فکر وقلم کی آزادی کسی کا عطیہ نہیں

پائند خان خروٹی

تاریخ انسانی کے اوراق پلٹنے سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ فکر وقلم کی آزادی کو یقینی بنانے ، بالا دست طبقہ کے مسلط کردہ خوف ولالچ سے نجات پانے ، تنقیدی شعوری کو فروغ دینے ، خرافات وتوہمات کے خلاف باغیانہ جذبہ اُبھارنے ، زیردست طبقہ کو سوال کرنے کی جرأت دینے اور استحصالی عناصر کوخلقی رنگ میں بدلنے کیلئے فلسفیوں ، سائنس دانوں اور دانشوروںسمیت پس پردہ گمنام کرداروں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں ۔

اس ضمن میں فکر وقلم کی حرمت کے محافظوں کی فہرست تو بہت طویل ہے تاہم چند ممتاز عوام دوست شخصیات کاذکر اس لئے کیا جاتا ہے کہ یہ بات واضح ہوجائے کہ آج ہم فکر وادنش کی جس آزادی سے بہر مند ہوتے آرہے ہیں وہ کسی نے ہمیں عطیہ کے طور پر نہیںدیا بلکہ اس کے لئے مختلف ادوار میں نمایاں شخصیات نے قربانیاں دینے کے علاوہ غیر انسانی تشدد کی نت نئی صورتیں برداشت کیے ہیں ۔ کسی کو زہر کاپیالہ پینا پڑا ، کوئی دار پر چڑھ گیا ، کسی پر وحشیانہ تشد د کیا، کسی کومعاشرے سے خارج کرکے سوشل بائیکاٹ کاسامنا کرنا پڑا، کسی نے بورژوا نوبل پرائز لینے سے انکار کیا ، کسی کے بچوں کو اذیت پہنچائی گئی ، وقت کے حکمرانوں اور رُجعتی قوتوں نے ظلم وجبر کے اقدامات اُٹھاتے ہوئے بشر دوستی، جنس اور عمر کی تمیز بھی روا نہیں رکھی ۔

مثا ل کے طور پر یونانی فلاسفر سقراط(470-399 بی سی )نے جب لوگوں میں فکر وشعور پھیلا نا شروع کیا اور مروجہ رسم ورواج کے خلاف سوالات کرنے کاحوصلہ دیا تو واکداروں کو اس پر اعتراض ہوا اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ سقراط نسل انسانی کوروایت سے بغاوت کراکر گمراہی کے راستے پر ڈال رہا ہے ۔ بادشاہ وقت اور اس کے بغل بچوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ سقراط نئی نسل کے ذہین کوخراب کررہا ہے ۔ بادشاہ کے وفادار عدالت نے سقراط پر حد لگائی اور اسے زہر کاپیالہ پینے پر مجبورکیا ۔

اسی طرح سقراط کے بعد مصر کے شہر سکندریہ میں ایک خاتون فلاسفر ، ریاضی دان اور ماہر فلکیات ہائپیشیا (350-415)جس کاتعلق نئے افلاطونی مکتب فکر سے بتایا جاتا ہے ۔ فیمل فلاسفر ہائپیشیا نے دیو مالائی قصے کہانیوں سے انکار کرکے منطق ودلیل پر یقین کااظہار کیا تو یہ بات عیسائیت کے لباس میں ملبوس رُ جعتی عناصر کو گوارا نہ ہوسکی ۔ سکندریہ کے بیشف سرل اور مشتعل ہجوم کو اکھٹا کرکے ہائپیشیا کیخلاف تشدد پر اُکسایا ۔ ہجوم نے فیمل فلاسفر کو پکڑ کر سڑکوں پر گھسیٹا ، پھر اسے برہنہ کرکے ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ جب اس پر بھی دہشت وحشت پرمبنی افراد کی تشفی نہ ہوئی تو انہوں نے عظیم ریاضی دان اور فلسفی خاتون کے اعضاء کو آگ لگا دی ۔ ہائپیشیا کو جسمانی طورپر تو قتل کردی گئی لیکن اپنی موت کے بعد وہ علم وفکر کی آزادی کی روشن علامت بن گئی ۔

علم وسائنس کی آزادی کے حوالے سے پہلا سائنس دان شہید گیورڈ ا(1548-1600) آج بھی دنیا بھر کے انسانوں کیلئے ایک قابل تقلید مثال ہے ۔ معروف سائنسدان برنو جس کاتعلق اٹلی سے تھااور جو اپنے عہد کے ممتاز ماہر فلکیات اور سائنس دان تھا ۔ برونو نے فلکیات کے علم میں اپنے پیش رو سائنس دان نیکولس کو پر نیکس کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ زمین سورج کے گر د گھومتی ہے جبکہ سورج اپنی جگہ ساکن ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کائنات فانی نہیں ہے اور ممکن ہے کہ اس کاکوئی مرکز نہ ہو:

“Bruno also insisted that the Univers is infinite and could have no center.”

وقت کے حکمرانوں اور چرچ کے پادریوں نے اس کے نظریات کو مروج روایات اور خاص طو رپر بائبل کے منافی قرار دیا اور ان پادریوں کے مشتعل جنونی افراد نے عظیم سائنسدان برنو کو زندہ نذرآتش کردیا جسے تاریخ میںپہلے سائنسدان شہید کارتبہ حاصل ہے ۔

اس طرح اٹلی کے ایک اور معروف سائنسد ان گیلیو گیللی(1564-1642)جو جدید فزکس کاباپ سمجھا جاتا ہے نے یہ قانون دریافت کیا کہ سورج ساکن ہے اور زمین متحرک ہے اور اس کے گر دگھوم رہی ہے ۔ ان کی یہ دریافت روایت پرستوں اور رجعتی عناصر کیلئے ناقابل قبول تھی جس کی وجہ سے انہوں نے سائنسی دریافت کو مذہبی اعتبار سے بدعت قرار دیا ۔ پہلے گرفتار کرکے تذلیل کی اور بعد ازاں اس کوبدعتی قرار دیکر زندگی بھر کیلئے گھر میں نظر بند کیاگیا ۔ کئی برسوں کی سزا کاٹنے اور ذہنی اذیت برداشت کرنے کے بعد بلاآخر گلیلو نے پادریوں کے سامنے معافی مانگی لیکن اس کاکہنا تھا کہ اس کی معافی سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی اور زمین اب بھی حرکت کررہی ہے ۔

اگرچہ وہ پادری ہمیشہ کیلئے عبرت کے نشان بن گئے مگر گلیلو کاوہ فقرہ آج بھی زبان زد عام ہے ۔ کہوہ بدستور گھوم رہی ہےمعافی مانگنے کے بعد گلیلو کوزندہ رہنے کی اجازت تو مل گئی لیکن کچھ عرصہ بعد جب اس کی موت واقع ہوگئی تو پادریوں نے اس کی تدفین کیلئے قبرستان میں زمین دینے سے انکار کردیا ۔ مجبوراً ایک چھوٹے سے کمرے میں دفن کردیا گیا ۔ اس واقعہ کے پچانوے برس بعد اٹلی کے شہریوں نے اس کی قبر کھود کر باہر نکالا اور اعزا ز وتکریم کے ساتھ آبائی قبرستان میں دفن کیاگیا اور شہریوں نے اس کی قبرسے معافی مانگی اس طرح ان کی کتابیں پڑھنے پر پابندی بھی ختم ہوگئی ۔

فکر وقلم کی آزادی کو یقینی بنانے اور خرافات وتوہمات کے خلاف اُٹھنے والی ایک گرجدار آواز فرنچ فلاسفر والٹیئر کی ہے ۔ والٹیئر فلاسفر ہونے کے علاوہ ادب وتاریخ کے شعبے میںپورے یورپ کاانتہائی معتبر نام ہے ۔ والٹیئر روشن خیالی کی ممتا ز تحریک(1601-1800)کا نمایاں علمبردار تھا ۔ والٹیئر نے ہر قسم کے خُرافات ، توہمات اور دیومالائی قصے کہانیوں کو مسترد کرتے ہوئے چرج ا ور سیاست کو الگ رکھنے کی تحریک میںقائدانہ کردار ادا کیا۔والٹیئرانقلاب فرانس (1789) کی انتہائی اہم اور ممتاز شخصیات میں سے ایک تھا ۔ تاہم وہ انقلاب فرانس سے کچھ عرصہ قبل انتقال کرگیا ۔ والٹیئر کی قبر پر فرانس کے علم دوست شہریوں نے ہدیہ تبرک کے طو رپر یہ جملہ کندہ کررکھا ہے کہ یہ وہ شخص ہے جس نے ہمیں آزاد ی سے روشناس کرایا ۔ جس کاذکر کچھ یوں ہے

“Poet ,Philospher and historian, he made a great step forward in the human spirit.He prepared us to become free.”

والٹیئر کی شاہکار ادبی تحریروں میںطنز کو خصوصی حیثیت حاصل ہے اور والٹیئر کے طنز اور تنقیدی نِشتر حکمران طبقہ اور مذہبی اجارہ داری پر تیر کی طرح لگتے ہیں ۔ شاید اسی مناسبت سے کسی نے کہا کہ والٹیئر کی دلیری وشجاعت کو داد نہ دینا بیوقوفی ہے ۔ والٹیئر کے اس طنز وتنقید کے باعث اسے کئی بار شہر بدر اور ملک بدر کیاگیا ۔ مرنے کے 13برس بعد والٹیئر کی لاش کوفرانس کے پایہ تخت پیرس لاکر قومی اعزاز وتکریم کے ساتھ دفنایا ۔ تقریباً دس لاکھ افراد جنازے کی تقریب میں شریک تھے ۔ پادریوں اور شاہ پرستوں نے پھر بھی والٹیئر کو نہ بخشا اور اس کے جنازے کی تاریخی تقریب کو فضول خرچی اور بے جا اسراف سے تعبیر کیا ۔ پشتو کے معروف خلقی شاعر سلیمان لائق نے بجا کہا ہے کہ ’’دشمن میرے خلاف کوئی بھی حربہ استعمال کرے میں نے عوام کوبولنے کیلئے جگادیا ہے‘‘

واضح رہے کہ جے جے روسو((1712-1778) کی علم ودانش ، سوشل کنٹریکٹ اور انقلاب فرانس کے حوالے سے شاندار خدمات ہیں لیکن والٹیئر نے ان کی خدمات کااعتراف کرنے کے ساتھ نئی تہذیبی تبدیلیوں سے گریز کے ر جحان کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے اس خدشے کااظہار کیا کہ جے جے روسو کی فکر پر عمل کرنے سے انسان پیچھے کی طرف جاکر محض چوپائے کی شکل دوبارہ اختیار کیا جاسکتا ہے ۔

پرولتاری تاریخ کے مفکر اعظم کارل مارکس پہلا فلاسفر ہے جس نے صحیح معنوں میں سامراجی واستحصالی قوتوں کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ انہوں نے 1848 ء میں شہرہ آفاق کتاب’’ دی کمیونسٹ مینی فیسٹو‘‘ قلمبند کی تو سرمایہ دار انہ دنیا میں تہلکہ مچ گیا اور کہا جانے لگا کہ یورپ پر کمیونزم کابھوت منڈلا رہا ہے ۔ کارل مارکس کی موجود سسٹم اینڈ سٹیٹس کو کے خلاف تصانیف کے سامنے آنے کے بعد ترقی یافتہ ملکوں کی حکومتوں نے یکے بعد دیگرے اس پر زمین تنگ کردیا ۔ جرمنی سے نکال کر فرانس ، جنیوا اور بلاآخر لندن میں پناہ گزین رہے اور خود انگلینڈ میںجلاوطنی کے چونتیس برس مسلسل انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارتا رہا ۔ فریڈرک اینگلز کے علاوہ کوئی دوسراآدمی اس کامددگار نہ تھا ۔ آج انٹرنیشنل کمیونیکشن ذرائع کی رائے کے مطابق اپنی پیدائش سے لے کر آج تک پرولتاریہ کیلئے سب سے متاثر کن اور بورژوا کیلئے سب سے خطرناک شخصیت ہے ۔

کارل مارکس کے نظریہ کو عملی شکل دینے والی پہلی شخصیت ولاد میر لینن ((1877-1924)کی ہے جس نے مارکس ازم کے نظریہ کو روس کے مخصوص حالات میں نہ صرف نافذ کرنے کی شعوری جدوجہد کی بلکہ زارڈم آف رشیا کے خلاف بغاوت کاپرچم بلند کیا ۔ ایک انقلابی تنظیم کی تشکیل نے لینن کو جداگانہ امتیاز بخشا ۔ انقلابی تنظیم کی بدولت روس میںپہلا سوشلسٹ انقلاب برپا ہوا ۔ انقلاب سے پہلے زارروس نے ولاد میر لینن کی انقلابی سیاسی سرگرمیوں کے پیش نظر گرفتار کیا ۔ ایک سال جیل میں رکھنے کے بعد اس کو دنیا کے سرد ترین علاقے سائبریا منتقل کردیا جہاں تین سال قید وبند میں گزارنے کے بعد مغربی یورپ چلاگیا ۔ زندگی کے نشب وفراز اور انتہائی کٹھن حالات میں لینن کی شریک حیات ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ رہیں ۔ یہ بات عیاں ہے کہ جلاوطنی کے دوران تنگدسی اور معاشی مشکلات بھی کسی مرحلے پر ان کی ہمت پست نہ کرسکی ۔

محکوم اقوام کے علمبردار جوزیف اسٹالن (1877-1953)سے اپنے وقت کامرد آہن بھی کہاجاتا ہے ۔ لینن کے جانشین ، کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل اور سوویت یونین کا سربراہ تھا ۔ اسٹالن نے انقلاب کی تعمیر سے لیکر مارکسی نظریہ اور انقلابی تنظیم کے دفاع اور استحکام تک ہر محلے میں جس دلیری اور دانشمندی کامظاہرہ کیا ۔ اس سے سرمایہ دار دنیا پر آج بھی کپکپی طاری ہوجاتی ہے ۔ سائبریا اور دیگر علاقوں میں قید وبند کاٹنے اور خونی مناظر کاحوصلہ سے سامنا کرنے کے بعد اپنی طویل سیاسی جدوجہد اور شاندار ترقی کی بنیاد پر سوویت کاقومی رہنما قرار پایا ۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمن فوجوں نے دیگر فوجیوں کے ساتھ اس کے بیٹے کو رہا کرنے کی پیش کش کی تو حب الوطنی کے جذبے سے سرشار اسٹالن نے اپنے بیٹے کے عوض قید جرمن جرنیلوں کا سودا کرنے سے انکار کردیا جس کے نتیجے میں بلاآخر جرمن نازیوں نے اسٹالن کے بیٹے کوانتہائی بے دردی سے ٹکڑے ٹکڑے کرکے مارڈالا ۔

فکر وقلم کی آزادی اور دنیا کی سب سے بڑی آبادی چائنا کو ’’ذلت کی صدی‘‘ سے نکال کر عظمت کی راہ پر گامزن کرنے کاسہرا چیئرمین مائو (1893-1976)کے سرجاتا ہے ۔ بقول چیئرمین مائو ایک بارچین کے عوام کو اقتدار مل جائے پھر چین مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کی مانند دنیا کے کونے کونے کومنور کریگا ۔ دنیا کی محکوم اقوام کو آزاد ی دلانے اور انقلابی نظریہ ومبارزہ کو تحفظ و دو ام دینے کے حوالے سے موجود چائینز قیادت کا امتحان شروع ہوچکا ہے ۔ بہر حال اپنی قوم کی سیاسی ومعاشی نجات کیلئے چیئرمین مائو نے جو قربانیاں دی ہیں وہ دنیا کی تاریخ میںبہت کم نظرآتی ہیں۔

سنہ 1934ء میں دس لاکھ افراد لانگ مارچ میں حصہ لیکر 370 دن میں ہزاروں کلومیٹر فاصلے طے کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی ۔ اس لانگ مارچ کے دوران عوام اور انقلابی کارکنوں کے علاوہ چیئرمین مائو نے ذاتی طور پر جو قربانیاں رقم کیے وہ بے مثال ہیں ۔ ان کی بیوی ، بیٹے ، بہنیں اور خاندان کے متعدد افراد اس انقلابی جنگ میں جان کی بازی ہار گئیں ۔ یہاں تک کہ چیئرمین مائو کاایک شیر خوار بچہ جو زندہ بچ گیا اس کی پرورش بھی چو این لائی کی بیگم نے کی ۔

فکر وقلم کی آزادی کے حوالے سے چی گیوارا اور فیڈرل کاسترو کاذکر نہ کرنا بے انصافی ہوگی ۔د ونوں فکر وعمل میںاس طرح متحد اور پیوستہ رہے کہ انہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا اگرناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضروری ہے ۔ چی جونوجوانی میں بلوویا کے نامکمل انقلاب کے دوران شہید کیا۔ آج بھی امریکا سمیت دنیا بھر میں جوانواں کا مقبول ترین شخصیت ہیں ۔ چی اپنی نظری اور فکری وعملی جدوجہد میں اس قدر کھو گیا تھا کہ اس کیلئے انسانی برادری کے علاوہ اپنا خاندان خاص طو رپر اس کی اہلیہ بھی اس کی عدم توجہی کاگلہ مند تھی۔

بسطیتا (1952-1959)کی خاندانی حکمرانی کوختم کرکے کیوبا ہی میں انقلاب برپا ہوا تو انقلابی تعمیر وترقی کیلئے چی کو اعلیٰ ذمہ دایاریاں دی گئیں لیکن اس کو ٹھہرائو پسند نہیں تھا اور اس کی طبیعت میں جوانقلابی رومانویت تھی اس نے چی کو ریاستی دائرے تک محدو ہونے تک نہیں دیا ۔بعض عناصر چی کی اسی صفت کو ایڈونچر زم بھی قرار دیتے ہیں ۔ انقلاب کے اسے جذبے وجنون نے چی کو وزارت چھوڑ کر بلوویا کے جنگلوں میںجانے پر مجبور کیا جہاں سی آئی اے کے ایجنٹوں نے اسے گھیرے میںلے کر مارڈالا ۔ مرنے سے چند لمحے قبل زخمی چی نے انپے دشمنوں کو للکارتے ہوئے تاریخی جملہ ادا کیا ۔ بزدلو ! تم ہمیں مارتوسکتے ہو لیکن ہمارے نظریات کو ختم نہیں کرسکتے ۔

اظہار کی آزادی اور انسانی نجات کاسفر اب بھی جاری ہے اور محکوم اقوام اور محروم طبقات کی سیاسی و معاشی غلامی کے خاتمے کیلئے دنیا کے مختلف حصول میں علم وادنش کے حامل افراد ، سیاسی کارکن ،خلقی دانشور ، کمیسار ، فلاسفر ، صحافی اور زیارکش اولس اپنے مقاصد وہداف کے حصول کیلئے قربانیاں بھی دے رہے ہیں ۔ ضروری ہے کہ ہم سب مل کر فکر وقلم کی آزادی کے ہیروز کی روشن خیالی اور ترقی پسندی کے سلسلے کوآگے بڑھا کر انسانی ضروریات اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اپنی اگلی منزل کی جانب قدم بڑھائیں ۔

اپنی اس کاوش کااختتام پشتو زبان کے ایک شاعر کے شعر پر کرتا ہوں جس کااردومیں مفہوم یوں بنتا ہے کہ ہمنے متعدد رکاوٹوں کوہموار کرکے راستہ روشن کردیا اب قافلے بلا خوف وخطر اپنا مزل اپنی منزل کی جانب رواں دواں رکھیں۔

2 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *