امریکی الیکشن 2020 کی ڈائری،

سنہ 2016 کے الیکشن میں ہیلری کلنٹن کے ہارنے کی ایک وجہ سوئنگ سٹیٹس کا الیکٹرول ووٹ بھی تھا۔ یاد رہے کہ سوئنگ ووٹ کا جھگڑا سال 2000 کے الیکشن میں بھی ہوا تھا جب کلنٹن کے نائب صدر الگور بمقابلہ جارج ڈبلیو بش تھا۔اور جارج بش الیکٹرول ووٹ کی دوبارہ گنتی پر صدر قرار پائے تھے۔ یعینہ اسی طرح ہیلری کلنٹن کے ساتھ بھی ہوا تھا،جب کچھ سٹیٹس میں برنی سینڈرز (ایک رائے کے مطابق) کے حامی ووٹر ز نےووٹ نہ ڈالا اور ہیلری کلنٹن کے الیکٹرول ووٹ کم ہوگئے وگرنہ 2016 کے الیکشن میں ہیلری کا پاپولر ووٹ زیادہ تھا۔

یاد رہے کہ امریکہ کی پچاس ریاستیں ہیں، کچھ ریاستوں کو ریڈ (سرخ) سٹیٹس کہا جاتا ہے جہاں ریپبلکنز کی اکثریت ہے اور کچھ ریاستوں کو بلیو(نیلا) سٹیٹس کہا جاتا ہے جہاں ڈیموکریٹکس کو اکثریت حاصل ہے۔ کچھ ریاستیں پرپل(نارنجی) سٹیٹس کہلاتی ہیں جہاں ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس برابر برابر ہوتےہیں۔ ان کو سوئنگ سٹیٹس بھی کہا جاتا ہے جو صدارتی الیکشن میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یعنی وہاں کا ووٹر کبھی ریپبلکن امیدوار کو ووٹ دے دیتا ہے اور کبھی ڈیموکریٹک امیدوار کو۔

اس الیکشن میں سوئنگ سٹیٹس میں پنسلووینیا، وسکانسن، مشی گن، فلوریڈا، آئیوااور ساؤتھ کیرولینا جیسی ریاستیں زیادہ اہم ہیں۔

اب الیکٹرول ووٹ کیا ہے؟امریکی صدارتی الیکشن میں ہر ریاست کو الیکٹرول ووٹ کی تعداد مقرر کی گئی ہے۔ اس کی تفصیل صحافی اسلم ملک صاحب نے لکھی ہے اور میں ترجمہ کرنے کی مشکل سے بچ گیا ہوں۔۔۔۔

اسلم ملک لکھتے ہیں کہ امریکہ میں زیادہ ووٹ لینے والا صدارتی امیدوار ہار بھی سکتا ہے،کم ووٹ لینے والے بھی صدر بن چکے ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں صدر کا انتخاب براہِ راست عام ووٹر نہیں کرتے بلکہ یہ کام الیکٹورل کالج کا ہے۔ اس کالج کے ارکان جنھیں الیکٹر بھی کہا جاتا ہے، وہ البتہ عوام کے ووٹوں سے جیتتے ہیں۔

یعنی جب امریکی عوام صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالنے جاتے ہیں تو دراصل وہ ایسے افراد کے لیے ووٹ ڈال رہے ہوتے ہیں جن کا کام ملک کے صدر اور نائب صدر کو چننا ہوتا ہے۔ووٹر جس بیلٹ پیپر کے ذریعے اپنا ووٹ دیتے ہیں اس پر درج ہوتا ہے الیکٹرز برائے (امیدوار کا نام)’۔

یہ الیکٹرز منتخب ہونے کے بعد دسمبر کے مہینے میں اپنی اپنی ریاست میں ایک جگہ اکھٹے ہو کر صدر کے چناؤ لیے ووٹ ڈالتے ہیں۔ ویسے ظاہر کہ یہ رسمی کارروائی ہوتی ہے۔ ماضی میں یہ الیکٹرز اپنی مرضی سے بھی ووٹ ڈال سکتے تھے لیکن اب قانونی طور پر یہ الیکٹرز صرف اسی امیدوار کے لیے ووٹ ڈال سکتے ہیں جس کے نام پر انھوں نے ووٹ لیے ہیں۔لہذا کسی بھی ریاست میں پڑنے والے ووٹوں سے اندازہ ہوجاتاہے کہ کسی کو کتنے الیکٹرول ووٹ ملے۔

امریکہ کی ہر ریاست میں الیکٹورل کالج کے ارکان کی تعداد اس کی آبادی کے تناسب سے طے ہوتی ہے جبکہ الیکٹرز کی کل تعداد 538 ہے۔

ہر ریاست کی کانگریس میں جتنی سیٹیں ہوتی ہیں اور اس کے جتنے سینیٹر سینیٹ میں ہوتے ہیں اتنی ہی اس کے الیکٹورل کالج میں الیکٹرز ہوتے ہیں۔ یعنی اگر کسی ریاست کی کانگریس میں دس سیٹیں ہیں اور اس کی دو سیٹیں سینیٹ میں ہیں تو اس ریاست سے الیکٹورل کالج میں جانے والے الیکٹرز کی کل تعداد بارہ ہوگی۔

امریکہ میں ریاست کیلیفورنیا کے سب سے زیادہ یعنی 55 الیکٹرز ہیں جبکہ کم آبادی والی ریاستوں جیسے کہ وایومنگ، الاسکا یا شمالی ڈکوٹا میں ان کی تعداد تین ہے جو کہ کسی بھی ریاست کے لیے کم سے کم مقرر کردہ تعداد ہے۔امریکہ کا صدر بننے کے لیے کسی بھی امیدوار کو 538 میں سے 270 یا اس سے زیادہ الیکٹرز کی حمایت درکار ہوتی ہے۔عموماً ریاستیں اپنے تمام الیکٹورل کالج ووٹ اسی امیدوار کو دیتی ہیں جسے ریاست میں عوام کے زیادہ ووٹ ملے ہوں۔

مثال کے طور پر اگر ریاست ٹیکساس میں رپبلکن امیدوار نے 50.1 فیصد ووٹ لیے ہیں تو ریاست کے تمام 38 الیکٹورل ووٹ اس امیدوار کے نام ہو جائیں گے۔صرف مین اور نبراسکا دو ایسی ریاستیں ہیں جو اپنے الیکٹورل کالج ووٹ امیدوار کو ملنے والے ووٹوں کے تناسب سے تقسیم کرتی ہیں۔

اسی لیے صدارتی امیدوار ان ریاستوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں جنھیں ’سوئنگ سٹیٹس‘ یا ’ڈانواڈول ریاستیں‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایسی ریاستیں ہیں جہاں نتائج میں کسی بھی امیدوار کا پلڑا بھاری ہو سکتا ہے۔یہ عین ممکن ہے کہ کوئی صدارتی امیدوار لوگوں کے ووٹ تو سب سے زیادہ لے لیکن صدر بننے کے لیے درکار 270 الیکٹورل ووٹ حاصل نہ کر سکے۔

امریکہ میں گذشتہ پانچ میں سے دو صدارتی انتخاب ایسے امیدواروں نے جیتے جنھیں ملنے والے عوامی ووٹوں کی تعداد ہارنے والے امیدوار سے کم تھی۔

سال2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن سے 30 لاکھ ووٹ کم حاصل کیے تھے لیکن وہ صدر بنے کیونکہ انھوں نے الیکٹورل کالج میں اکثریت حاصل کی۔ 2000 میں جارج ڈبلیو بش نے 271 الیکٹورل ووٹوں سے کامیابی حاصل کی جبکہ صدارتی انتخاب میں ناکام رہنے والے ان کے مدِمقابل ڈیموکریٹ امیدوار ایل گور کو ان سے پانچ لاکھ عوامی ووٹ زیادہ ملے تھے۔

اس کے علاوہ صرف تین امریکی صدور ایسے ہیں جو پاپولر ووٹ حاصل کیے بغیر صدر بنے اور یہ سب 19ویں صدی میں ہوا جب جان کوئنسی ایڈمز، ردرفرڈ بی ہیز اور بنجمن ہیریسن صدر بنے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس نظام کا انتخاب کیوں کیا گیا؟

جب 1787 میں امریکی آئین تیار کیا جا رہا تھا تو صدر کا ایک قومی سطح پر مقبول ووٹ سے انتخاب ناممکن ہی تھا۔ وجہ ملک کا بڑا رقبہ اور مواصلات میں مشکلات تھیں۔اسی دور میں اس بارے میں بھی زیادہ موافق رائے نہیں تھی کہ واشنگٹن ڈی سی میں قانون سازی کرنے والوں کو صدر کے انتخاب کا حق دے دیا جائے۔اس صورتحال میں آئین بنانے والوں نے الیکٹورل کالج تشکیل دیا جس میں ہر ریاست الیکٹرز کا انتخاب کرتی ہے۔چھوٹی ریاستوں کو یہ نظام پسند آیا کیونکہ اس سے صدر کے انتخاب میں ان کا کردار عام ووٹنگ کے مقابلے میں زیادہ موثر تھا۔

الیکٹورل کالج کا خیال ملک کی جنوبی ریاستوں میں بھی پسند کیا گیا جہاں کی آبادی کا بڑا حصہ اس وقت غلاموں پر مشتمل تھا۔ (اگرچہ غلاموں کو ووٹ دینے کا حق نہیں تھا لیکن اس وقت مردم شماری میں انھیں شمار ضرور کیا جاتا تھا اور ایک آزاد فرد کے مقابلے میں غلام کو 3/5 گنا جاتا تھا)۔چونکہ امریکی صدر کے انتخاب کے لیے درکار الیکٹورل ووٹوں کی کسی ریاست میں تعداد کا انحصار اس کی آبادی پر ہوتا ہے اس لیے جنوبی ریاستوں کو اس نظام کے تحت صدارتی انتخاب پر اثرانداز ہونے کا زیادہ موقع مل رہا تھا۔

اگر کسی بھی امیدوار کو اکثریت نہ ملے تو کیا ہوتا ہے؟

ایسی صورتحال میں ایوانِ نمائندگان صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالتا ہے۔ ایسا صرف ایک مرتبہ ہوا ہے جب 1824 میں الیکٹورل ووٹ چار امیدواروں کے درمیان تقسیم ہوئے اور کسی کو اکثریت نہیں مل سکی۔اب جبکہ امریکی سیاست میں صرف دو جماعتوں کا بول بالا ہے، ایسا دوبارہ ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔

امریکی الیکشن 2020 کی ڈائری، محمد شعیب عادل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *