پنجابی بمقابلہ عربی

محمد شعیب عادل

فیس بک پر پنجابی زبان سے متعلق کوئی بات ہورہی تھی تو ایک خاتون کا فرمانا ہے کہ “تساںوی ماں بولی ماروں آواز چایا کرو پنجابی ادب جمود ناں شکار اے جدید علوم وچ دس دس کتاباں وی کوئی نئبہوں ماڑا حال آں “۔

شہناز صاحبہ کی نصیحت سن کر کچھ پرانی یادیں تازہ ہوگئی ہیں۔

سنہ80 کی دہائی کے آواخر اور 90 کی دہائی کے اوائل کی بات ہے۔ ہم دوست طلوع اسلام کے دفتر 25 بی گلبرک میں غلام احمد پرویز کا درس قرآن سنتے جو ویڈیو کے ذریعے سنوایا جاتا تھا۔ اکثر ہم دوست غلام احمد پرویز کا درس سن کر موٹر سائیکلوں پر سوار ماڈل ٹاؤن پہنچ جاتے اور جاوید غامدی صاحب کے درس قرآن میں بھی شرکت کا ثواب حاصل کر لیتے تھے۔ دونوں ہی قرآنی تعلیمات کی تلقین کرتے تھے مگر نقطہ نظر میں زمین آسمان کا فرق تھا۔

لیکن دونوں علما ایک بات پر متفق تھے کہ عربی ایک جامع اور ہمہ گیر زبان ہے، غامد ی صاحب زمانہ جاہلیت کی کچھ شاعری کے حوالے دیتے رہتے تھے اور غلام احمد پرویز بتاتے کہ عربی اتنی ہمہ گیر زبان ہے کہ اس میں اونٹ کے لیے ستر الفاظ ہیں، یا شیر یا گھوڑے کے لیے اتنے ہیں۔لہذا ہم سمجھتے تھے کہ بھئی عربی واقعی دنیا کی اعلیٰ ترین زبان ہے جبکہ ہماری زبان تو کسی کھاتے میں نہیں آتی۔

کئی سالوں بعد میانوالی سے سید نصیر شاہ مرحوم ( جو عربی اور فارسی کے ایک بڑے عالم تھے) نے عربی زبان کے متعلق ایک مضمون ماہنامہ نیا زمانہ کے لیے بھیجا (کوشش کررہاہوں کہ وہ مضمون مل جائے) جس میں انھوں نے بتایا کہ عربی زبان قطعاً جامع یا ہمہ گیر نہیں۔ انھوں نے لکھا کہ پندرہ سو سال پہلے،ا ور آج بھی، عرب ایک انتہائی سست اور کاہل الوجود لوگوں کا علاقہ تھا لوگوں کی گذر اوقات بکریاں چرانے یا قافلے لوٹنے پر ہوتی تھی۔ ان کے پاس چونکہ فراغت بہت ہوتی تھی اس لیے انھوں نے اونٹ کے لیے کئی لفظ گھڑ لیے مثلا اونٹ کے بچے کا ایک نام ہے، ذرا بڑا ہوا تو دوسرا نام ہے، جوان ہوا تو کچھ اور نام ہے، مخصوص انداز سے بیٹھے تو کچھ نام ہے دوڑنے والا ہو تو کچھ اور نام ہے وغیرہ وغیرہ۔ انھوں نے لکھا کہ ایک ایسا معاشرہ جو کئی صدیوں سے جمود کا شکار ہووہاں کی زبان کیسے جامع اور ہمہ گیر ہوسکتی ہے۔۔۔

پنجابی زبان بھی ایک زرعی سماج کی زبان ہے جہاں آپ کو اس کی مختلف فصلوں اور اوقات اور اس سے جڑی رسومات کی گہری تفصیلات مل جاتی ہیں۔ ایک چھوٹے پودے ، بڑے پودے یا پھر ایک تن آور درخت اور ایک سوکھے مریل درخت کے لیے کئی الفاظ مل جائیں گے۔ بیل کے لیے کئی الفاظ ہیں۔ اور بحیثیت پنجابی ہم اس پر ناز کرتے ہیں۔ کچھ ماہ پہلے لاہور سے ایک دوست نے ایک خاتون کی ویڈیو بھیجی جس میں وہ پنجابی زبان میں اپنے سماج کی وہ باتیں اور اصطلاحات بتا رہی تھیں جسے (کم ازکم میرے لیے ) ناپید ہوئے بھی چالیس پچاس سال ہوچکے ہیں۔ وہ میرے لیےتو شاید کشش رکھتی ہو مگر میرے بچوں کے لیے قطعاً نہیں کیونکہ وہ اب جو کچھ پڑھ رہے ہیں وہ سائنس ٹیکنالوجی، ویڈیو گیمز، وغیر ہ وغیرہ کی باتیں ہیں جن کا پنجابی زبان ساتھ نہیں دے سکتی۔ویسے بھی ہم مسلمان اپنے شاندار ماضی کو کبھی نہیں بھولتے۔

اب ہم جس سماج میں رہ رہے ہیں اس میں جدید علوم، یعنی میڈیکل، انجینئرنگ ، فنانس، وکالت حتیٰ کہ صحافت کے لیے بھی انگریزی لازمی ہے۔انگریزی کے بغیر ہم ترقی نہیں کرسکتے۔ ہاں پنجابی سمیت کسی بھی مقامی یا علاقائی زبان میں بول چال ہو شاعری ہو، موسیقی ہو، رقص ہو، یا مقامی تہوار ہو،اچھا لگتا ہے۔

پاکستانی سماج کا مسئلہ یہ ہے کہ مقامی زبان اور انگریزی زبان کے درمیان کوئی تال میل نہیں بنا سکے۔ انگریزی کی بجائے ہم نے ایک اور غیرملکی زبان عربی کو ترجیح دی جبکہ ہمارا ہمسایہ ملک اس مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے جس کی بنیادی وجہ وہاں کا تسلسل سے جاری جمہوری نظام ہے۔ جہاں تک اردو کا مسئلہ ہے تو یہ پورے ہندوستان یعنی پاکستان، بھارت، نیپال بھوٹان کی رابطے کی زبان ہے۔مجھے امریکہ میں پختون، سندھی اور بلوچ قوم کے علاوہ نیپالی، بنگلہ دیشی، بھارتی شہریوں سے ،چاہے وہ شمال سے ہیں یا جنوب سے، ملنے کا اتفاق ہوتا ہے تو ہم سب کی انگریزی کے علاوہ ایک مشترکہ زبان اردو ہے جسے ہندوستان کے لوگ ہندی بھی کہتے ہیں ۔ان لوگوں کی اکثریت یہ زبان لکھ سکتی ہے اور نہ پڑھ سکتی ہے بس بول سکتی ہے اور اس زبان کو ترقی دینے میں بالی ووڈ کا کردار بہت اہم ہے۔

امریکہ میں سکھوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے جن سے پنجابی میں گفتگو ہوتی ہے ، سوال یہ ہے کہ آخر سکھ کیوں اپنی زبان سے محبت کرتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پنجابی ان کی مذہبی زبان بھی ہےاور یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے جڑے ہوئے ہیں اور میلے ٹھیلوں کا اہتمام بھی کرتے ہیں ۔درحقیقت ان کی مذہبی رسومات میلے ٹھیلوں کا رنگ ہی لیے ہوتی ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ جدید علوم کے لیے کسی اور زبان کو اختیار کرنے میں بھی نہیں ہچکچاتے۔جبکہ پاکستانی پنجابی، عربی میں پھنسے ہوئے ہیں اور جزاک اللہ، سبحان اللہ، الحمد و للہ کی گردان کرتے رہتے ہیں۔

یہ کچھ منتشر خیالات ہیں اگر کوئی اہل زبان اس پر مزید روشنی ڈالنا چاہیں تو مضمون ای میل کردیں

niazamana@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *