ارطغرل: خلافت عثمانیہ کا ناسٹلجیا

لیاقت علی

ترکی کی ڈرامہ سیریل ارطغرل مقبولیت اور پسندیدگی کے اعتبار سے بلندیوں کی چھو رہی ہے۔ پاکستان کے ڈرامہ شائقین اس کے دیوانے ہو رہے ہیں۔ عامۃ الناس اس کو محض ڈرامہ کی بجائے اسلام کی فتح اور کفار کی شکست کی تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ قبائلی سازشوں، کشت و خوں، قتل و غارت گری اورفتح و شکست کے مناظر سے بھرپور اناطولیہ کے خوبصورت قدرتی مناظر میں فلمائے گئے اس ڈرامہ سیریل کو مذہبی اصطلاحات میں لپیٹ کر پیش کیا گیا ہے۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کی لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ناظرین کو اس ڈرامے نے اپنے نیم مذہبی مواد، اعلی تکنیکی خوبیوں اور خوبصورت منظر کشی نے اپنی گرفت لے رکھا ہے۔ پاکستانی عوام اس ڈرامے کے کرداروں کو افسانوی سے زیادہ حقیقی کردار سمجھ کر ان کی داد و تحسین کررہے ہیں۔ کل (جمعہ 5 جون) تک اس کی تیس اقساط کو پچپن لاکھ افراد یو ٹیوب پر دیکھ چکے تھے۔

ارطغرل کی مقبولیت کااندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ گھر کے سب افراد اکٹھے بیٹھ کر یہ ڈرامہ دیکھتے اور اسے اسلامی تاریخ کا ایک باب سمجھ کر اس پر خوش ہوتے اور تعریف کرتے ہیں پاکستان میں ارطغرل کی مقبولیت اور پسندیدگی اس کے پروڈیوسرز کے لئے حیران کن تو ہے ہی لیکن وہ اس سے بہت زیادہ خوش بھی ہیں۔ قبائلی ترکوں کا اپنے ملک کے دفاع کے لئے کی جانے والی جنگ و جدل کا ایک دور دراز ملک میں پرجوش استقبال واقعی حیران کن او ر خلاف توقع ہے۔

کیا ارطغرل کوئی تاریخی کردار ہے؟ بالکل بھی نہیں۔یہ 13ویں صدی کے اناطولیہ کا ایک فرضی کردار ہے جس کے گر د بہت سے افسانے تراش لئے گئے ہیں۔ ارطغرل کے مصنف اور پروڈیوسر محمد بزداگ کا کہنا ہے کہ حقایق اہمیت نہیں رکھتے۔ بزداگ کے مطابق’ہم جو عہد ڈرامے میں پیش کررہے ہیں اس کے بارے میں بہت کم مصدقہ معلومات میسر ہیں۔ چار پانچ صفحات سے زیادہ کا تاریخی مواد اُس عہد کے بارے میں موجود نہیں ہے۔ حتی کہ اس عہد بارے جو مختلف تاریخی ماخذ موجود ہیں ان میں نام بھی مختلف ہیں۔

سلطنت عثمانیہ کے بارے میں جو ابتدائی مواد ملتا ہے وہ اس کے قیام کے ڈیڑھ دو سو سال بعد لکھا گیا تھا۔ یہ ڈرامہ تاریخی مواد کی بجائے خوابوں کے سہارے لکھا گیا ہے۔ دراصل یہ ڈرامہ نظریاتی پراپیگنڈا مہم کا حصہ ہے۔ ڈرامے کا ماحول اور اس کے کردار مخصوص مقصد کو پیش نظر رکھ کر تخلیق کیے گئے ہیں لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ مقصد کیا ہے؟ اگر تو اس ڈرامے کا مقصد اسلام کو امن وآشتی کا مذہب ثابت کرنا اور اسلامو فوبیا کو مسترد کرنا تھا تو وہ اپنا یہ مقصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ اس ڈرامے سے تو الٹ نتائج نکلتے ہیں۔

ڈرامے کی پہلی قسط کے پہلے سین میں خانہ بدوشوں کے خیموں کے پاس بہت سے لوگ تلواریں بنانے اور انھیں تیز کرتے نظر آتے ہیں۔ ترک قبیلے کے مخالفین مسیحی اور بازنطینی ہیں دکھائے گئے ہیں جن کی لاشیں ہر لڑائی کے بعد ادھر ادھر بکھری نظر آتی ہیں۔ڈرامے کا ہیرو ارطغرل غازی نہ صرف اپنے مخالفین کے سر قلم کرتا دکھایا گیا ہے بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرتا ہے جن کی وفاداری اس کے نزدیک ہے۔

اس ڈرامے میں جو ماحول دکھایا گیا ہے اور قتل و غارت گری کے واقعات کی جس انداز میں تعریف وتحسین کی گئی ہے اس سے داعش جیسی تنظیموں کا انسپائر ہونا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔ کیا اسلام کی سر بلندی تلوار لہرانے اور لوگوں کے گلے کاٹنے میں ہے؟اسلام کو قبائلی لڑائیوں کے پس منظر اور ہاتھوں میں تلواریں تھامے نام نہاد مجاہدین کی بجائے بہت سے دیگر مثبت حوالوں سے پیش کیا جاسکتا ہے۔اگر ترک تاریخ کو ہی دکھانا مقصود تھا تو بہتر ہوتا کہ علی خوشوگی،تقی الدین اور الجزیری کو موضوع بنایا جاتا۔

ترک ثقافت اور عربی اسلامی ثقافت کے باہمی اختلاط نے جو رنگا رنگی اور تنوع پیدا کیا اس کے گرد ڈرامہ لکھنا اور پروڈیوس کرنا زیادہ مناسب ہوتا۔میرے خیال میں ارطغرل کا تعلق اسلام سے زیادہ سلطنت عثمانیہ کے عروج سے وابستہ ناسٹلجیا سے ہے۔ ایک ایسا ناسٹلجیا جسے یاد کرکے ترک آہیں بھرتے ہیں۔ ارطغرل ترکی کی ریاست نے اس ڈرامہ کی تیاری میں بہت بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔گھوڑوں کا سٹڈ فارم بنایا گیا۔ ایک چڑیا گھر جس میں رنگ برنگ پرندے لائے گئے اور ہالی وڈ سے سٹنٹ ورکرز ایک خصوصی ٹیم نے ڈرامے کے کرداروں کو باقاعد ہ تلوار اور نیزہ بازی کی تربیت دی۔

اردگان اور ان کی بیوی اکثر و بیشتر ڈرامے کی فلم بندی دیکھنے کے لئے سیٹ پر جاتے رہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں پسند کیے جانے والے اس ڈرامے کو متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مصر نے مسترد کردیا ہے۔ مصر نے اسے عثمانیہ سلطنت مسلط کرنے کی خواہش قرار دیا ہے۔ سعودی عرب نے اس ڈرامے کے خلاف ڈرامہ بنانے کے لئے چالیس ملین ڈالرز کی رقم مختص کی ہے۔ وہ عرب ممالک جنھوں نے خلافت عثمانیہ سے آزادی حاصل کی تھی وہ اس خلافت سے وابستہ کسی شخصیت کو خواہ وہ افسانوی ہی کیوں نہ ہو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں عرب ممالک کے برعکس پاکستان میں غیر ملکی حملہ آوروں کو پسند اور اور ان کی تعریف و توصیف کرنے کا کلچر بہت عام ہے۔

محمد بن قاسم، محمود غزنوی یا بعد میں آنے والے ترک، مغل اور افغان حملہ آور سبھی ہمارے ہاں ہیرو سمجھے جاتے ہیں۔ اور تو اور ہمارے وزیراعظم نے اپنی ایک ٹویٹ میں چھ سو سال تک ہندوستان پر ترک قبضے پر اظہار مسرت کیا تھا اور عوام کواس ڈرامے کو دیکھنے کی ترغیب انھوں دی تھی۔

پاکستان نے سعودی اسلام کو پریکٹس کرکے دیکھ لیا اس کی بدولت ملک میں فرقہ واریت میں اضافہ ہوا اب ہمارے حکمران ترک ثقافت کو متعارف کرانا چاہتے ہیں جو ہمیں اپنی ثقافت سے مزید دو ر لے جانے کا باعث بنے گی۔ پاکستان کو سعودی اور ترک ثقافت نہیں صدیوں سے پاکستان میں شامل علاقوں کی ثقافت اپنانے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *