انور مقصود کا المیہ

جمیل خان

انور مقصود کے بارے میں کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے بڑھاپا خراب کرلیا، ایسا نہیں ہے۔

انور مقصود کے حوالے سے چالیس سالوں سے میرے ذہن پر یہی تاثر قائم رہا ہے کہ وہ عسکری حلقوں اور کراچی کے عسکریت پسندوں میں اچھا اثرورسوخ رکھتے ہیں، اور ان کی گڈ بکس میں شامل ہیں۔

آج جب دہشت گردوں نے بھی ادب کو بوری بند لاش کی مانند اپنے سامنے گہوارے میں ڈال دیا، تب انور مقصود بھی اس موقع پر موجود تھے، بلکہ انہوں نے اس موقع پر خطاب بھی کیا، یوں ہر بار کی طرح انہوں نے میرے خیال پر مہر تصدیق ثبت کردی۔اپنی تقریر میں انہوں نے سب سے زیادہ دکھ اس بات پر ظاہر کیا کہ اب ایم اے تک سندھی ضروری ہوجائے گی۔

حالانکہ بجائے دکھ کے، انہیں خوشی کا اظہار کرنا چاہیے تھا، اس طرح اگلے بیس برسوں میں سندھ کے اندر اردو سندھی کا فرق ختم ہوجائے گا۔

میرے بہت سے عزیز رشتہ دار تقسیم ہندوستان کے بعد سے ہی پنجاب میں مقیم ہیں۔ انہیں دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان کا تعلق الہ آباد، دہلی، بنارس یا لکھنؤ سے ہے۔ اس لیے کہ ان کا لہجہ، ان کی چال ڈھال، قد کاٹھ سب کا سب پنجاب کے رنگ میں رنگ گیا ہے۔ انہیں وہاں کوئی اردو اسپیکنگ نہیں کہتا، نہ وہ خود کو وہاں مہاجر کہتے ہیں۔

ایسا ہی سندھ میں بھی ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔

لیکن یہاں اردو بولنے والی کمیونٹی نے سندھیوں کے سیکولر مزاج اور پاکستانی ریاست کے ساتھ ان کی ناراضگی کا بہانہ بنا کر ان سے خود کو دور رکھا۔آج اردو بولنے والوں کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان 75 برس پہلے نہیں تھا، لیکن سندھ پنجاب بلوچستان اور پشتون ہزار سال پہلے بھی یہیں بستے تھے۔

ان کے قائدِ تحریک تو تاحال یہ حقیقت تسلیم کر رہے ہیں۔

انور مقصود اور اردو اسپیکنگ کمیونٹی کے دیگر تمام اکابرین جو ایم کیو ایم پاکستان کے گہوارۂ ادب میں شریک ہوئے، اور کراچی شہر کا نوحہ اور مرثیہ دھاڑیں مار مار کر پڑھا۔ انہیں اس شہر کی بربادی پر سب سے زیادہ شکوہ تو ایم کیو ایم پاکستان کے عسکریت پسندوں سے کرنا چاہیے تھا، جنہوں نے ادب کو بھی بوری بند لاش کی مانند گہوارے میں پھینک دیا ہے۔ان عسکریت پسندوں نے اپنے عسکری آقاؤں کی سرپرستی میں اس شہر میں تیس برس تک خانہ جنگی کا ماحول برقرار رکھا۔

شہر کی معیشت تباہ کی، اس شہر کی دو نسلوں کی تعلیم اور روزگار کو برباد کیا، شہر کو ملنے والا پانی عسکری آقاؤں کی سوسائٹیز کو فروخت کیا۔ شہر کا 56 فیصد علاقہ کنٹونمنٹ ایریاز میں شامل ہے، شہر کے ریونیو کا سب سے بڑا حصہ شہر کو نہیں ملتا ہے، اور نہ کبھی ملے گا، اس پر کسی نے کوئی سوال نہیں اُٹھایا۔اس گہوارۂ ادب میں وہ لوگ بھی شریک تھے، جو اسلحے کے زور پر شہر میں ہڑتالیں کرواتے تھے، بھتہ لیتے تھے، نہ دینے پر جان سے مار بھی دیتے تھے۔ یہی لوگ تھے، جنہوں نے بلدیہ فیکٹری کے ملازمین کو زندہ جلا دیا تھا۔تیس برسوں کے دوران اسی شہر میں ہزاروں افراد قتل کیے گئے اور کھربوں روپے کی املاک تباہ ہوئیں، اور ان سب کے ذمہ دار گہوارۂ ادب میں شریک تھے۔

جن مسائل کا رونا یہ کہہ کر رویا گیا کہ ہم اردو بولنے والے ہیں اس لیے جان کر ہمارے لیے یہ مسائل پیدا کیے جارہے ہیں۔ تو کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ، ملتان، فیصل آباد میں بھی یہی مسائل ہیں، وہاں بھی ایسی ہی محفل سجائیے!۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آج بھی شہری اداروں میں کام کرنے والوں کی اکثریت اردو بولنے والی کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے، اور اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ شہر میں سب سے زیادہ مسائل بھی انہی علاقوں میں ہیں جہاں اردو بولنے والوں کی اکثریت ہے۔یعنی آج بھی اس کمیونٹی کے لوگ خود اپنے لوگوں کا بُری طرح استحصال کر رہے ہیں۔

جب عسکری اداروں کی سرپرستی میں ان کا شہر پر غنڈہ راج قائم تھا، تب بھی یہ اردو کمیونٹی کے اکثریت والے علاقوں میں ہی اپنی غنڈہ گردی فرماتے تھے۔ ان کی سخت سے سخت ہڑتالوں کے دوران بھی پنجابی، پشتون اور سندھی کمیونٹی کی اکثریت والے علاقوں میں زندگی رواں دواں رہتی تھی۔ان کے لوگ ڈاکے بھی اردو کمیونٹی کی اکثریت والے علاقوں میں ڈالتے تھے۔ دیگر کمیونٹی کے علاقوں میں جھانکنے کی بھی ان کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔

آج بھی کراچی کے اردو اکثریتی بستیوں کے لوگ زمین میں بورنگ کرکے کھارا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں کہ گہوارۂ ادب والوں نے ان کے حصے کا پانی عسکری سوسائٹیز یا عسکری اداروں کی سرپرستی میں قائم ہونے والی سوسائٹیز یا پھر رینجرز کی سرپرستی میں چلنے والی ٹینکرز مافیا کو بیچ دیا تھا۔

سیوریج کا نظام، سڑکوں اور دیگر شہری ترقیاتی کاموں کا ان علاقوں میں آج بہت بُرا حال ہے۔ اس سب کے ذمہ دار بھی وہی لوگ ہیں جو گہوارۂ ادب میں براجمان تھے۔یہ لوگ پچھلے بیس برسوں سے مسلسل حکومت میں شامل رہے ہیں۔ لیکن اردو کمیونٹی پر بھی تُف ہے کہ وہ ان سے کوئی سوال کرنے کی آج بھی ہمت نہیں رکھتی۔

چھوٹے چھوٹے کوارٹرز اور تنگ گلیوں کی بستیوں میں دو فیتے والی چپلیں پہن کر گھومنے والے دہشت گردی اور بلیک میلنگ کی سیاست کے ذریعے کھربوں پتی بن گئے اور ان کے قائدِ تحریک کا یہ حال ہے کہ آج اُسے اپنے اثاثے بیچنا پڑ رہے ہیں، اور اپنی شراب کی لت کے لیے لوگوں سے چندہ مانگنا پڑ رہا ہے۔

بشکریہ: فیس بک

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *