الحاد کیا ہے؟

زبیر حسین

الحاد مذہب یا ایمان کی ضد ہے۔ مذہبی عقائد میں سب سے اہم خدا پر ایمان لانا ہے۔ الحاد میں نہ تو مذہبی عقائد ہیں اور نہ ہی خدا کا وجود۔ الحاد اتنا ہی قدیم ہے جتنا مذہب۔ کبھی ایمان والے سینکڑوں بلکہ ہزاروں دیوتاؤں یا خداؤں کو  مانتے اور ان کی پرستش یا پوجا کرتے تھے۔ ملحد ان دیوتاؤں اور خداؤں کو تصوراتی یا افسانوی کردار قرار دے کر مسترد کر دیتے تھے۔ نیز وہ عقل و شعور سے رہنمائی حاصل کرنے پر زور دیتے تھے۔ عقیدہ توحید یعنی ایک خدا پر ایمان اور اس کی عبادت کا آغاز فرعون مصر آمین ہوتپ کے دور میں ہوا۔ جلد ہی ایران کے پارسیوں نے بھی اس عقیدے کو اپنا لیا۔ 

ابتدا میں مذاہب اور الحاد ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ جب عیسائیت رومن امپائر کا سرکاری مذہب بنی تو ملحدوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی۔ وہ قتل ہوئے یا جلاوطن۔ سب سے اہم کیس برونو کا ہے جسے پادریوں نے پہلے اذیتیں دیں اور پھر زندہ جلا دیا۔  سولہویں اور سترویں صدی میں ہونے والی مذہبی جنگوں نے مذہبی پیشواؤں کی گرفت ڈھیلی کر دی اور الحاد کو پھر پھلنے پھولنے کا موقع مل گیا۔

کیا ملحدوں کے بھی فرقے ہیں؟

ایمان والوں کی طرح ملحد بھی گروہوں یا فرقوں میں تقسیم ہیں۔ ان کے پانچ بڑے فرقے ہیں۔

لاعلم ملحد: خدا کو نہیں مانتا لیکن خدا کی موجودگی کے امکان کو مسترد بھی نہیں کرتا۔

متشکک ملحد: خدا کے وجود کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا رہتا ہے۔

آزاد خیال ملحد: وہ صرف مذہبی عقائد اور رسومات کی پابندی سے فرار چاہتا ہے۔

انسان دوست یا پرستار انسانیت ملحد: وہ خدا کی بندگی یا عبادت کی بجائے بہبود بشر کا قائل ہے۔

معتقد وحدت الوجود: اسے کائنات کی ہر شئے میں الله کا جلوہ نظر آتا ہے۔ اس عقیدہ یا فلسفہ کے بانی شیخ محی الدین ابن عربی تھے۔ وہ شیخ اکبر ہسپانوی کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ ہندوستان میں خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، خواجہ بختیار کاکی، خواجہ غلام فرید، اور سلسلہ چشتیہ کے صوفی وحدت الوجود یا ہمہ اوست کے قائل تھے۔ ڈچ فلسفی سپینوزا، جرمن شاعر گوئٹے، برٹش شاعر ورڈس ورتھ، کیٹس، اور شیلے، امریکی نثرنگار اور شاعر رالف ایمرسن، اور سائنسدان آئن سٹائن کا شمار بھی وحدت الوجود کے معتقدین میں ہوتا ہے۔

کچھ لوگ ملحدوں کی مزید قسمیں بتاتے ہیں۔ وہ درج ذیل ہیں۔

صوفی ملحد: اس کا نہ صرف عقیدہ بلکہ دعوی ہے کہ خدا کا کوئی وجود نہیں۔

وہابی ملحد: خدا پر ایمان نہیں رکھتا لیکن خدا کے وجود کا منکر نہیں۔  

کمزور ملحد: وہ بس خدا پر ایمان نہیں رکھتا لیکن اپنے اس عقیدے یعنی انکار خدا کا پرچار نہیں کرتا۔

طاقتور ملحد: وہ نہ صرف خدا پر ایمان نہیں رکھتا بلکہ اپنے اس عقیدے کا پرچار بھی کرتا ہے۔

فراخ دل ملحد: تمام مذاہب کے خداؤں کا منکر ہے۔

تنگ دل ملحد: وہ صرف مغرب کے رحیم و کریم، علیم و خبیر، اور ہر شئے پر قدرت رکھنے والے روایتی خدا کا منکر ہے۔

غیر دوست ملحد: اس کا عقیدہ ہے کہ خدا پر ایمان لانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

بے نیاز ملحد: اسے کوئی فکر نہیں کہ لوگ خدا پر ایمان لانے کا جواز رکھتے ہیں یا نہیں۔ وہ خود خدا پر ایمان نہیں رکھتا لیکن وہ خدا پر ایمان رکھنے والوں کی ٹانگیں بھی نہیں کھینچتا۔

دوست ملحد: اس کا خیال ہے کہ کچھ ایمان والوں کے پاس خدا کو ماننے کا جواز موجود ہے۔

خفیہ یا چھپا ہوا ملحد: وہ اپنے ملحدانہ خیالات کو چھپا کر رکھتا ہے۔

کھلا ملحد: وہ اپنے ملحدانہ خیالات کو نہیں چھپاتا۔

خاموش ملحد: خدا کو نہیں مانتا لیکن اپنے ملحدانہ نظریات کی تشہیر یا تبلیغ نہیں کرتا۔

مبلغ ملحد: وہ ایمان والوں کو کھینچ کھینچ کر دائرہ الحاد میں لانے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔

سرگرم ملحد: الحاد کے فروغ کے لئے سرگرم رہتا ہے۔

متشدد ملحد: الحاد کے فروغ اور مذہب کی بربادی کے لئے تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔

مذہبی ملحد: وہ خدا پر یقین نہیں رکھتا لیکن مذھبی فرائض یا رسومات مثلانماز، روزہ، حج، اور قربانی ادا کرتا رہتا ہے۔

غیر مذھبی ملحد: مذہبی رسومات سے دور بھاگتا ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ وہ بھی ابن عربی کے فلسفہ وحدت الوجود کو تسلیم کرتے تھے۔میرے نزدیک اس کا حل وہ ہے جو شیخ ابن عربی نے دیا ہے جو میں بیان کر چکا ہوں کہ حقیقت و ماہیت کے وجود کے اعتبار سے خالق و مخلوق کا وجود ایک ہے۔ کائنات میں وہی وجود بسیط سرایت کئے ہوئے ہے“۔

رئیس الملحدین ابو العلاء المعري فرماتے ہیں کہ دنیا میں انسانوں کی صرف دو اقسام ہیں. پہلی قسم ان انسانوں کی ہے جن کے پاس دماغ ہے لیکن مذہب نہیں۔ دوسرے قسم میں وہ انسان ہیں جن کے پاس مذہب ہے لیکن دماغ نہیں۔

 

خواجہ غلام فرید کے ان اشعار میں ابن عربی کی تقلید اور فلسفہ وحدت الوجود کا تصور نمایاں ہے۔

ٹھپ فقہ اُصول عقائد نوں
رکھ ملت ابن العربی دی
ہے دلڑی غیروں پاک تری
مصباح عجب مشکوٰۃ عجب

ہر صورت وچ دیدارِ ڈٹھم
کل یار اغیار کوں یار ڈِٹھم 

کتھ پھل گل باغ بہار ڈٹھم
کِتھ بلبل زار نزار ڈِٹھم
کِتھ خس خاشاک تے خارِ ڈٹھم
ہک نور دے سَبھ اطوار ڈِٹھم

تینوں عرش کہوں افلاک کہوں
تینوں ناز نعیم جنان کہوں
تینوں تت جماد بنات کہوں
حیواں کہوں انساں کہوں
تینوں مسجد مندر دیر کہوں
تینوں پوتھی تے قرآن کہوں

 

 

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *