امریکی جمہوریت کا انحطاط۔۔ مطلق العنانیت اور فسطایئت کا عروج

منیر سامی

گزشتہ صدی میں ، روس میں مارکسی سوشلزم کے قیام کے بعد ہی  سے امریکی رہنمائی میں ان ممالک نے جو خود کو مغربی جمہوریتیں قرار دیتے تھے، عروج پذیر روسی معاشی اور سیاسی  نظام کی منظم  مخالفت شروع کی تھی۔  روس کے ساتھ نظریاتی تصادم کو سر د جنگ کا نام دیا گیا تھا۔ بعد میں اس سرد جنگ کا پھیلاؤ چینی سوشلسٹ نظام تک کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ اس مخاصمہ  میں امریکہ اور مغربی ملکوں نے کئی فوجی اتحا د بھی قائم کیے ، جن میں سیٹو، سینٹو اور نیٹووغیرہ  اہم  ہیں۔ ایسے ہی رسمی اور غیر رسمی معاہد ے لاطینی امریکہ میں بھی کیے گئے۔  امریکی سربراہی میں ان کاروایئوں کی حمایت  امریکی سرمایہ داریارانہ نظام کے آزاد خیال اور قدامت پرست طبقات کرتے تھے۔ 

رفتہ رفتہ  اس سرد جنگ نے طفیلی ملکوں میں  باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کر لی ۔ جس میں فریقین روس  یا امریکہ کے طابع ہوتے تھے۔ ان جنگوں میں کوریا، ویتنام، افغانستان، اور عراق کی جنگوں کو شامل کیا جاسکتا ہے۔سرد جنگوں کی بنیادی  نظریاتی مدد امریکہ اور مغرب کے وہ قدامت پرست  طبقات کرتے تھے جو خود کو آزاد خیال یالبرل کنزروٹیو کہتے تھے ۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ اصطلاح خود ہی ایک ضدا لاضداد ہے۔

یہ طبقات روسی مارکسی اور سیاسی نظام کے خلاف، جمہوری اقدار کا پر چار کرتے تھے۔ کیونکہ ان کے نزدیک روسی نظام آمرانہ تھا ، جس میں شخصی آزادیاں سلب ہوتی تھیں۔ جن اقدار پر زور دیا جاتاتھا، ان میں شخصی آزادیاں، مذہبی آزادیاں، اظہارِ رائے کی آزادی، اور  انسانی حقوق نمایاں تھے۔ ان طبقات کو  اپنے ہم خیال  دانشوروں، صحافیوں، اور عمل پرستوں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اس حمایت کے لیے سرمایہ دار وں، اور غیر حلومتی اداروں یا این جی اوزسے مدد لی جاتی تھی، اور اس ضمن میں خطیر رقم خرچ کی جاتی تھی۔ امریکہ ہی کی امداد سے ان کوششوں کو دیگر  مغربی ممالک کے طفیلیوں اور زیرِ اثر ممالک تک پھیلا دیا گیا تھا۔

گزشتہ صدی ہی میں سنہ اسی کی دہائی کے بعد امریکی صدر ریگن ،  برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر، اور ان کے دیگر مغربی حواریوں کی مدد سے ایسے سیاسی اور معاشی فیصلے کیئے گئے جنہوں نے ایک نئے نظریے، نیو لبرلزم کو جنم دیا۔سرمایہ داری کی اس نئی جہت میں پاکستانی صدر  ضیا الحق کو بھی شامل کیا گیا۔ ان تینوں افراد کے  زیرِ اثر دنیا بھر میں معاشی اور مذہبی بنیاد پرستی کو فروغ حاصل ہوا۔ ان کوششوں میں مشرقی یورپ کے وہ ممالک بھی شامل ہو تے گئے جو  اس روسی اتحاد میں شامل تھے جسے، وارسا پیکٹ کہتے تھے۔ ان ممالک میں اکثر وہ ممالک تھے جوسفید فام نسل پرست  یا عیسائی قدامت پرست تھے۔ ان میں پولینڈ او ر ہنگری پیش پیش تھے۔

یہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ روسی نظام کی مخالفت میں امریکی سرمایہ داری کو سب سے بڑی مدد ان امریکی مذہبی قدامت پرستوں سے ملتی تھی جو ایونجیلکل کہلاتے ہیں۔ یہ طبقہ اپنی اصل میں نہ صرف مذہب پرست ہے بلکہ سفید فام نسل پرست طبقہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر وہ لوگ ہیں جو امریکہ میں غلامی کے خاتمے کے خلاف تھے، خواتین کے حقوق کے مخالف ہیں،  امریکہ کی طرف ہجرت کرنے والے غیر سفید فام افراد کے سخت ترین مخالف ہیں، اور دیگر مذاہب مثلاً مسلمانوں او ر یہودیوں وغیرہ کے بھی شدید مخالف ہیں۔

اب تک جو عوامل ہم نے بیان کیے ہیں، اگر آپ پر ان غور کریں گ تو لا محالہ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ گزشتہ کئی سالوں میں ان جمہوری اقدار اور آزادیوں کو شدید زک پہنچی ہے جن کو امریکی اور ان کے مغربی حمایتی  باعثِ افتخار سمجھتے تھے۔ ساتھ ساتھ ہی ان ہی اثرات کے تحت دنیا کے دیگر  ممالک میں بھی آزاد خیال جمہوریتوں کو سخت نقصان پہنچا، جس کی اہم ترین مثال بھارت ہے جہاں کا مثالی جمہوری نظام  ایک سیاسی جماعت اور ایک سیاسی رہنما کے غلبہ کے تحت فسطایت اور مطلق العنانیت کی صورت اختیار کر رہا ہے۔

ایسی ہی ایک اور مثال اسلامی ملک ترکی کی ہے ، جو وہاں کے  سربراہِ ملک کے تحت ایک مطلق العنان سیاسی نظام بن گیا ہے۔ہمارے سامنے پاکستان اور مصر جیسے ممالک کی مثال بھی ہے، جو کبھی بھی بنیاد پرستی اور مطلق العنانیت سے آزاد نہیں ہوسکے  تھے، اب سخت ترین  غیر رسمی اور رسمی فوجی آمریتوں کا شکار ہیں۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ  وہ ملک جو ایک زمانے میں دنیا بھر میں جمہوری اقدار اور آزادیوں کا نقیب جانا جاتا تھا ، اب خود ان ممالک میں پیش پیش ہے جہاں جمہوری اقدار انحطاط پذیر ہیں۔ اور جہاں گزشتہ دنوں سابق امریکی صدر ٹرمپ نے مطلق العنانیت کی بد ترین مثال قائم کی جو امریکی جمہوری اقدار کے زوال کا بد ترین نمونہ ہے۔  اسی طرح انہوں نے گزشہ انتخابات کے بعد امریکہ میں فسطایئت کی بد ترین مثال قائم کی ، جس کے تحت امریکی کی پارلیمان پر حملہ کیا گیا ، اور کئی افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوئے۔ اس طرح سے امریکی سیاسی نظام میں وہ دراڑ پڑی ہے جس کی اصلاح میں زمانہ لگے گا۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ امریکی جمہوری نظام کا یہ انحطاط اور بھی بڑھ جائے۔

مطلق العنانیت  قائم  کرنے کے لیئے یہ اہم ہے کہ، عدالتوں، مقننہ، اور ذرائع ابلاغ میں ہم خیال افراد کو یا تو بھرتی کیا جائے یا ان پر قانونی اور غیر قانونی طریقوں سے  غلبہ حاصل کیا جائے۔ امریکہ میں قدامت پرستوں نے ایسا کرنے کے لیے فوکسؔ نیوز جیسا ادارہ قائم کیا۔ ذیلی اور اعلیٰ عدالتوں میں سخت قدامت پرست منصف متعین کیے، اور اکثر اسمبلیوں میں اپنے اراکین کی اکثریت قائم کی۔

 امریکہ کے حال ہی میں شکست کھائے ہوئے سابق صدر نے اس صورتِ حال کو نہایت عیاری اور مہارت سے اپنے حق میں استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں انتخابات اور عدالتوں میں واضح شکستوں کے بعد بھی امریکی قدامت پرستوں کا طبقہ انہیں اپنا رہنما جانتا ہے، جو ان کی فسطایئت اور مطلق العنانی کو نظر انداز کرنے پر راضی ہے۔ یہ ایک گمبھیر صورتِ حال ہے ، جس کا اثر ساری دنیا کی جمہوریتوں پر پڑے گا، اور کئی جگہ کچی پکی جمہوریتوں کا انحطاط ہو گا اور فسطائیت بڑھے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *