ہزارہ برادری کا المیہ اور قیوم چنگیزی کی تجویز

محمد حسین ہنرمل

امن ، انسانیت اور دین کے دشمنوں نے ایک بارپھر ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا ۔ اب کی بار اس کمیونٹی کے وہ قابل رحم کان کن شہید کردیئے گئے جنہوں نے اپنے اہل وعیال کا پیٹ پالنے کی خاطر اپنے گھر سے میلوں دور زمیں کی تہہ میں اپنی زندگیاں گزارنے کا رسک لیا ہوا ہے۔

تین جنوری کو مچھ کے علاقے میں گیارہ کان کنوں کو اغوا کرنے کے بعد انہیں نہایت بیدردی سے شہید کردیئے گئے کہ انسانیت شرما گئی ۔ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی بہت سے گھرانے اجڑ گئے ، بے شمار بچے یتیم اور عورتوں بیوہ ہوگئیں۔

حسب معمول اس مرتبہ پھرملک کے وزیراعظم، صدر ، وزرائے اعلی اور گورنرز صاحباں کی طرف سے مذمتی بیانات جاری ہوئے ۔ کسی نے دہائی دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہدہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹ کر دم لیں گے۔ کسی نے پھر سے عہد کرنے کی ٹھان لی ہے کہدہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں اور ملک وقوم کو مزید دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔

مصیبت کی اس گھڑی میں اس وقت ہزارہ برادری کے لوگوں کا مطالبہ یہ ہے کہ ان کی داد رسی کے لئے ان کے دھرنے میں کم ازکم وزیراعظم تو آجائیں جنہیں وہ اپنے مطالبات پیش کریں ۔ لیکن حکومت نے ابھی تک بڑا تیر یہ مارا ہے کہ اس غمزدہ برادری کے پاس پہلے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور پھر زلفی بخاری کو بھیجا جس نے لفظی یقین دہائیاں تو دیں لیکن اسلام آباد پہنچنے کے بعد انہوں نے وزیراعظم کو ابھی تک کوئٹہ آنے پر راضی نہیں کیا ہے۔

شہداء میں ایک معصوم طالبہ معصومہ یعقوب علی کا اکلوتا بھائی محمد صادق اور چار دیگر رشتہ دار بھی شامل تھے۔ ٹھٹھرٹے سردی میں سڑک پر پڑے جنازے کے ساتھ کھڑی معصومہ نے کیا دل ہلانے والی باتیں کہی جو بے حس حکمرانوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہی تو ہے ، معصومہ کہی رہی تھیں کہ

کربلا کا منظر اگر کسی نے دیکھنا ہے تو وہ میرے خاندان کو دیکھ لیں جس میں جنازہ کو کندھا دینے والا کوئی مرد نہیں رہا۔ اس کے بعد ہم چھ بہنوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے بھائی اور اپنے رشتہ داروں کے جنازے خود اٹھانے کا فیصلہ کیاہے ۔ معصومہ کا کہناتھا کہ میں مدنی ریاست کا راگ الاپنے والوں سے سوال کرنا چاہتی ہوں کہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ یہ کیسی مدنی ریاست ہے جس میں دن دہاڑے معصوم خاندانوں کے افراد کو د ن دہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جس کے بعد میڈیا پر تعزیتی بیانات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے ، اگر تو یہ واقعی انصاف کی ریاست ہے، مسلمانوں اور مدینہ کی ریاست ہے تو ہمارے شہداء کے قاتلوں کو فی الفور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

سچ بات یہ ہے کہ صوبے میں اس محنت کش برادری کے اندر موت کا کھیل 90 کی دہائی سے بھی پہلے شروع ہواتھا جو 2021 میں بھی بدستور جاری ہے۔

یہ غالباً 1992 کی بات ہے کہ اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا اٹھا کر تھک جانے والے عبدالقیوم چنگیزی نے ایک انٹرویو کے دوران حکومت کو پیشکش کی کہ ویسے بھی ریاست ہم لوگوں کو تحفظ دلوا نہیں سکتی ، یوں یہ ہماری برادری کے منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں بھی ہم سے چھین کر اسے بیچ دیں اور ان پیسوں کے عوض ایک بحری جہاز خرید کر اس میں لاکھوں ہزاروں کو بٹھا کر سمندر بُرد کردیں تاکہ اسے اس دردِ سر سے پوری طرح جان چھوٹ جائے۔

عجیب سہل طریقہ ہمارے کرم فرماووں نے قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کا یہ بھی ڈھونڈا ہے کہ ایسے سانحات کے پیچھے بہت جلدانہیں انڈیا اور افغانستان کے جاسوسی اداروں افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کا ہاتھ تو بہت جلد نظر آ جاتا ہے لیکن موت بانٹنے والوں کو گرفتار کرنے میں وہ بے بس رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ دہشت گرد اور انتہا پسند کیوں دہشت گردی سے باز نہیں آرہے ہیں بلکہ بنیادی سوال یہ قوم اب یہ پوچھ رہی ہے کہ ریاست دو دہائیوں سے اس عفریت سے آخر نپٹ کیوں نہیں سکتی؟ 

سالہ 2016 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ڈیڑھ سو فرشتوں جیسے بچوں کے قتل عام کے بعد حکومت نے بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان بنایا ۔ اگر اس منصوبے پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد ہوا ہے تو انسانیت کے دشمن کہاں سے برآمد ہوتے ہیں ؟ یہ ہیں وہ سوالات ہیں جو اس وقت ہرکس و ناکس کے ذہن میں اٹھ رہے ہیں لیکن ان سوالات کا جواب دینے والا کوئی نہیں ۔المیہ تو یہ بھی ہے کہ دہشتگردی کے نہ تھمنے والے حملوں کے خلاف اگر حکومت کی تغافل پر نکتہ چینی کرتا ہے تو وہ ملک کا غدار ، این ڈی ایس اور را کا یار ٹھہرجاتا ہے ۔ اسی طرح میڈیا میں جو صحافی اس اندھیر نگری کے بارے میں بولنے کی جسارت کرتاہے تو اس بے چارے کا حشر بھی یہ قوم دیکھ چکی ہے ۔

اس سانحے کے بعد پھر کیا ہوگا ؟ بس وہی ہوگا جو آٹھ اگست کے سانحے کے ہفتہ دس دن بعد ہوا تھا۔ شہر میں معمولات زندگی پھر سے بحال ہونا شروع ہونگے اور خاکم بدہن لوگ ایک اور سانحے تک اپنے اپنے کاموں میں لگ جائیں ۔ زیادہ سے زیادہ یہ حکومت بھی معمول کی طرح اس مرتبہ بھی سانحہ آٹھ اگست ( وکلاء برادری کا قتل عام ) کے سانحہ کی طرز پر ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے گی ۔ البتہ یہ پھر الگ بات ہے کہ پہلے کی طرح اس کی رپورٹ آنے کے بعد اس کے اندر بھی کیڑے نکالے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *