فرانس میں اسلام پسندوں کے خلاف کاروائی شروع ہوگئی ہے

خالد تھتھال

فرانس کے مختلف شہروں میں اتوار کے روز ہزاروں افراد نےدرجنوں ریلیاں نکالی ہیں، جس میں آزادای اظہار کی حمایت اور مقتول استاد سیموئل پاتی کو تعظیم دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون پر اس وقت شدید دباؤ ہے کہ وہ اسلام پسند دہشت گردانہ حملوں کے سلسلے کے اس تازہ ترین واقعے پر سخت ردعمل کا اظہار کریں۔ کیونکہ چارلی ہیبڈو کے قتل عام کے بعد یہ دوسرا واقعہ ہے جس نے پورے فرانس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اس مہینے کلاس میں آزادی اظہار سے متعلق ہونے والے مباحثے میں استاد سیموئل پاتی نے کچھ کارٹون اور تصاویر دکھائی تھیں، جن میں دو تصاویر پیغمبر اسلام کی بھی تھیں جو چارلی ہیبڈو نامی طنزیہ رسالے میں 2015 میں چھپ چکی تھیں۔ ان کارٹونز کے نتیجے میں فرانس میں دہشت گردی کا ایک بہت بڑا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں مسلمان بندوق بردار نے 12 لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

استاد کی دکھائی گئی ان تصاویر کی وجہ سے 18 سالہ چیچن نژاد طالبعلم عبداللہ آنزروف نے طیش میں آ کر استاد کا گلہ کاٹا اور اپنے موبائل سے استاد کے کٹے ہوئے گلے کی تصویر کو ٹوئٹرپر اس عبارت کے ساتھ پوسٹ کیا، ”میں نے ایک جہنمی کتے کو قتل کر دیا ہے جس نے محمد کی شان میں گستاخی کرنے کی جرأت کی تھی“۔

چارلی ہیبڈو کے حملے کے بعد سے اب تک 240 سے زیادہ افراد اسلامی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں، اور حزب اختلاف، خصوصی طور پر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاست دان حکومت کو فیصلہ کن اقدام اٹھانے کے بجائے ”الفاظ کی جنگ لڑنے“ کا الزام دے رہے ہیں۔

سنٹر لیفٹ کی پارٹی لے ریپبلیکنز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر برونو ریتالیو نے کہا کہ میکرون ”ذخیرہ الفاظ کی جنگ لڑ رہے ہیں ، حالانکہ ملک کا ایک حصہ فرانسیسی جمہوریہ کی بنیادی اقدار کو پامال کررہا ہے“۔

انتہائی دائیں بازو کی نیشنل ریلی نام جماعت کی رہنما ، میرین لی پین نے پاتی کے اسکول کے باہر پیر کو پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اُنھوں نے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لئے ” حالت جنگ کی مناسبت سے قانون سازی“ کرنے کا مطالبہ کیا اور امیگریشن سے متعلق ایک ”فوری“ قانون سازی اور تمام غیر ملکیوں ،جن پر دہشت گردی کی حوالے سے شک ہے، کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔

عوام میں غم و غصے کی لہر اور سیاستدانوں کے دباؤ کے نتیجے میں فرانس میں اسلامی دہشت گردی کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اتوار کو کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں میکرون نے انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کیا، جس میں ” نفرت پھیلانے اور حملوں کی حوصلہ افزائی کرنے والی تنظیموں، ڈھانچوں اور بنیاد پرست گروہوں سے قریبی تعلق رکھنے والے لوگوں“ کے خلاف ٹھوس اقدامات شامل ہیں۔ میکرون نے مبینہ طور پر وزراء کو بتایا: ”خوف اپنی جگہ بدلنے والا ہے۔ ہمارے ملک میں اسلام پسندوں کو اچھی طرح سے نیند نہیں آنے دی جانی چاہئے“۔

پولیس ذرائع کے مطابق حکام 213 غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جن کی انتہا پسندانہ مذہبی عقائد رکھنے کے شبے میں پہلے سے نگرانی کی جا رہی تھی۔ ان میں پہلے سے قید میں بند لوگ بھی شامل ہیں۔ وزیر داخلہ جیرالڈ درمانن کے بقول ایسا لگتا ہے کہ استاد کے قتل کا فتوی جاری ہوا تھا جس کے نتیجے میں یہ قتل ہوا۔

اس کے علاوہ پیر کے روز ، فرانسیسی پولیس نے متعدد عسکریت پسند اسلام پسندوں کے گھروں پر چھاپہ مارا۔ آن لائن نفرت انگیز تقریر سے متعلق 80 کے قریب معاملات کی تحقیقات کی جارہی ہیں ، اسی وقت حکام اس قتل کے تناظر میں 50 مسلم تنظیموں کا فوری طور پر جائزہ لے رہے تھے ، جن میں سے کچھ کو یقینی طور پر تحلیل کردیا جائے گا۔وزیرداخلہ نے فرانسیسی اسلام پسندوں کو متنبہ کیا ہے کہ ”جمہوریہ کے دشمن ایک لمحہ کی مہلت کی توقع نہیں کرسکتے ہیں“ ، اور مزید پولیس کاروائیاں کی جائیں گی۔

جن تنظیموں کی جانچ پڑتال کی گئی ہے، اُن میں اسلامو فوبیا کے حوالے سے کام کرنے والا ایک ہائی پروفائل گروہ بھی شامل ہے۔ جس کے بارے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ وہ اس حملے میں ”واضح طور پر ملوث“ دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اسکول میں جانے والے ایک بچے کے والد نے ایک آن لائن ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے سیموئل پاتی کا نام دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اسے سکول سے فارغ کرو۔

اس طالب علم کے باپ اور ایک جانے پہچانے اسلامی بنیاد پرست عبدالحکیم سیفروئی کا ایک ایسی تنظیم سے تعلق ہے جو اسلامو فوبیا کے حوالے سے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے باقاعدگی سے سوشل میڈیا کے استعمال کے علاوہ مقامی طور پر مہم چلانے میں پیش پیش ہے۔ جن 11 لوگوں کو اب تک اس قتل کے سلسلے میں گرفتار کیا جاچکا ہے، اُن میں یہ دونوں بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ پندرہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر پاتی کے قتل میں مدد دینے کا الزام ہے، ان میں چار طالبعلم بھی شامل ہیں۔

وزیر انصاف ایرک دوپوں موریتی نے پیر روز ”ہنگامی صورتحال کے لئے درکار اضافی اقدامات“ پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ایک ہنگامی اجلاس میں فرانس کے چیف پبلک پراسیکیوٹرز کو طلب کیا، جس میں فرانس کے اسکولوں میں سیکیورٹی میں اضافہ کرنا طے پایا ۔حکومتی ترجمان گیبرئیل اتال نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جن لوگوں نے استاد کے قتل کی شہہ دی تھی وہ بھی اُس کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔

فرانسیسی صدر ، ایمانوئل میکرون ، نے بدھ کے روز مرنے والے اساتذہ کے لئے قومی خراج تحسین پیش کرنے کا اعلان کیا ہے ، اور پیر کے روز انہوں نے اس استاد کے اہل خانہ سے ایلسی محل میں تعزیت کا اظہار کیا، اور ان کی حمایت کا یقین دلایا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *