پاکستانی لیفٹسٹ اور بلوچ مسئلہ


 آصف بلوچ

بلوچ کا مسئلہ طبقاتی نہیں بلکہ قومی ہے، بلوچ کا طبقاتی استحصال نہیں قومی استحصال ہورہا ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ قابض اور مقبوضہ کا ہے، بلوچستان پر جبری قبضہ ہوا ہے، اس کے خلاف بلوچ سراپا مزاحمت ہیں۔ بلوچ قومی سوال سے انکار بلوچ وجود، بلوچ قومی تحریک، نوآبادیاتی قبضہ، استحصال سے انکار کے مترادف عمل ہے۔

سابق بیورو کریٹ کہور خان ایک انٹرویو میں کہہ رہے تھے کہ بلوچستان میں طبقاتی مسئلہ موجود ہے، ماہی گیر ایک طبقہ ہے، کسان ایک طبقہ ہے، سرکاری ملازم بھی ایک طبقہ ہے۔ ان کا استحصال ہورہا ہے بالکل بلوچستان میں ماہی گیر، کسان، ملازم اور بے روزگار موجود ہیں لیکن ان کا استحصال مقامی سطح پر کوئی سرمایہ دار اور جاگیردار نہیں کررہا ان کے استحصال میں بھی قابض ریاست ملوث ہے، سی پیک منصوبے کے ذریعے گوادر میں ماہی گیروں کو چین اور پاکستان ملکر بے روزگار کررہے ہیں، انکا استحصال کررہے ہیں۔

کسانوں کا استحصال بھی قابض ریاست کررہی ہے، بجلی اور دیگر زرعی آلات کی عدم فراہمی کے ذریعے کسانوں کا معاشی قتل عام کیا جارہا ہے۔ حقوق مانگنے پر میاں غنڈی کے مقام پر زمینداروں کو جاگیرداروں نے نہیں ریاست نے قتل کیا، اس طرح ملازم بھی ریاست کی مظالم کے شکار ہیں، بےروزگاری کا مسئلہ بھی ریاست کا پیدا کردہ ہے۔ بلوچ قوم کی مجموعی استحصال پاکستان کررہی ہے۔

بقول کہور خان سردار، نواب بلوچ قوم کے استحصال کا ذمہ دار ہیں، کہور خان سے گزارش ہے تین سردار جو ریاست کو کھٹکتے ہیں ان کو چھوڑ کر باقی ماندہ تمام سردار قابض کے وفادار ہیں، اگر وہ کسی بلوچ کا استحصال کرتے ہیں، ظلم کرتے ہیں ان کو بھی ریاستی طاقت و آشیرباد حاصل ہے، ریاستی طاقت کے بل بوتے پر وہ لوگوں پر مسلط ہیں، استحصال کا سب سے بڑا ذمہ دار پاکستانی اسٹبلشمنٹ اور ریاست ہے لیکن آپ جناب اس ریاست کے ملازم بن کر استحصالی نظام میں حصہ دار رہے ہیں۔

سرداروں کو تو استحصال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں لیکن ثناء اللہ زہری جیسے ریاستی سردار سے تحفے تحائف آپ جناب وصول کرتے رہے، آپ کے لئے بلوچستان سروس ایکٹ تک تبدیل ہوا اور آپ کو عمر میں رعایت دے کر ملازم بھرتی کیا گیا اس کے بدلے آپ نے اپنے ساتھیوں کو بی این پی کی جھولی میں ڈال دیا، سوشلزم کا میں مخالف نہیں ہوں ایک نظریہ ہے لیکن بلوچ قوم کے قومی ضروریات سوشلسٹ نظریہ و انقلاب سے وابستہ نہیں ہیں۔

سوشلسٹ انقلاب کا روس اور چین میں جو حشر نشر ہوا اب یہ خطہ مجھے نہیں لگتا سوشلسٹ انقلاب کا متحمل ہوسکتا ہے، سوشلسٹ روس اور سوشلسٹ چین کو سوشلزم سے  کمیونزم کا سفر طے کرنا تھا لیکن کیمونزم دور کی بات ہے یہ دوبارہ سرمایہ دارانہ نظام کو اپناکر خطے میں سامراجی استحصالی قوت کے طور پر ابھر چکے ہیں، آج ماؤ کا چین استحصالی روپ دھار چکا ہے۔ قوم پرستوں کو امریکا اور دیگر قوتوں کے ہمنوا قرار دینے والے بلوچستان میں چین کی موجودگی، لوٹ مار اور استحصال کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور سی پیک اور لوٹ مار کے بارے میں سرخے بھائی کیا موقف رکھتے ہیں؟

سنہ80 کے دہائی میں یہ ٹولہ قوم پرستوں کو سامراج نواز قرار دیتے تھے لیکن خود کہور اور رازق بگٹی سوشلزم سمیت پاکستان نواز بن کر فوج کو پیارے ہوگئے۔ رازق بگٹی بلوچ نسل کشی میں حصہ دار بننے پر مارے گئے۔ پاکستان میں میں جو لیفٹ کی تنظیمیں اور پارٹیاں اور سوشلسٹ نظریہ کے پیروکار ہیں انھوں نے فوجی ایلیٹ سے ملکر سوشل ازم کا وہ حال کیا ہے جس طرح پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے اسلام اور اسلامی نظریات کا حالت خراب کیا ہے۔

پاکستانی سوشلسٹ پنجابی فوج کو مزدور قرار دے کر ان کے بلوچستان میں تمام مظالم، جبری گمشدگیوں، اجتماعی قبروں، نوآبادیاتی طرز استحصال، لوٹ مار، نسل کشی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو جائز سمجھتے ہیں۔ بلوچ قومی مزاحمت کے حد تک پاکستانی سوشلسٹوں، جماعتہ الدعوہ اور جماعت اسلامی کی موقف میں مماثلت و یکسانیت پائی جاتی ہے، یہ مذہبی اور سوشلسٹ رجعت پسند بلوچ مزاحمت کو دہشت گردی سے تعبیر کرکے بلوچوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو جائز سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک آزادی کی لڑائی لڑنے والے بلوچ دہشت گرد اور قبضہ گیر پنجابی فوج معصوم ہے۔

نیشنل ازم کے بارے میں بھی پاکستانی سرخے اور مذہبی رجعت پسند ایک پیج پر ہے، نیشنلسٹوں کو نسل پرست اور فاشسٹ قرار دیتے ہیں۔ طبقاتی و مذہبی تضادات کو ابھارنے کا ان کا مقصد بلوچ قومی تحریک کو کمزور کرنا اور بلوچوں کو مختلف طبقات میں تقسیم کرکے ان کی قومی قوت کو منتشر کرنا مقصود ہے، بلوچ سماج میں طبقاتی تضادات، مذہبی تضادات اور لسانی تضادات کو ابھارنے والی تنظیموں کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل ہے۔

اگر پاکستانی سوشلسٹ  حقیقی سوشلسٹ، لینن و مارکس وادی ہوتے تو مظلوم قوموں کے تحریکات کے مخالفت کرنے، سرکاری عہدہ و مراعات حاضل کرنے کے بجائے قومیتوں کے قومی سوال کو تسلیم کرتے پاکستانی قومیت کا پرچار نہیں کرتے بلکہ نوآبادیاتی جبر اور ریاستی مظالم کے خلاف بلوچ، پشتون اور سندھیوں کے ساتھ کھڑے ہوتے، ملک ناز اور کلثوم کی ریاستی ڈیتھ اسکواڈز کے ہاتھوں قتل پر سوشلسٹوں اور فیمنیسٹوں کی خاموشی انکی اصل چہروں اور حقیقت کو فاش کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *