کنفیوژن ہی کنفیوژن ہے، سارے میں

طارق ضیا

پچھلے دنوں ایک خاتون نے لکھا کہ میں ایک امریکی شہری ہوں لیکن فیمینسٹ نہیں

 سنسار کی کیتھی میں سب اپنا ہی جوتنے کی سعی میں ہیں۔نہیں جانتے کہ اس کتھا کی داستان اربوں سال سے سوختہ ہے۔سب ہی اس کے خالق اور مدعی  ہونے کے  دعویدار ہیں۔  چاہے عمر اپنی اسی سال سے آگے کا منظر دیکھنے  کی متحمل نہ ہو۔

جملہ معترضہ!۔

ْ ہم کہاں ہیں اور کیوں ہیں؟ یہ ایک بے ہودہ سوال ہے۔ ’’ہم ایک عظیم الشان ماضی  کے امین ہیں، سمجھے؟ ‘‘ مجھے یہ بات پرائمری اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے ماتھے پر تیوریاں چڑھا کر کہی تھی۔ ان کے ہاتھ میں ایک ڈنڈے  کو ناپتے تولتے دیکھ کر میں سہم ہی گیا۔

آج بھی یاد ہے ، بالکل  ایسے ہی جیسے سڑا ہواپھل دماغ کواورسڑاند سے بھر دے۔

سچائی کی کسوٹی بالکل ایسے ہی   رائج الوقت سکہ ہے جیسےکہ اندھے کے ہاتھ  میں ہاتھی کے جثے کا کوئی ایک حصہ آجائے تو  میں نے پا لیا

(Eureka!)

  کا نعرہ بلند کرتے ہوئے سچائی کی مسند پر براجمان  ہونے کا یقین اور پرچم سچائی تھامنے کا کا فخر چار سو پھیل جائے، الامان۔

الہامی سچائی جو کسی نہ کسی پُرکھے کی دین ہے اسے جانچ تو لیجئے؟

اپنی دھرتی اپنا مان!۔

کہاں ہے آپ کی دھرتی اور کیوں ہیں یہاں آپ؟

بھاشن  کی بجائے اذیت ذات اور شناخت کی بھٹی میں۔  کیوں نہ جھلس جائیں آپ؟

یہ کیا ہوا کہ آ پ  کہیں کسی کنارے کھڑےہو کر فرما دیں اور اپنے آپ کو از خود ہی معصوم و  مظلوم  قرار دینے کا  المیہ پڑھ دیں؟

’’حقیقت یہ ہے کہ میں ایک امریکن پاکستانی مسلم خاتون ہوں اور اپنے خالق و مالک (جو ہم سب کا نجات دہندہ ہے) کے توسط سے، اسکی طرف سے عطاکی گئی آزادی کے توسط سے میں یقیناً ایک ایسا پیغام دے رہی ہوں جو بہت کھلا، واضح اور قول سدید ہے۔ اہل مغرب! آپ کا بہت شکریہ، لیکن مجھے آپ کے قانون، آپکی ثقافت، آپکی روایات، آپکی اقدار، آپکے طرز زندگی، آپ کی تہذیب اور آپ کے تمدن کی قطعی طورپر ضرورت نہیں‘‘۔

کیا آپ نے امریکی شہری ہونے کی درخواست از خود نہیں دی؟ کیا آپ نے امریکی شہری ہونے کا حلف جو سوچ سمجھ کے اور عاقل و  بالغ   ہو کے اٹھایا ہے اس کی وقعت بس اتنی سی ہی ہے؟

دوبارہ پڑھیئے؛ اگر اس سلطنت امریکہ پر کوئی بیرونی قوت حملہ کرے گی تو آپ  ریاست اور جمہوریت کی بقا  کے دفا ع کیلئے ہتھیار اٹھانے اور جان قربان کرنے  کی پابند ہیں۔ اگر آپ واقعی میں امریکی شہری ہیں۔

رہی آپ کی بات کہ میں امریکی شہری ہوں لیکن فیمینسٹ نہیں ہوں۔ یہ آپ کا حق ہے۔ آپ اس ماں دھرتی پر سب کچھ ہو سکتی ہیں لیکن  اسکے دفاع کا آپ نے حلف اٹھایا ہوا ہے۔

 جہاں چاہا مجھے بلا لیا، یہ سب تیرے کرم کے ہیں فیصلے۔

اور یہ کہ منافقت  اور شخصی کنفیوژن کے چیٹھرے ہیں سر بازار!

کنفیوژن ہی کنفیوژن ہے،  سارے میں۔

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *