انگریزی زبان، لباس اور احساس کمتری

بیرسٹرحمید باشانی

 وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے فرما یا ہے کہ انگریزی بولنا اور مغربی لباس پہننا فخر کی بات نہیں، بلکہ احساس کمتری کی نشانی ہے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے، جب دنیا میں انگریزی کو جدید علوم کے حصول کا بنیادی ذریعہ اور کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے ناگزیر تصور کیا جاتا ہے۔ اس باب میں دنیا کے کئی ممالک کی مثالیں موجود ہیں۔ لیکن ہم یہاں صرف عوامی جمہوریہ چین کی مثال پیش کریں گے، جس کو اکثر ہمارے ہاں ترقی اور کامیابی، اور خوداعتمادی کی ایک عظیم مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

زبان کے حوالے سے جب چین کا زکر آتا ہے، تو اکثر چیرمین ماو کی مثال دی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ماو کوا نگریزی زبان بہت اچھی آتی تھی، لیکن  وہ کبھی کسی عالمی رہنما کے ساتھ ملتے وقت انگریزی نہیں بولتے تھے۔ ان کے ساتھ ہمیشہ ترجمان ہوتا تھا۔ جب چیرمین ماؤ سے اس سلسلے میں پوچھا گیا کہ آپ کواچھی انگریزی بولنی آتی ہےتو پھر آپ ترجمان کیوں رکھتے ہیں ؟ تو ماؤ نے کہا، چین گونگا نہیں ہے۔ ماؤ کے اس عمل اور فرمان سے کچھ لوگ چپکے سے ان نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ چینی انگریزی بولنے اور سیکھنے سے اجتناب کرتے ہیں۔

حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ انگریزی میں چین کی گہری دلچسپی ہمیشہ سےہی رہی ہے، لیکن آج کے چین میں لوگ انگریزی سیکھنے اور بولنے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریباً 650 ملین چینی باقاعدہ انگریزی زبان سیکھ رہے ہیں۔  آج  عوامی جمہوریہ چین کے طول و عرض میں انگریزی زبان سیکھنے سکھانے کے سکول اس طرح اگ رہے ہیں، جس طرح بارش کے بعد چھتریاں اگتی ہیں۔ اس وقت چین کی کل آبادی تقریباً ایک اعشاریہ پینتیس بلین سے زیادہ ہے۔ ان میں سے چھ سو پچاس ملین لوگ انگریزی سیکھ رہے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت چین کی کل آبادی کا تقریبا نصف انگریزی سیکھنے میں لگا ہوا ہے۔

چین سے باہر آپ کسی انگریزی بولنے والے ملک کے کسی تعلیمی ادارے میں چلے جائیں، زبان سیکھانے والے کسی سکول میں چلے جائیں ، آپ کو چینی طلبہ کی تعداد ان کی آبادی کے تناسب سے کئی زیادہ نظر آئے گی۔چین میں انگریزی زبان کے اخبارات مقبول ہیں۔ انگریزی ٹیلی ویزن  چینل موجود ہیں، جن پر چوبیس گھنٹے انگریزی زبان میں پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ انگریزی زبان کی مقبولیت کی ایک جھلک چین کے نظام تعلیم میں صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ 2001 سے لیکر چین میں پرائمری سکول میں گریڈ تین سے انگریزی زبان لازمی ہے۔ انگریزی زبان چین کے کسی بھی کالج اور یونیورسٹی میں داخلے کے لیے لازم ہے۔ کالج و یونیورسٹی میں انگلش لازمی مضمون ہے۔یونیورسٹی ڈگری کے لیے گریڈ فور کی انگلش ٹیسٹ پاس کرنا بھی لازم ہے۔ چین میں انگلش سیکھانے والے سکولوں کی بھر مار ہے۔

یہ دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، جس میں انگریزی زبان والے ممالک سے اساتذہ انگریزی پڑھانے کے لے چین کا رخ کر رہے ہیں، اوران انگلش ٹیچرز کے لیے جن کی مادری زبان انگریزی ہے، چین روزگار کی ایک بہت بڑی مارکیٹ سمجھی جاتی ہے ۔ یہ تقریبا چار سو پانچ بلین امریکی ڈالر کی مارکیٹ ہے، جس میں بارہ سے پندرہ فیصد کی شرح سے ترقی ہو رہی ہے۔اس کے باوجود چین خود اعتماد ہے، اور احساس کمتری سے کوسوں میل دور ہے۔

یہ رہا زبان کا قصہ۔ اب بات کرتے ہیں لباس کی، جس پر کیا بات کی جائے۔ چین لباس کے معاملے میں مغرب سے زیادہ مغربی ہے۔ چین کی آبادی کی غالب اکثریت اس وقت مغربی لباس پہنتی ہے، جس میں پینٹ شرٹ اور سکرٹ وغیرہ شامل ہیں۔ چین کے لباس میں اتنے بڑے پیمانے پر یہ تبدیلی بیسویں صدی کی ابتدا میں برپا ہونے والے کلچرل انقلاب کا نتیجہ ہے۔ یاد رہے کہ اس کلچرل انقلاب سے مراد ڈینگ زیاؤ پینگ کی قیادت میں آنے والا پرولتاری ثقافتی انقلاب نہیں ہے، جو 1966 سے شروع ہو کر 1976 تک جاری رہا تھا۔جس انقلاب کی یہاں بات ہو رہی ہے یہ وہ انقلاب ہے ، جو بیسویں صدی کے پہلے اور دوسرے عشرے میں بڑی خاموشی سے برپا ہوا۔ اس کو چار مئی کی تحریک بھی کہا جاتا ہے۔

  یہ چین کی سامراج دشمن ثقافتی اور سیاسی تحریک تھی، جو چار مئی1919 میں بیجنگ میں طلبہ کے احتجاج کے نتیجے میں برپا ہوئی تھی۔ اس تحریک کا نقطہ ماسکہ چین کے پرانے کلچر کی مخالفت اور نئے کلچر کے فروغ کی کوشش کرنا تھا۔ اسے چین کی نیو کلچرل موومنٹکا حصہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس تحریک نے چین کی ثقافت کو بہت گہرائی سےمتاثر کیا۔ اس تحریک کے دوران جمہوریت اور سائنس کا نعرہ بلند کیا گیا، جس کا مقصد چین کے قدیم فرسودہ جاگیردارانہ نظام کو ختم کر کہ اس کی جگہ ایک نیا نظام تعمیر کرنا تھا۔ اس موضوع پر ڈیویڈ وینگ نے بڑی اہم اور دلچسب کتاب لکھی ہے۔ یہ کتاب سن دوہزار سترہ میں ہارورڈ یونیورسٹی پریس نے چھاپی تھی۔

اس کتاب میں ڈیوڈ لکھتا ہے کہ چار مئی کی تحریک چین کی جدت پسندی کی تلاش کے سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ اس تحریک کے دوران  چین میں بڑی نظریاتی اور ثقافتی تبدیلیاں آئیں۔ اس دور میں چین میں ثقافتی اور ادبی تبدیلی کے ساتھ لباس اور رسم رواج میں بھی جدت آئی۔ چین کی ان تبدیلیوں کے بطن سے انقلابی نظریات نے جنم لیا، جو 1921 میں کمیونسٹ پارٹی آف چین کی تشکیل پر منتج ہوا۔ اس تحریک کی مخالفت اور مزاحمت بھی کوئی کم نہیں تھی۔ اس تحریک کا سب سے بڑا مخالف چنگ کائی شیک تھا۔ یہ قوم پرست اور کنفیوشس پسند لیڈر اس وقت کے قدامت پرست چین کی ایک بہت مضبوط آواز تھی۔ایک قوم پرست ہونے کی وجہ سے وہ سامراج دشمن بھی تھا، اس حوالے سے وہ مغربی خیالات اور ادب کا مخالف تھا۔ ۔اس مضبوط مخالفت کے باوجود چین اس سلسلہ عمل میں جاگیردارانہ باقیات اور اخلاقیات سے جان چھڑانے میں کامیاب ہوا، اور اس عمل کے دوران اس نے روایتی لباس کو بھی ترک کر کہ جدید لباس اپنایا جسے ہم  مغربی لباس کا نام دیتے ہیں۔

مگر کئی چینیوں سمیت دنیا میں کئی دانشوروں کا خیال ہے، کہ جس پینٹ، پتلون یا ٹراوزر کو ہم مغربی کہتے ہیں، وہ دراصل مغرب نے مشرق سے ہی لیا ہے۔ محقیقن کا خیال ہے کہ جسم کے نچلے حصے پر پہنے والے لباس کی مختلف اقسام جن میں پینٹ، پتلون، سلیک، اور سکرٹ وغیرہ ہیں، ان کی ابتدا ایشیا سے ہی ہوئی ہے۔ دنیا کے سب سے قدیم ترین ٹراوزر چین کے ایک قدیم قبرستان ترپان سے ملی ہے، جو سنکیانگ میں واقع ہے۔ محقیقن کا خیال ہے کہ یہ ٹراوزر دسویں سے تیرہویں صدی قبل مسیح میں چین میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اس اونی ٹراوزر کے بارے میں ماہرین خیال ہے کہ یہ گھڑ سواری کے لیے پہنا جاتا تھا۔ مغربی دنیا میں آسٹریلیا سے لیکر امریکہ تک جو پینٹ، پتلون، شارٹس، ٹراوزر، سلیک، سکرٹ وغیرہ پہنے جاتے ہیں وہ اسی ٹروزر کی مختلف اشکال ہیں۔

 دوسری طرف ہمارے ہاں جو شلوار قمیض پہنی جاتی ہے، وہ مقامی لباس یا ہماری ایجاد نہیں ہے، بلکہ یہ لباس بھی وسطی ایشیا اور ترکی سے آیا ہے۔ مقامی لباس دھوتی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ عزت و خود داری کا تعلق لباس سے نہیں، بلکہ کسی ملک کی معاشی اور سیاسی حالت زار سے ہے۔ اگر اپ کو اپنے معاملات چلانے کے لیے روزانہ کشکول اٹھا کر نکلنا پڑے تو خواہ آپ نے کوئی بھی لباس پہن رکھا ہو اس سے آپ کی عزت و احترام پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.