہ والدین کو پتا ہے بچے کہاں ہیں نہ استادوں کو۔ آپ کچھ زیادہ ہی مائنڈ نہیں کر گئے؟انھوں نہ کہا ہانگ کانگ یونیورسٹی میں نہ کبھی پولیس آئی ہے نہ آنے دیں گے اور انکل ہم کیفے کو بھی 15 منٹ میں بند کرانے والے ہیں کوئی سینڈوچ پکڑ لیں پھر نہ کہنا ہم نے میزبانی نہیں کی۔

میزبانوں کا ایک اور پیغام آیا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے خراب حالات کی وجہ سے یونیورسٹی بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اب آپ کا خطاب یونیورسٹی میں تو نہیں ہو سکتا۔ایک سیانے نے مشورہ دیا کہ آپ کی تقریر فیس بک پر کروا دیتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ میرے عزیز بھی فیس بک پر ہیں ان میں سے کچھ پردہ دار بیبیاں بھی ہیں، میں نہیں چاہتا کہ وہ میری بکواسیات سنیں۔اور ویسے بھی اگر میرے منھ سے چین کی حکومت کے خلاف کچھ گستاخی ہو گئی تو واپس کیا منھ لے کر جاؤں گا کیوں کہ ہماری تو ہمالیہ سے اونچی اور بحیرہ عرب سے گہری دوستی ہے۔

میزبانوں کو بات سمجھ آ گئی۔ انھوں نے کہا کہ پولیس یونیورسٹی پہنچنے والی ہے آپ نے کمرے سے نہیں نکلنا۔اور قوم سے میرا خطاب؟

وہ تو ہو کر رہے گا، انھوں نے کہا۔ اور اگر کوئی پولیس والا آ جائے تو آپ نے کہنا ہے مجھے نہ انگریزی آتی ہے نہ چینی۔

میں نے پوچھا یہ کہنا کس زبان میں ہے؟ ویسے چینی مجھے واقعی نہیں آتی۔

BBC

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *