ویکسین اور علاج میں کیا فرق ہے؟

ڈاکٹر طاہر قاضی

یہ بڑا اہم اور بنیادی قسم کا سوال ہے۔ بیمار ہونے سے پہلے حفاظتی طور پر جو انجکشن لگایا جاتا ہے اسے ویکسین کہتے ہیں تاکہ بیماری شروع ہی نہ ہو؛ لیکن اگر کوئی شخص بیمار ہو جائے تو اس کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس کا کوئی آسان جواب نہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔

سب سے پہلے تو یہ کہ کووڈ 19 ہر انسان پر مختلف طرح سے اثر انداز ہوتا ہے اور جسم کے مختلف اعضاء اور سسٹم جس طرح سے بیمار ہوں، علاج بھی اس کے مطابق ہو گا۔ کوڈڈ بیماری کو ہم ملٹی سسٹم ڈسیز کہتے ہیں۔ یہ نمونیا کر کے سانس لینے میں دشواری پیدا کرتا ہے۔ اس ایک علامت یا شکایت کے اندر بھی بہت سے مختلف پہلو ہیں۔ سانس کے نظام میں اگر آکسیجن کم ہو رہی ہے تو، آکسیجن دینے کی ضرورت ہو گی۔ کووڈ 19 میں جسم کے اندر آکسیجن کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ وائرس جسم اور خون کے اندر چھوٹے چھوٹے کلاٹبنا دیتا ہے جو آکسیجن والے صاف خون کو باقی جسم تک لے جانے سے روک دیتے ہیں۔

سو علاج کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ خون کو پتلا کرنے یا جمنے سے روکنے والی دوا کی بھی ضرورت ہوتی۔ آپ اسے بھی علاج کہہ سکتے ہیں۔ سانس کی نالی اور پھیپھڑے میں پرابلم ہو تو وائرس کے بعد بیکٹیریا حملہ آور ہو کر ایک دوسری قسم کا نمونیا پیدا کر سکتے ہیں، جس کے لئے انٹی بایوٹک دینی پڑتی ہے۔

مگر یاد رہے کہ وہ چھوٹے کلاٹ جن کا اوپر ذکر کیا تھا، ان میں سے کوئی کلاٹ اگر دل کی شریان میں چلا جائے تو مریض کو ہارٹ اٹیک ہو جائے گا۔ کہنے کو تو ہارٹ اٹیک ہے مگر یہ کووڈ 19 کی وجہ سے ہے۔ اگر کلاٹ دماغ کی جانب جائے تو فالج ہو سکتا ہے۔ گردے کی طرف جائے تو گردے فیل ہو جائیں گے۔

ان سارے مختلف اعضاء کی بیماری بے شک ایک وائرس کووڈ کی وجہ سے شروع ہوئی مگر ان کی میڈیکل دیکھ بھال کا کوئی ایک طریقہ نہ تو آج تک دریافت ہوا ہے اور نہ ہی ممکن ہے۔ بہرحال ان سب علامات کا میڈکل علاج ہونا چاہیے۔

آخری بات، کیا کوئی ایسی اینٹی وائرل دوائی ہے جو اس وائرس کو مار سکے؟ کووڈ 19 وائرس ایولیوشن کے ذریعے پہلی دفعہ وجود میں آیا ہے اور نوع انسان کے ساتھ انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس وجہ سے اس کے خلاف کوئی خصوصی دوائی تو موجود نہیں۔ مستقبل میں یقینانکل آئے گی مگر اس کے لئے وقت درکار ہو گا۔ اس وقت تک کے لئے اس وائرس سے بچاؤ کی تدابیر ہی سب سے کارآمد نسخہ ہے۔ سماجی فاصلہ، ماسک اور ہر کام کے بعد ہاتھ دھونا بات تو عام سی ہے مگر اس وائرس کے پھیلاو کو روکنے میں اور حفاظتی طور پر شاید اس سے سستا اور کامیاب نسخہ ابھی تک موجود نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *