ایران میں مظاہرے جاری ہیں۔۔۔۔

ایران میں جاری عوامی مظاہروں کے ذریعے شہری آزادیوں کے لیے جدوجہد کو اب سات ماہ ہو چکے ہیں، جس میں آج بھی بڑے بڑے عوامی گروپ حصہ لیتے ہیں۔ ان احتجاجی مظاہروں میں ایرانی کھلاڑیوں کا کردار ابھی تک ایک بہت حساس موضوع ہے۔

تہران میں حکمران سیاسی اور مذہبی قیادت کے خلاف عوامی احتجاج میں اب تک ایسے کئی مشہور و معروف ملکی کھلاڑی بھی شامل ہو چکے ہیں، جنہوں نے ایسا کرتے ہوئے اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے شعبے میں اپنا کیریئر بھی خطرے میں ڈال دیا۔ لیکن یہ بنیادی سوال ابھی تک اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر بات ایران میں سیاسی اور سماجی آزادیوں کی ہو تو کھیلوں کے ملکی شعبے اور کھلاڑیوں کو کیا کرنا چاہیے اور وہ کس کا ساتھ دیں؟

ایران میں حکمرانوں کے خلاف عوامی مظاہروں کے موضوع پر جرمنی کی فٹ بال ایسوسی ایشن اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اشتراک عمل سے جرمنی کے شہر ڈورٹمنڈ کے جس جرمن فٹ بال میوزیم میں ایک تقریب کا حال ہی میں اہتمام کیا گیا، اس سے خطاب کرتے ہوئے علی کریمی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بالکل واضح موقف اختیار کیا۔

علی کریمی ایران میں موجودہ ملکی قیادت کی ناقد اپوزیشن کی ایک مرکزی شخصیت ہیں۔ علی کریمی ماضی میں جرمنی کے مشہور فٹ بال کلب بائرن میونخ کے لیے بھی کھیلتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا، کھلاڑیوں کو تاریخ کی درست سمت میں کھڑا ہونا چاہیے‘‘۔کھلاڑیوں کو لازمی طور پر اپنا بہت منفرد سماجی کردار ادا کرتے ہوئے عوام کی آواز کا حصہ بننا چاہیے‘‘۔

کریمی کی عمر اس وقت 44 برس ہے اور وہ  امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کریمی کے مطابق ایرانی حکومت نہ صرف ان کے اندرون ملک تمام اثاثے ضبط کر چکی ہے بلکہ انہیں باقاعدگی سے جان سے مار دیے جانے کیی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ وہ قیمت ہے جو انہوں نے ایران میں جاری آزادی کی عوامی جدوجہد کی حمایت کرنے اور اس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ادا کی ہے اور جو کوئی کم قیمت بھی نہیں ہے۔ تاہم ان کے مطابق وہ اس قیمت کو بھی اس لیے بہت زیادہ نہیں سمجھتے کہ معاملہ بالآخر ان کے اپنے وطن میں جاری آزادی کی عوامی جدوجہد کے مستقبل اور اس کی کامیابی کا ہے۔

جرمن شہر ڈورٹمنڈ میں منعقدہ اس تقریب سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ اسی ایرانی عوامی جدوجہد کی فٹبال کی ایک اور معروف ایرانی شخصیت کس طرح حمایت کر رہی ہے۔ یہ شخصیت نیلوفر اردلان کی ہے، جو ایران سے تعلق رکھنے والی فٹبال اور فٹ سال کی ایک سابقہ بین الاقوامی کھلاڑی ہیں۔

نیلوفر اردلان بھی ایرانی خواتین پر جبر کی مخالفت میں اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اردلان کی زندگی پر ایک فلم بھی بن چکی ہے، جس کا ٹائٹل سانس لینے کا وقت‘ ہے۔ ڈورٹمنڈ منعقدہ تقریب میں اس فلم کے کچھ حصے بھی دکھائے گئے۔ اس لیے کہ نیلوفر اردلان کی پوری زندگی ہی اس بات کی علامت بن چکی ہے کہ ایرانی خواتین آزادی کے لیے کس طرح کی جدوجہد کر رہی ہیں۔

نیلوفر اردلان کو، جن کی عمر اس وقت 38 برس ہے، 2015ء میں ایرانی فٹ سال ٹیم کی کپتان کے طور پر ایشیائی چیمپئن شپ میں حصہ لینے کے لیے جانا تھا مگر وہ ان مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے بیرون ملک جا ہی نہیں سکی تھیں۔ اب اردلان ایران میں لڑکیوں کے لیے ایک فٹ بال پروگرام چلاتی ہیں۔ان کا کہنا ہے، ہمارے معاشرے میں خواتین کی زندگی رکاوٹوں سے بھری پڑی ہے۔‘‘ نیلوفر اردلان نے، جو ڈورٹمنڈ منعقدہ تقریب میں ایران سے ایک ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئیں، شرکاء کو بتایا، مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں ایران میں اپنی ہم وطن عورتوں اور ماؤں کے لیے ان کی طرف سے مزاحمت میں ایک رول ماڈل کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہی ہوں‘‘۔

اسی تقریب میں ایران کے ایک سابق جوڈو کھلاڑی واحد سرلک نے بھی اپنے بہت پریشان کر دینے والے تجربات بیان کیے۔ انہیں 2005ء میں جوڈو کی عالمی چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیتنے کے اپنے خواب ترک کرنا پڑے تھے۔ وہ تہران حکومت کے اصرار پر اس لیے اپنا ایک ایسا مقابلہ ہار گئے تھے، جس میں کامیابی کے بعد ان کا اگلا سامنا جوڈو کے ایک اسرائیلی کھلاڑی سے ہونا تھا اور ایرانی قانون کے تحت وہ کسی اسرائیلی کھلاڑی کے خلاف فائٹ میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔ چار سال بعد واحد سرلک نے ایرانی حکومت کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے ہی اگلے عالمی مقابلوں کے دوران اسرائیل کے ایک کھلاڑی کے خلاف جوڈو فائٹ میں حصہ تو لیا، لیکن اس کے بعد وہ واپس اپنے وطن لوٹ ہی نہ سکے۔

اب سرلک کی عمر 42 برس ہے اور وہ کئی برسوں سے جرمنی میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے بتایا، میں 15 سال سے ایران میں اپنے اہل خانہ کو مل نہیں سکا۔ انہیں میری وجہ سے بے تحاشا مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میری بہن اور میرے بھائی کوئی کام نہیں کر سکتے۔ انہیں اجازت ہی نہیں ملتی۔ انہیں میری وجہ سے ایسے زندگی گزارنا پڑتی ہے، جیسے وہ جیل میں ہوں‘‘۔

dw.com/urdu

One Comment