ماضی کے تجربات کا سبق کیا ہے ؟

بیرسٹر حمید باشانی

 گزشتہ دنوں میں نے ان ہی سطور میں اس بات کا جائزہ لیا تھا کہ امریکہ کا دنیا میں بطور سپر پاور ابھار صرف فوجی طاقت وجہ سے نہیں تھا۔ اس کے ہتھیاروں کے ذخیرے میں سب سے زیادہ طاقت ور ہتھیار معاشی اور ثقافتی تھے۔ امریکہ نے ان ہتھیاروں کا استعمال بڑی چابک دستی سے کیا۔  اس نے دنیا میں سوشلزم کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کے لیے ایک وسیع حکمت عملی اختیار کی۔  مالی وسائل خرچ کیے۔  فوجی اتحاد تشکیل دیے، اور فوجی اور ثقافتی محاذ کھولے۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے اپنی مد مقابل سپر پاور سوویت یونین کا مقابلہ کرنے،اور مغربی یورپ میں سوشلزم کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو روکنے کے لیے وسیع پیمانے پر مالی وسائل کا استعمال کیا تھا۔ اس طرح سرمایہ داری اور سوشلزم کا اصل مقابلہ یورپ میں تھا۔ لیکن یہ لڑائی زیاہ تر تیسری دنیا کے غریب ممالک میں لڑی گئی، جہاں نہ سرمایہ داری تھی، اور نہ سوشلزم کا بھوت سروں پر منڈلا رہا تھا۔ یہ انتہائی پسماندہ ممالک تھے، جن پر جاگیرداری اور قبائلی روایات کا غلبہ تھا۔  ویت نام اور افغانستان سمیت کئی غریب ممالک اس کی کلاسیکل مثال ہیں۔

میں نےاس سلسلے میں عرض کیا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے خوفناک اثرات کے زیر اثرمغربی یورپ کے کئی ممالک معاشی تباہی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار تھے ، جس کو مغربی دانشور سوشلزم کے فروغ کے لیے ایک زرخیز زمین قرار دیتے تھے۔  چنانچہ امریکہ نے سوشلزم کے اس مبینہ خطرےسے نمٹنے کے لیے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے۔ انہوں نے ان ممالک میں معاشی اور سیاسی استحکام لانے کے لیے اربوں  ڈالرز ان ممالک کی مدد کے لیے مختص کیے۔ مغربی یورپ کے 17 ممالک پر اربوں ڈالر خرچ کیے۔اس فراغ دلانا سخاوت کے نتیجے میں ان ممالک میں معاشی خوشحالی اور ترقی کا ابھار پیدا ہوا۔  سیاسی بے چینی اور افراتفری کا ماحول کم ہوا، اور ایک طرح کا سیاسی استحکام پیدا ہوا۔ اس کے ساتھ ہی یہ ممالک معاشی اعتبار سے امریکہ پر انحصار کا راستہ اختیار کر کہ امریکہ کی تجارتی منڈی بن گئے ، جہاں پر وسیع پیمانے پر امریکی مصنوعات کی کھپت شروع ہو گئی۔

یہ تعلق آگے چل کر1950 میں سوویت یونین کے خلاف فوجی اتحاد کی شکل اختیار کر گیا، اور نارتھ ایٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن یعنی نیٹو کا قیام عمل میں  آیا۔ یہ فوجی محاذ آگے چل کر سوشلزم کے خلاف پہلا عالمی مورچہ بن گیا، جو ایک فوجی اتحاد کے طور پر یہ آج بھی قائم ہے ۔ سوویت پیش قدمی کے خلاف امریکہ کا یہ تجربہ بڑی حد تک کامیاب رہا۔ چنانچہ انہوں نے سوشلزم کا راستہ روکنے کے لیے کئی دوسرے فوجی اتحاد اور محاذ تشکیل دیے۔ اس طرح کے کئی ایک اتحادوں اور محاذوں کی فرنٹ لائن پر قیادت کی ، اور کئی ایک کو پس منظر میں رہ کر منظم کیا، اور ان کو معاشی و تیکنیکی مدد فراہم کی۔ جن میں ایک بڑا محاذ سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن  تھا۔

یہ بنیادی طور پرسوشلزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک اور عالمی کوشش تھی ، جس کا مقصد سوویت یونین کے خلاف محاذ بنانا تھا۔اس محاذ میں کھلی شرکت کے بجائے امریکہ پس منظر میں رہ کر تمام وسائل مہیا کرتا رہا ۔ ابھی حال ہی میں امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے سینٹو سمیت اس طرح کے  دیگرمعاہدوں پر  اپنے آرکائیو کو عوام کے لیے کھولا ہے۔ ان آرکائیو کے اندر یہ ساری تفصیل موجود ہے کہ محاذ کا واحد مقصد سوویت پیش قدمی اور سوشلزم کا راستہ روکنا تھا۔

سینٹو بننے سے پہلے اس اتحاد کا نام بغداد پیکٹ تھا۔ یہ بغداد پیکٹ 1955 میں ہوا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد سوویت یونین کے خلاف فوجی اور معاشی محاذ بنانا تھا۔  اس محاذ کی تشکیل میں بنیادی کردار برطانیہ کا تھا، اور اس میں جن دیگر ممالک کو شامل کیا گیا ان میں ترکی پاکستان اور ایران شامل تھے۔ اس محاذ کے ذریعے بنیادی طور پر اسلامی ممالک کو سوویت یونین کے خلاف صف آرا کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی گئی۔ سن 1959 میں جب بغداد نے اس اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کیا، تو اس اتحاد کا نام بدل کر سینٹو یعنی سنٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن رکھا گیا۔

جیسا کہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے آرکائیو میں واضح کیا گیا کہ بغداد پیکٹ کا بنیادی مقصد مشرق وسطی میں سوشلزم کی پیش قدمی کو روکنا تھا ۔ اس معاہدے کے پس منظر کے بارے میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے جو وضاحت کی ہے وہ یہ ہے کہ 1950 کے شروع میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ کو سوشلزم سے بچانے کے لئے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ۔ اس وقت خطے کے حالات کی وجہ سے یہ ممکن نہیں تھا  کہ اس علاقے میں کوئی ایک مشترکہ اتحاد قائم ہو سکے۔  اس خطے میں اس وقت ایک طرف توعرب اسرائیل تصادم جاری تھا،  اور دوسری طرف مصر کی قیادت میں نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد جاری تھی۔ ان حالات میں یہ مشکل تھا کہ مشرق وسطیٰ کے آزاد ملکوں اور خطے کے نو آبادیاتی تسلط کے زیر اثر ممالک کو ایک جگہ پر لایا جائے ۔ اس لیے امریکہ نے ان ممالک کی طرف توجہ مرکوز کی، جن کی سرحدیں سوویت یونین کے قریب تھی۔

سوویت یونین کے خلاف مشرقِ وسطیٰ کے اس معاہدے کا مرکزی خیال یہ تھا کہ ایک طرف ترکی جیسےنیٹو کے ممبر ممالک دوسری طرف پاکستان جیسے ممالک  کے درمیان اتحاد پیدا کیا جائے۔ اس طرح امریکی ایما پر اور اس کی حوصلہ افزائی سے مختلف قسم کے ممالک کے درمیان باہمی معا ہدے شروع ہوئے، جن میں ترکی اور پاکستان کے درمیان استحکام اور سکیورٹی کا شامل معاہدہ تھا۔ اسی طرح 1955 میں ترکی اور  عراق کے درمیان باہمی معا ہدہ ہوا۔ امریکہ نے اس پیکٹ کے اندر موجود ہرایک ملک کے ساتھ الگ الگ معاہدوں پر دستخط کیے۔  لیکن وہ اتحاد میں باضابطہ شمولیت کے بجائے کے ایک مبصر کے طور پرشرکت کرتا رہا۔

 لیکن آگے چل کر مشرق وسطیٰ میں جو سیاسی لینڈ سکیپ تبدیل ہوئی اس نے اس پیکٹ کو بری طرح متاثر کیا ۔ 1956 میں جمال عبدالناصر نے نہر سویز کا کنٹرول حاصل کر لیا، جس کے خلاف اسرائیل نے بہت سخت ردعمل دیا، اور اس کے نتیجے میں برطانیہ اور فرانس کی فوجوں نے مداخلت کی۔ اس فوجی کاروائی کے نتیجے میں اس خطے میں برطانیہ کا اثرو رسوخ کمزور ہو گیا ۔ امریکہ نے لبنان پر حملہ کردیا ،جس کی وجہ سے بغداد پیکٹ اختلافات کا شکار ہونا شروع ہو گیا۔

اس سے پہلے آٹھ ستمبر 1954 میں پاکستان سیٹو کا ممبر بن گیا ۔ فلپا ئن کے دارالحکومت منیلا میں ہونے والے اس اجلاس میں امریکا، برطانیہ ، فرانس، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ، تھائی لینڈ اور فلپائن نے شمولیت کا اعلان کیا۔ اس طرح پاکستان ایشیا کا واحد ملک بن گیا تھا، جو بیک وقت بغداد پیکٹ اور سینٹو کا ممبر تھا۔ یہ اپنے وقت کے دو بہت بڑے فوجی محاذتھے، جن کی تشکیل کا مقصد سوویت یونین کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ اور تیزی سے پھیلتے ہوئے نظریات کا مقابلہ کرنا تھا۔ ان معاہدوں کی وجہ سے پاکستان کے بارے میں سویت یونین کی روایتی پالیسی میں تبدیلی آنی شروع ہوئی۔

اس تبدیلی کا اظہار آگے چل کر مسئلہ کشمیر پر سیکورٹی کونسل کی قرادادوں پر سوویت ویٹو کی شکل میں ہوا۔ ان معاہدوں میں پاکستان کی شمولیت پربھارت نے بھی بہت سخت رد عمل دیا۔ بھارتی وزیر اعظم پنڈت نہرو نے کہا کہ ان معاہدوں میں شمولیت کی وجہ سے پاکستان عالمی سردجنگ کو برصغیر میں گھسیٹ لایا ہے۔ ان معاہدوں کی وجہ سے مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوئے اس کا تفصیلی جائزہ کسی آئندہ کالم میں لیا جا ئے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *