کورونا کے علاج کے لیے ملیریا کی دوا پر پابندی

فرانسیسی حکومت نے ملک میں کووڈ انیس کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی ایک دوا ہائیڈروکسی کلوروکین پر پابندی عائد کر دی ہے۔ محققین کے مطابق ملیریا کی اس دوا کے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

فرانس نے کووڈ انیس کے مریضوں پر ملیریا کی دوا ہائیڈروکسی کلوروکین کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ فرانسیسی حکومت کے نئے قواعد کے مطابق ڈاکٹروں کو کووڈ انیس کے مریضوں پر مزید یہ دوا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ دو فرانسیسی مشاورتی اداروں نے کہا ہے کہ ہائیڈروکسی کلوروکین کے استعمال سے  صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

فرانس نے مارچ کے اواخر میں بعض مخصوص حالات اور صرف ہسپتالوں میں ہائیڈروکسی کلوروکین کے استعمال کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او پہلے سے ہی سلامتی کے خدشات کے باعث ہائیڈروکسی کلوروکین کے کورونا مریضوں پر ٹیسٹ بند کر نے کا اعلان کر چکا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جب تک اس دوا کے محفوظ ہونے کا علم نہیں ہو جاتا تب تک مختلف ممالک میں مریضوں پر ملیریا کی اس دوا کے تجربات بند رہیں گے۔

برطانوی طبی جریدے دی لانسیٹ‘ نے ایک تحقیق کے حوالے سے بتایا تھا کہ اس دوا سے ممکنہ طور پر اموات کی شرح میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس دوا سے دل کی دھڑکن میں غیرمعمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس دوا کے صحت پر منفی اثرات مرتب ہونے کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ کی طرح بعض عالمی رہنماؤں نے کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے ہائیڈروکسی کلوروکین کے ٹیسٹ کی حمایت کی تھی۔

واضح رہے دنیا بھر میں ابھی تک کووڈ انیس کے خلاف کسی قسم کی ویکسین یا پھر علاج کی حتمی طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ یہ مہلک مرض اب تک ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے۔

DW.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *