بھارت: شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج شدید سے شدید تر

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سمیت متعدد شہروں میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جبکہ ان مظاہروں کے دوران پولیس کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بیس سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔

نئی دہلی میں دانشوروں اور سماجی کارکنان نے جامعہ ملیہ کے طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے منڈی ہاؤس سے جنتر منتر تک پیدل مارچ کا اعلان کیا تھا لیکن جب مظاہرین وہاں پہنچنا شروع ہوئے تو پولیس نے دفعہ 144 کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی اجازت دینے سے منع کر دیا۔ بعد میں لوگ جنتر منتر پر جمع ہوئے جہاں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف خوب نعرے بازی کی گئی اور انقلابی نظمیں پڑھی گئیں۔ اس میں سبھی برادریوں کے مرد و خواتین شامل تھے۔

ادھر ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلٰی ممتا بنرجی نے ریاستی دارالحکومت کولکتہ میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے خلاف ایک بڑے پیدل مارچ کی قیادت کی۔ ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بنرجی نے کہا کہ جب تک وہ زندہ ہیں اس وقت تک ریاست مغربی بنگال میں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی پر عمل نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا، ’’وزیر اعظم کہتے ہیں کہ این آر سی کی تجویز پر ابھی کوئی بات چيت نہیں ہوئی ہے۔ لیکن چند روز قبل ہی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا تھا کہ این ار سی کو پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا۔ دونوں بیانات میں تضاد ہے۔ وہ اصل میں تذبذب پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

جنوبی ریاست تامل ناڈو کے مختلف حصوں میں آج دوسرے روز بھی اس نئے قانون کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ گزشتہ روز اس ریاست میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا جس کی قیادت ریاستی رہنما اسٹالن کی تھی۔ اس میں کئی لاکھ لوگوں نے حصہ لیا تھا۔  

ادھر آج منگل 24 دسمبر کو پولیس نے کانگریس پارٹی کے سابق صدر راہول گاندھی  اور پارٹی کی جنرل سیکرٹری پریانکا گاندھی کو میرٹھ  میں داخل ہونے سے اس وقت روک دیا جب وہ مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے جار رہے تھے۔ ایک مقامی پولیس افسر اکھیلیش نارائن سنگھ  کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اور امن و قانون کی صورت حال کے پیش نظر انھیں میرٹھ جانے سے منع کیا گيا ہے۔ بعد میں راہول گاندھی نے کہا کہ وہ جب اس گاؤں کے قریب پہنچے جہاں متاثرہ خاندان آباد ہے تو پولیس نے انھیں اچانک راستے میں روکا اور پھر واپس دہلی بھیج دیا۔

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف یوپی کے بیشتر شہروں میں پر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں جس میں اب تک 15 افراد کی ہلاکت کی خبر ہے، جس میں سے سب سے زیادہ چھ میرٹھ میں ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے سبھی مسلم نوجوان ہیں جس میں بعض کم عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔ ریاستی پولیس نے گزشتہ روز اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پولیس فورسز نے فائرنگ کی تھی، اس سے پہلےتک وہ فائرنگ سے انکار کرتی رہی تھی۔  ریاست کے بیشتر شہروں میں اب بھی دفعہ 144 نافذ ہے اور لوگوں کے اجتماع پر پابندیاں عائد ہیں۔

مجموعی طور پر شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہروں کے دوران ملکی کی سطح پر کم از کم 23 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس دوران حکام نے بہت سی دکانوں کو اس الزام میں سربمہر کر دیا ہے کہ یہ لوگ تشدد میں ملوث تھے اور سرکاری املاک کے نقصان کا ازالہ ان کی جائیداد نیلام کرکے کیا جائے گا۔

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *