مرد ایک ناکام فاتح

سعید اختر ابراہیم

کیاعورت کمتر ہے، کمزور ہے، بیوقوف ہے، سازشی ہے، چلتر باز ہے؟؟؟ ہاں عورت کم و بیش ایسی ہی ہے ۔ نہ تو مردوں کی اور نہ ہی عورتوں کی خواہش ہے کہ اس صورتِ حال میں کوئی بڑی تبدیلی آئے۔

اگر کوئی آپ سے یہ سوال پوچھے کہ کیا آپ عورت بننا پسند کریں گے تو یقینا آپ کا جواب نفی میں ہو گا اور آپ ہی کیا عورتوں کی غالب اکثریت اس سوال کا جواب نفی میں ہی دے گی کیونکہ ہم سب کے نزدیک عورت ہونا شرمندگی اور ندامت کا باعث ہے۔ یہ سب کچھ ان تمام تعریفوں بھرے افسانوں کے باوجود ہے جو مردوں نے عورت کی مدح میں گھڑرکھے ہیں۔ مثلاً ماں کے پاؤں تلے جنت ہے۔ بیٹیوں کی پیدائش رحمت ہے۔ (بدقسمتی سے بیوی اوربہن کے رشتے کے حوالے سے ہمارا سارا لٹریچر خاموش ہے)۔

یہودی مرد صبح کی نماز میں کہتے ہیں۔ خدا برکتیں تقسیم کرنے والا ہے۔۔۔۔کہ اس نے مجھے عورت نہیں بنایاجبکہ یہودی عورتیں مردوں کے برعکس خدا کو یوں یاد کرتی ہیں۔ آقا برکتیں بانٹنے والا ہے جس نے مجھے اپنی مرضی کے مطابق بنایا۔

افلاطون نے دیوتاؤں کی جن نعمتوں کا شکر ادا کیا ان میں سب سے پہلی نعمت یہ تھی کہ اسے غلام نہیں بلکہ آزاد پیدا کیا گیا اور دوسری یہ کہ اسے عورت نہیں بلکہ مرد بنایا گیا ہے۔

ہم عورت سے تصوراتی محبت کے دور میں بھلے اسے جتنا مرضی بلند مقام عطا کر دیں مگر ٹھوس زندہ تعلق کے دور میں اسکا مقام مرد سے کم از کم ایک سیڑھی کم ہی ہو گا۔ اگر وہ شادی شدہ زندگی میں اپنے ایک درجہ کم مقام کو بخوشی قبول کرے گی تو تب ہی اسے شوہر کی جانب سے اچھی اور محبوب بیوی کی سند حاصل ہو گی۔ (ہماری معروف ادیبہ بانو قدسیہ کا تھیسیز بھی کچھ ایسا ہی ہے۔)۔

عورت کی قبولیت اسکی آزاد مرضی کو تیاگنے اور مرد کو خود سے بہتر ماننے میں ہے۔ آقائے ولی نعمت جو اس سے بلند درجے پر فائز ہے کہ وہ عورت کو کھانا دیتا ہے کپڑے دیتا ہے اور معاشرتی تحفظ دیتا ہے۔ سماجی تعلقات میں وہ عورت سے ایک قدم آگے چلنے میں فخر محسوس کرتا ہے اسکی مرئی یا غیر مرئی مونچھیں غرور اور برتری کے کلف سے اوپر کی طرف اٹھتی رہتی ہیں مگر اکثر یہ اوپر کو اٹھی ہوئی مونچھیں (جن کے بارے میں ایک رائج الوقت محاورہ ہے کہ مچھ نئیں تے کچھ نئیں ) بستر کے تعلقات میں بالکل غائب ہو جاتی ہیں۔ اور مردانہ برتری کا عظیم الشان محل عورت کے ایک انکار سے زمیں بوس ہو جاتا ہے۔

مڈل کلاس میں محبت کا معاملہ حقیقت سے کہیں زیادہ تصوراتی ہوتا ہے۔ سماج میں موجود عورت اور مرد کے درمیان دوری کا خلا ایک دوسرے کے بارے میں پراسرار اور رنگین تصورات سے بھر جاتا ہے اور یوں دونوں ہی ایک دوسرے کے ٹھوس اور حقیقی وجود سے انتہا درجے کی ناشناسی کا شکار ہو کہ ایک دوسرے کیلئے عمر بھر کا معمہ بن کر رہ جاتے ہیں۔

غالباً مڈل کلاس میں ٹھوس اور حقیقی وجود سے محبت اس لئے ممکن نہیں ہو پاتی کہ سماج مرد اور عورت کے ایک دوسرے کے قریب ہونے اور جاننے کے عمل سے خوف زدہ ہو کر ان کے راستے میں غوروفکر سے محروم عقائد پر مبنی اخلاقیات کی دیواریں کھڑی کر دیتا ہے لہٰذا دونوں کو مجبوراََ ایک دوسرے کا تخیلاتی خاکہ بنانا پڑتا ہے او ر یہ تخیلاتی خاکہ جس قدر رنگین، مبہم اور بے کنار ہو گا اتنا ہی محبت کی لذت میں اضافہ ہو گا۔ ان حالات میں محبوب سے دور رہنے پر مجبور فرد اس دوری کے خلا کو بھرنے کیلئے اس کا اسقدر ملکوتی اور غیر زمینی خاکہ تراش لے گا کہ حقیقی محبوب کے اندر اسکا عشرِ عشیر بھی دستیاب نہیں ہو گا۔

اور نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ شادی کے بعد جب اپنے تخلیق کردہ تصور سے جیتے جاگتے وجود کو میچ کرنے میں ناکام رہتا ہے تو خیالی محبوب کی تصویر آنکھوں میں لئے اسے جگہ جگہ دوسری خواتین کیساتھ میچ کرتا پھرے گا اور جگہ جگہ محبت کے سراب کا شکار ہو گا۔ مگر حقیقی محبت ہے کہاں ؟ شائد ابھی کہیں بھی نہیں ۔کسی بھلے آدمی نے محبت کی تعریف یوں کی تھی

Love is humanised sex

مگر ہمارے ہاں جو صورتِ حال ہے اس میں جنسی تعلق تو موجود ہے مگر شائد انسانی قطعاً نہیں ہے۔ اور یہ تعلق ایک وقتی ابال سے زیادہ اور کیا ہے ۔ اور مردوں نے اس وقتی ابال کی تسکین کیلئے عورت کومحض ایک جنسی معروض بنا کے رکھ دیا ہے۔ جس کا کام سارے دن کے تھکا دینے والے غیر تخلیقی اور بے مزہ کاموں کے علاوہ یہ بھی ہے کہ شام کو اپنے ظاہری وجود کو سجا بنا کر اپنے مرد کا انتظار کرے جو کبھی کبھار معاوضے کے طور پر مٹھائی، سوٹ یا کوئی چھوٹا موٹا زیور بھی لئے آتا ہے۔

عورت چونکہ کمزور ہے لہٰذا وہ چالاک بھی ہے اور حیلہ باز سازشی بھی۔ وہ مرد سے کھیلنا بھی جانتی ہے اور بدلہ لینا بھی۔ وہ مرد کی سیدھی، بھدی اور یک رخی طاقت کے مقابلے میں خود کو نازک، نفیس، نوکیلے اورپیچیدہ حربوں کے ہتھیاروں سے مسلح کر لیتی ہے۔ مرد چونکہ عورت کو کھلی رائے کے اظہار کی اجازت نہیں دیتا سو وہ پینترا بدل لیتی ہے ، وہ اپنی مرضی ایسی فنکاری سے منواتی ہے کہ مرد کو احساس تک نہیں ہونے دیتی اور مرد جوانی کے اختتام تک اپنی طاقت کے زعم میں اس سازش کو جان ہی نہیں پاتا اور تب وہ وقت آتا ہے جب عورت کھل کر اسکے مقابل آن کھڑی ہوتی ہے اپنی طاقت کے زعم میں مبتلا مرد کیلئے کھیل کا دوسرا ہاف بہت اندوہناک ہوتا ہے۔ اب نہ تو جوانی رہی اور نہ ہی معاشی طاقت کہ اب نوجوان اولاد بھی معاشی طور پر زیادہ طاقتور ہو چکی ہے۔جس نے ہمیشہ یہی محسوس کیا کہ ماں مظلوم ہے سو وہ اس کے قدرتی اتحادی بن جاتے ہیں۔ اور ہارا ہوا ناکام کھلاڑی ایک کونے میں چارپائی پر لیٹا کھانستے ہوئے اپنے مقدر پر کڑھتا رہتا ہے۔

مرد کا المیہ یہ ہے کہ وہ عورت کی طرح ایک بچے کی صورت میں زندہ وجود تخلیق کرنے سے محروم ہے۔ سو اس محرومی کو دور کرنے کیلئے اُس نے دو کام کئے۔ پہلا کام یہ کہ دنیا کے پہلے مرد ( آدم )کی پسلی سے حوا کی تخلیق کا افسانہ گھڑا اور دوسرا یہ کہ اپنی جسمانی طاقت کے بل پر عورت کے دائرہ کار کو محدود کر کے آئیڈیے کی تخلیق پر اجارہ داری قائم کر لی ۔ سو جوں جوں یہ اجارہ داری بڑھی دیویاں غائب ہوتی گئیں اور انکی جگہ خدا کے مردانہ تصور نے لے لی۔ لہٰذا مرد کا مجازی خدا بننا اور بادشاہ کا ظلِ الٰہی یا خدا کا اوتار ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ مردوں نے بہت محنت اور طویل جدو جہد سے عورت کو بہت سے میدانوں سے خارج کیا ہے۔ مگر موجودہ مشینی دور نے مردوں کی انتہائی محنت اور چالاکی سے ہتھیائی ہوئی سیادت اور سرداری کو ایک بار پھر خطرے سے دوچار کر دیا ہے کیونکہ اب جسمانی طاقت کی مقابلہ بازی کا دور تقریباً اختتام پذیر ہے ۔

کمپیوٹر کے کی بورڈ پر عورت کی نازک انگلیاں مرد کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتاری سے دوڑ سکتی ہیں اوراب عورت بھی اتنی ہی آسانی سے ایٹم بم گرا سکتی ہے جتنی آسانی سے کوئی مرد ،مگر ابھی بھی اہم اور بنیادی نوعیت کے سماجی فیصلوں پر مرد کی گرفت خاصی مضبوط ہے، عمومی طورپرپسماندہ ممالک میں اور خاص طور پر مسلمان ممالک میں کہ جہاں ابھی تک مذہب کی جاگیردارانہ تعبیر رائج ہے۔ مرد عورت کی آزادی سے بُری طرح خوف زدہ ہے۔ موجودہ دور میں اسکے پاس چونکہ عقل اور شعور کی بنیاد پر استوار کوئی ایسی دلیل نہیں جس کی بنا پر وہ عورت کی آزادی کو روک سکے سو ایسی صور ت میں مذہب کی جاگیردارانہ تشریح اس مقصد کیلئے بہترین ہتھیار کا کام کرتی ہے۔ یہ ہتھیار اسلئے بھی انتہائی کارآمد ہوتا ہے کہ مذہب کے نام پر پیش کردہ انتہائی جاہلانہ خیالات بھی بغیر کسی بحث مباحثہ کے عورتوں پر مسلط کئے جا سکتے ہیں۔

ویسے تو گھر کی مملکت میں مڈل کلاس کے مرد کو سربراہ کا رتبہ حاصل ہوتا ہے مگر معاشرتی سطح پروہ کئی طرح کے عدم تحفظات کا شکار بھی ہوتا ہے ۔مرد کے مقابلے میں عورت کے عدم تحفظات کہیں زیادہ شدید ہوتے ہیں۔ جن کے نتیجے میں وہ انتہائی سازشی انداز میں اپنے لئے تحفظ کے انتظامات کو مضبوط بنانے کا جتن کرتی ہے۔ وہ تمام عمر اس خوف اور افسوس میں گزار دیتی ہے کہ اسکا اپنا کوئی گھر نہیں ہے۔ جب وہ ہوش سنبھالتی ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ والدین کا گھر ایک عارضی ٹھکانہ ہے جسے اس نے بالآخر ایک مخصوص وقت آنے پر چھوڑ دینا ہے اور بعد میں اس گھر میں اسکی آمد ایک مہمان سے زیادہ کچھ وقعت نہیں رکھتی۔

اسے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے اس کے ساتھ پلنے بڑھنے والے بھائیوں پر یہ اصول کیوں لاگو نہیں ہوتا۔ پھر وہ وقت آتا ہے جب اسے اپنے والدین اور بھائیوں کا (اپنا نہیں ) گھر چھوڑ کر اجنبی لوگوں میں جانا پڑتا ہے جن کیساتھ اسے رہنے کی نہ تو کوئی مشق ہے اور نہ ہی عادت۔ جہاں ایک اجنبی مرد ہے جو اسکے بدن سے اسکی روح تک سب کچھ اپنے تصرف میں لینے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ وہ بے چاری ان لمحات میں چومکھی خوف سے دوچار ہے ۔ ان لمحات میں وہ خود کو انتہائی بے بس اور لاچار تصور کرتی ہے۔

گو یہ خوف کئی طرح کی لذتوں سے بھی مملو ہوتا ہے ۔ مگر اسے ایک بات کا کہیں بہت اندر احساس ہوتا ہے کہ یہ گھر اسکا نہیں ہے۔ اور وہ ایک ایسی اکیلی ذات ہے جسے اپنی تمام کمزوریوں اور نازک پن کے باوجود اپنے خاندان کو چھوڑ کر ایک مرد کے گھر میں شادی کے نام پر ہجرت کرنا پڑی ہے، جبکہ مرد بدستور اپنے گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ بڑی شان کیساتھ برا جمان ہے جہاں اسکے بہت سے حمایتی موجود ہیں اور اجنبی دلہن ان میں بالکل تنہا۔ وہ اس رشتے کے کمزور سرے پر کھڑی ہے سو یہ اسکا فرض ہے کہ وہ نئے گھر کی اکثریت کے مطابق اپنی عادتوں کو بدلے نہ کہ اکثریت۔

اسے کہیں اندر یہ غصہ بھی ہے کہ شادی کیلئے گھر چھوڑنے کی سزا تنہااسے ہی کیوں ملے آخر اسکے ساتھ یہ سزا مرد یعنی اسکا شوہر کیوں نہ بھگتے،سو وہ پہلے دن سے ہی انتہائی رازداری کیساتھ اس منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیتی ہے اور اکثر جلد یا بدیر اس میں کامیاب بھی ہو جاتی ہے۔ مگر اکثر عورتوں کی بدقسمتی یہ ہوتی ہے کہ انہیں یہ کامیابی عموماً اس وقت نصیب ہوتی ہے جب ایک اور عورت انکے اپنے بیٹے کی دلہن کی حیثیت سے انکی تازہ تازہ مفتوحہ مملکت میں مداخلت کیلئے آن موجود ہوتی ہے اور یوں یہ کشمکش ایک نئی شکل میں دوبارہ سے شروع ہو جاتی ہے۔

ہمارے سماج کی بنتر کچھ اس طور سے بنی جاتی ہے کہ پہلے ہی دن سے عورت کو عورت اور مرد کو مرد بنانے کا عمل زور و شور کیساتھ شروع کر دیا جاتا ہے۔ جوں جوں وہ بڑے ہوتے جاتے ہیں ان کو علیحدہ خانوں میں تقسیم کرنے کے ضابطے مزید مختلف اور سخت ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ان ضابطوں کے تحت عورت کو ایک طے شدہ سانچے کے مطابق نرم و نازک، بزدل اور کمزور بنایا جاتا ہے اس کے اندر شرم و حیا کے عناصر پیدا کئے جاتے ہیں تاکہ وہ بیک وقت مرد کی غلامی کیلئے بھی موزوں ہو اور اسے ضرورت پڑنے پر اپنی اداؤں سے لبھا بھی سکے اور یوں ایک کامیاب بیوی ثابت ہو۔ اسے شروع دن سے خوبصورت چمکیلے لباس کا اور دمکتے ہوئے زیورات کا خواہشمند بنایا جاتا ہے۔ زیورات جو کہ سب کے سب ماضی میں غلامی کی شکلوں کا جدید اور دل لبھانے والا پرتو ہیں۔ چوڑیاں، کڑے، پازیبیں، نتھ اور گلو بند آخر یہ سب کیا ہیں۔ فرق صرف یہ پڑا کہ اب لوہے کی جگہ سونے نے لے لی ہے۔

ہمارے ہاں جس طور سے عورت کو ایک روا یتی عورت میں ڈھالا جاتا ہے اس عمل میں والدین کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اسے فطری جنسی خواہش کے نتیجے میں ابھرنے والی کیفیات کے اظہار سے نہ صرف باز رکھا جائے بلکہ ممکن حد تک انہیں بد اخلاقی پر مبنی گندے اور شیطانی خیالات بتا کر ان سے خوف زدہ رکھا جائے۔ بھلا اس طرح کی تربیت کی حامل عورت کیلئے یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اپنے شوہر پر پوری طرح کھل سکے۔اسکے اندر ایک طرف کھلنے کی خواہش بھی موجود ہے مگر اس خواہش پروالدین کیطرف سے ملنے والی جہالت پر مبنی نام نہاد اخلاقی تربیت نے پہرہ بھی بٹھا رکھا ہے اور پھر اس عمل میں گندگی کے احساس کی آمیزش بھی ہے۔

اسی وجہ سے عمومی طور پر عورت مرد سے جو تعلق استوار کرتی ہے اسکا سارا لطف گندگی اور شرم کے احساس سے لتھڑا ہوتا ہے اور وہ قرب کی خواہش کے باوجود گریز پر مجبور ہوتی ہے اور مرد کو محض ایک مجہول بدن پیش کرتی ہے۔ یوں دھیرے دھیرے مرد کی منہ زور خواہش مایوسی اور کم لذتی کا شکار ہونے لگتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ گھر دیرسے آنے لگتا ہے ۔ کیونکہ وہاں اسکے لطف کا کوئی سامان نہیں رہ گیا۔ اسے ایسے بدن کی تلاش ہے جو اس عمل میں مرد کے جوش و خروش سے مماثل جذبے کیساتھ شریک ہو۔ مگر مرد اس معاملے میں اپنے ہی خیالات میں دوئی کا شکار ہوتا ہے۔

اس کے خیال میں اس عمل میں پورے جوش و خروش سے شمولیت کرنے والی عورت شریف نہیں ہو سکتی۔ سو وہ اپنی بیوی سے خواہش رکھنے کے باوجود نہیں چاہتا ہے وہ اس عمل میں اسکا بھرپور ساتھ دے کیونکہ وہ اپنی بیوی کو ایک انتہائی شریف عورت کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہے اور شرافت کے روپ کی یہی خواہش اسکی زندگی میں بدمزگی کا ذائقہ بھی گھولتی ہے ان حالات میں میاں بیوی میں دوری بڑھنے لگتی ہے۔ عورت کا وجود بچے کی پیدائش اور مرد کی عدم توجہی کے باعث تیزی سے ڈھلنے لگتا ہے۔ جب بچے ذرا بڑے ہوتے ہیں تو عورت جیسے اک دم نیند سے جاگتی ہے، مگر اسکا مرد کسی بہتراور جوان جسم کی تلاش میں اس سے بہت دور جا چکا ہوتا ہے۔ اب وہ دوبارہ مرد کو اپنی جانب متوجہ کرنے کیلئے ایک جوان لڑکی کا روپ دھارنے کے جتن میں عجیب و غریب شوخ لباس او رمیک اپ سے خود کو مزین کرنے کی ناکام کوشش کرتی ہے مگر مرد کو اس روغن شدہ عمارت کی کہنگی کی مکمل خبر ہے۔ سو اب اس کی واپسی کا امکان اسی وقت ممکن ہے جب وہ جنسی زندگی سے عملی طور پر ریٹائرڈ ہو چکا ہو گا۔ اور جب جسمانی تعلق سے ماورا ضرورتوں کا دور شروع ہو گا۔ سو اب یہ بیوی کا مقدر ہے کہ وہ شوہر کے بڑھاپے کا انتطار کرے۔

مرد خاندان کی سربراہی کا جواز کسبِ معاش سے حاصل کرتا ہے مگر یہ جواز اس وقت چیلنج ہوجاتا ہے جب بیوی بھی کسبِ معاش کے عمل میں شامل ہوجاتی ہے۔اب مرد کیلئے عقلمندی کا تقاضہ تو یہی ہے کہ وہ گھریلو فیصلوں میں عورت کو برابر کا شریک مان کر خودپر سے ذمہ داریوں کا بوجھ گھٹائے مگر وہ الٹا اپنی سربراہی کو خطرے میں دیکھ کر تشدد پر اتر آتا ہے۔ سو عورت اور مرد کے درمیان طاقت کے عدم توازن نے میاں بیوی کے درمیان محبت اور ہم آہنگی کا جو مصنوئی بھرم پینٹ کیا ہوتا ہے اسکا رنگ عورت کی معاشی آزادی کی دھوپ سے تیزی کیساتھ اُڑنے لگتا ہے۔ اب عورت کیلئے ممکن نہیں رہتا کہ وہ مرد کو مجازی خدا کا درجہ دیتے ہوئے بلا مشاورت اسکے احکامات کی تعمیل کئے جائے۔

مگر صدیوں کی سوچ پر استوار مردانہ ذہنیت کیسے مان لے کہ عورت بھی ایک آزاد انسانی وجود کی مالک ہوسکتی ہے۔سو جنگ تو لازم ٹھہری، ہاں یہ الگ بات کہ جھگڑے کے نتیجے میں گھر ٹوٹنے کا الزام عورت پر ہی آئیگااور ناکام اخلاقیات کے مبلغ چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیں گے کہ دیکھو ہم نہ کہتے تھے کہ عورت کو گھر کی چاردیواری سے مت نکلنے دو، یہ فتنہ پھیلائے گی۔مگر سوال یہ ہے کہ جس قوم کی 36 فیصد آبادی ہمارے عیاش حکمران طبقے اور بے لگام سرمایہ داروں اور جاگیرداروںکی وجہ سے غربت سے بھی نچلی لکیر پر پہ پہنچ چکی ہو اور جسے ایک سال کے اندر اندر ڈبلیو ٹی او کا اژدھا نگلنے کیلئے تیار بیٹھا ہووہاں یہ کیسے ممکن ہے کہ عورتیں سامانِ زیست کمانے کیلئے گھر سے باہر نہ نکلیں۔ اب ان حالات میں مولوی لاکھ چیختا رہے کیونکہ اسکے بے مغز اور بے وقت کے مواعظ ضروریاتِ زندگی کا متبادل نہیں بن سکتے۔

ماہنامہ نیا زمانہ نومبر 2003

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *