صدر آصف علی زرداری سے ایک ملاقات


محمد شعیب عادل

مارچ 2013 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھااور پارٹی کو قومی اسمبلی میں کوئی 33 کے قریب نشستیں ملیں جبکہ مسلم لیگ نواز کو 144۔ مسلم لیگ نواز اپنی حکومت بنانے کی تیاریاں کررہی تھی۔

اسی دوران مارچ کے آخری ہفتے میں صدر آصف علی زرداری لاہور تشریف لائے ۔ شام کو سیفما سے انجم رشید نے مجھے فون کیا کہ کچھ صحافی زرداری صاحب سے ملنے جارہے ہیں اگر تم جانا چاہتے تو دفتر آجاؤ۔ میں دفتر پہنچا جہاں اور صحافی لوگ بھی اکٹھے ہورہے تھے کوئی پندرہ بندوں کا قافلہ جس میں خالد فاروقی، جاوید فاروقی، انجم رشید، علامہ اظہر صدیق، ایاز خان اور جگنو محسن وغیرہ شامل تھے ، امتیاز عالم کی قیادت میں بحریہ ٹاؤن میں واقع بلاول ہاؤس پہنچا۔

بلاول ہاؤس پہنچے تو پتہ چلا کہ سیکیورٹی کو اس میٹنگ کی کوئی اطلاع نہیں آئی اس لیے جب تک صدر کے سیکرٹری کی طرف سے کوئی حکم نہ آیا اندر جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ واقعہ یہ ہوا تھا کہ امیتاز عالم نے کہیں صدر صاحب سے فون کرکے میٹنگ طے کر لی جبکہ زرداری صاحب اپنی مصروفیات کی وجہ سے اپنے سیکرٹری یا سٹاف کو بتا نہ سکے۔ اب جب انہیں فون کرنے کی کوشش کی جاتی تو وہ مصروف ملتا۔ بہرحال کوئی آدھ پون گھنٹے بعد رابطہ ہوا اور ہمیں اندر جانے کی اجازت مل گئی۔

ایک گول میز کے گرد تمام صحافی بیٹھ گئے۔صدر صاحب نے معذرت کی کہ میری غلطی کی وجہ سے آپ کو انتظار کرنا پڑا وغیرہ وغیرہ۔ امتیاز عالم کو بھی فقرے بازی کی عادت ہے انھوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں۔ رات ہو چکی ہے آپ نے تو کھانا کھلانا نہیں لیکن جگنو محسن نے ہمیں کہا ہے کہ میٹنگ کے بعد میں آپ کو اچھا سا کھانا کھلاؤں گی۔ تو صدر آصف علی زرداری نے برجستہ کہا کہ ہاں وہ کھانا کھلوا سکتی ہیں کیونکہ اب  ان کی حکومت آ گئی ہے اور انھوں نے لندن کا ہائی کمشنر جو بننا ہے۔۔۔

جگنو محسن کے چہرے پر ایک رنگ آیا اور ایک گیا،جس کے بعد پوری میٹنگ میں وہ سرجھکائے بیٹھی رہیں۔

یاد رہے کہ نجم سیٹھی کی خواہش تھی کہ بی بی جب اقتدار میں آئیں تو مجھے لندن کا ہائی کمشنر لگایا جائے۔ بی بی نے جب ان کی خواہش پوری نہیں کی تو وہ صدر فاروق لغاری سے مل گئے تھے جنھوں نے بی بی کی حکومت کو ختم کرکے عبوری کابینہ میں نجم سیٹھی کو وزیر رکھ لیا تھا۔

جگنو محسن تو چپ ہوگئیں اور امتیاز عالم نے حالیہ الیکشن پر بات شروع کی۔ کچھ صحافیوں نے آصف علی زرداری کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ پیپلز پارٹی کی ہارنے کی کیا وجوہات ہیں۔ پارٹی کو یہ یہ اقدامات اٹھانے چاہیے تھے وغیرہ وغیرہ۔

زرداری صاحب نے سب کی باتیں غور سے سننے کے بعد ان صحافیوں سے پوچھا کہ

کیا یہ الیکشن آر اوز کا الیکشن نہیں تھا؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ ایجنسیوں نے پیپلز پارٹی کو انتخابی مہم چلانے سے ہی روک دیا تھا اور کہا تھا کہ اپنی مہم کو چار دیواری کے اندر محدود کریں۔ طالبان کی طرف سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو قتل کی دھمکیاں ملی تھیں۔ ایک دو جلسوں میں بم دھماکے بھی ہوئے۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے خلاف میڈیا میں بدترین پراپیگنڈہ کیا گیا؟

کیا آپ نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی؟

کیا آپ نے پیپلز پارٹی کی حکومت کی کامیابیاں عوام کے سامنے لائے جس میں اٹھارویں ترمیم، این ایف سی کا ایوارڈ اور بہت سی قانون سازی شامل تھی ؟

کیا آپ نے نواز شریف سے پوچھا کہ ججز کی تقرری کے طریقہ کار کو اٹھارویں ترمیم سے کیوں نکالا؟

افتخار چوہدری کا نام لیے بغیر کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عدلیہ نے ہمارے راستے میں کتنی رکاوٹیں کھڑی کیں؟

چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کو بے بس کرکے الیکشن آراوز کے حوالے کیا اور براہ راست ان کی نگرانی کی؟

اگر پیپلز پارٹی نے 2008 کے الیکشن میں 92 سیٹیں جیتی تھیں تو اس دفعہ بھی ہم 92 نہیں تو 75 سیٹیں جیت سکتے تھے لیکن ہمیں 31 سیٹیں دی گئی ہیں۔اگر الیکشن آزاد ہوتے تو پارٹی ایک بار پھر تمام جماعتوں سے مل کر مخلوط حکومت بنا کر سب کو ساتھ لے کر چل سکتی تھی مگر ایسا نہیں ہوا۔

لیکن میں چاہتا ہوں کہ اس ملک میں جمہوری عمل جاری رہے ۔ لہذا کسی بھی قسم کا احتجاج جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے اور غیر جمہوری قوتیں اس احتجاج سے فائدہ اٹھائیں گی۔ اس لیے ان تمام دھاندلیوں کے باوجود ہماری پارٹی الیکشن کے نتائج کو تسلیم کرتی ہے اور نواز شریف کی راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کرے گی اور ہم توقع کرتے ہیں کہ سب مل کر ساتھ چلیں اور میں امید کرتا ہوں کہ نواز شریف عوام کی بہتری کے لیے مزید قانون سازی کریں گے جو ہم نہیں کر سکے۔

زرداری صاحب نے آخر میں مسکراتے ہوئے کہا کہ بھئی رات بہت ہوچکی ہے، ایمرجنسی میں میٹنگ طے ہوئی تھی لہذا میں کھانے کا انتظام تو نہیں کر سکا۔ لیکن چائے کا انتظام ضرور کیا ہے چلیں دوسرے کمرے میں چائے پیتے ہیں۔۔۔

کچھ صحافیوں نے پوچھا کیا یہ گفتگو رپورٹ ہو سکتی ہے؟ زرداری صاحب نے کہا کیوں نہیں۔۔۔ لیکن اگلے دن کے اخبارات میں صرف اتنا رپورٹ ہوا کہ صدر آصف علی زرداری نے صحافیوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم الیکشن کے نتائج کو تسلیم کرتے ہیں اور نواز شریف کی حکومت سے اچھائی کی امید رکھتے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ

نیا زمانہ کی ڈائری سے ایک اقتباس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *