سرائیکی نیلی اجرک،سندھی ٹوپی اجرک، بلوچی پگڑی، پشتون کلہ ٹوپی ہوشیار باش

شہزاد عرفان

سندھ کے عوام پر یہ سب سے بڑا اور خطرناک حملہ ہوا ہے اس گھناؤنے جرم کےارتکاب کی جرات تو آج تک کسی آمر نے نہیں کی خبر کے مطابق وفاقی حکومت کی درخواست پر سندھ حکومت نے صوبے کی جامعات میں علاقائی قومی پروگرامز جس میں ہر طرح کے نیشنل ایونٹس شامل ہیں پر پابندی عائد کردی ہے۔

وفاقی محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل سیکریٹری سلیم احمد رانجھا نے چیف سیکریٹری سندھ ممتاز شاہ کو ایک مراسلہ بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سیکورٹی ایجنسی کے ذریعے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ جامعات میں علاقائی قومی پروگرامز منعقد کیے جا رہے ہیں، نسلی اور فرقہ وارانہ نوعیت کے ایسے پروگرامز کے نتیجے میں قوم پرستانہ و لسانی نوعیت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں لہٰذا یہ بات آپ کے علم میں لائی جاتی ہے کہ اپنے تعلیمی اداروں میں ایسی لسانی / علاقائی / فرقہ ورانہ نوعیت کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کریں، مزید برآں ایسی سرگرمیوں میں شامل ہونے والے طلبا سے کہا جائے کہ وہ شرکت س ے گریز کریں۔

واضح رہے کہ سندھ کی کئی جامعات میں سندھی ٹوپی اجرک ڈے، بلوچی ڈے، وائٹ ڈے سمیت علاقائی قومی پروگرامز منعقد ہوتے ہیں تاہم اب جامعات میں اس کی اجازت نہیں ہوگی اور جامعات کی انتظامیہ اس طرح کے پرگرام کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائی کرے گی۔ یعنی اب سیکیورٹی ایجنسیاں یہ طے کریں گی کہ قومی ثقافتی پروگرامز لسانی اور فرقہ واریت پر مبنی ہوتے ہیں ؟ کیا یہ طے کرنا کسی سیکورٹی ادارے کا کام ہے؟

عوام تو آج تک یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ مشرقی پاکستان اور کشمیر کتنے میں بیچا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری کس نے پوری کرنی تھی ؟ اس کا جواب ندارد ہے ۔ پاکستان کا ستر فیصد کل بجٹ سیکورٹی اداروں پر خرچ ہوتا ہے ملک کا دیوالیہ نکل گیا ہے سیکیورٹی ایجنسیاں ہاؤسنگ پراجیکٹ سے لے کر دوھ بسکٹ قربانی کی کھالوں کی خریدو فروخت میں مصروف ہیں ۔انھیں سندھی ٹوپی اجرک اور پشتون کی ٹوپی کلہ اور بلوچ کی پگڑی سے ڈر لگتا ہے ؟

آج یہ سندھ پر ہوا ہے کل یہ قانون پاکستان بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں نا فذ العمل ہوگا جسکا مقصد نوجوان نسل کوتعلمی اداروں میں اپنی دھرتی کی ثقافت اور اسے سے جڑے ہزاروں سالہ مقامی بیانیہ سے دور رکھنا ہے تاکہ ان سے ان کی مقامی شناخت نوچ لی جائے ان کی مادری زبان جس میں ان کے درد اور خوشی کا اظہار ہوتا ہے اسے تالا لگا دیا جائے۔

اس مذموم حرکت سے مقامی بیانیہ کا گلہ گھوٹنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ نوجوان نسل کو اس دھرتی کی حقیقی مقا می مزاحمتی تاریخ ، ثقافت ادب زبان اور اسکے اظہار سے دور کیا جاسکے عوام ہر سطح پر ایسے قانون کی مخالفت کریں گے یہ پاکستان میں قومی شناخت کے بنیادی حقوق کے خلاف ایک سازش ہے اور اقوام متحدہ کے بنیادی انسانی حقوق کے چارٹر کے خلاف ریاست کی اپنے عوام کے خلاف گھناؤنی چال ہے۔

مقامی ثقافت کے اظہار کے خلاف یہ آمرانہ حکم کل پاکستان کے ہر شہر گلی محلہ گاؤں کے ہرشخص پر نافذ کیا جائے گا ۔ اب یہ روز روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے کہ پاکستان میں حکومت کسی جمہوری ادارے کی نہیں بلکہ باوردی بندوق بردار سیکورٹی ادارے ہی اس ملک کو چلا رہے ہیں ۔ اس کالے قانون کے خلاف پاکستان بھر کے تمام طلبا اور روشن خیال عوام کو سندھی عوام کا ساتھ دینا چاہیے ورنہ یہ عفریت ایک دن بلوچوں اور پشتونوں کی طرح تمام سرائیکیوں کو بھی زندہ نگل لے گا ۔

2 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *