٢٩ نومبر ١٩٤٧ کو اقوام متحدہ کی قرارداد ١٨١ کے ذریعے فلسطین میں دو ریاستوں کے قیام کی تجویز دی گئی۔ ایک ریاست یہودیوں کے لیے اور دوسری فلسطینی عربوں کے لئے۔ فلسطین کا ٥٦% رقبہ یہودیوں کو اور ٤٤% عربوں کو ملنا تھا۔ فلسطینی عربوں کو یہ شکایت تھی کہ یہودی تارکین وطن کی فلسطین میں آمد سے پہلے وہ بھاری اکثریت میں تھے۔ ادھر یہودیوں کو یہ اعتراض تھا کہ انہیں ملنے والا بیشترعلاقہ بنجر صحرا تھا جسے قابل رہائش بنانے کے لئے کثیر سرمایے کی ضرورت تھی۔
عربوں نے اس قرارداد کو مسترد کر دیا۔ ان کا موقف یہ تھا کہ فلسطین میں عربوں کی دو تہائی اکثریت تھی اور فلسطین کے بڑے رقبے پر وہ آباد تھے۔ عربوں اور یہودیوں میں جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ یہودی دہشت گردوں نے کوئی ٤٥٠ فلسطینی دیہات مسمار کر دیئے۔ ادھر عرب ملیشیا نے بیس ہزار یہودیوں کو ہیبرون، جینین، یروشلم، اور غزہ سے بے دخل کر دیا۔بہت سے فلسطینی خوف کی وجہ سے بھی اپنے دیہات اور شہر چھوڑ گئے۔ وہ یہودی دہشت گردوں کی سفاکی اور بربریت کا مشاہدہ کر چکے تھے۔
قصہ مختصر اسرائیل ١٤ مئی ١٩٤٨ کو وجود میں آیا۔ دوسرے دن پانچ عرب ملکوں مصر، اردن، لبنان، شام، اور عراق نے ہر طرف سے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ اس جنگ میں چیکوسلواکیہ سے ملنے والے اسلحہ نے اسرائیل کو بچا لیا۔ اس وقت کی امریکی حکومت عربوں کی ہمدرد تھی اور اس نے دونوں متحارب فریقوں کو اسلحہ دینے پر پابندی لگا دی تھی۔ اس کے بعد ١٩٥٦ میں نہر سویز پر قبضے کی جنگ، ١٩٦٧ میں چھ دن کی جنگ، ١٩٧٣ میں یوم کپور کی جنگ، ١٩٨٢ میں لبنان کی پہلی جنگ، اور ٢٠٠٦ میں لبنان کی دوسری جنگ ہوئی۔
نہر سویز کی جنگ کے سوا اسرائیل نے کسی جنگ میں پہل نہیں کی۔ یوم کپور کی جنگ میں اسرائیل کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔ لیکن دوسری جنگوں کی طرح اس نے یہ جنگ بھی جیت لی۔ ١٩٦٧ کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے نہ صرف سارے فلسطین پر قبضہ کر لیا بلکہ مصر سے جزیرہ نما سینائی اور غزہ کی پٹی اور شام سے گولان کی پہاڑیاں چھین لیں۔ گویا اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے کا حجم چار گنا بڑھ گیا۔
١٩٧٩ میں واشنگٹن میں جمی کارٹر کی کوششوں سے اسرائیل اور مصر میں امن معاہدہ ہوا۔ اسرائیل نے مصر کے تمام علاقے واپس کر دئیے۔ مصر نے غزہ کی پٹی واپس لینے سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ غزہ میں موجود فلسطینیوں کی جنگجو تنظیمیں تھیں۔ شائد اسی وجہ سے اردن نے بھی ویسٹ بنک واپس لینے سے انکار کر دیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں مصر اور اردن نے فلسطینیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ بالاخر ١٩٩٣ میں اسرائیل اور پی ایل او کے درمیان اوسلو معاہدہ ہوا اور فلسطینی عربوں کو ویسٹ بنک اور غزہ میں خود مختاری مل گئی۔پی ایل او نے مسلح جدوجہد ترک کرنے اور اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔
٢٠٠٦ کا الیکشن حماس جیت گئی۔ لیکن اس نے پی ایل او کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے سے انکار کر دیا۔ حماس اور پی ایل او کی لڑائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ویسٹ بنک پر پی ایل او اور غزہ پر حماس کا مکمل کنٹرول ہو گیا۔ چونکہ حماس اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی اور اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کر دی۔
موجودہ صورت حال یہ ہے کہ حماس وقتا” فوقتا” اسرائیل پر راکٹوں کی بارش کرتی رہتی ہے۔ جواب میں اسرائیل بھی غزہ پر آسمان سے آگ برساتا ہے۔ حماس کے راکٹ لانچر گنجان آبادی میں ہیں۔ نتیجہ یہ کہ اسرائیل کی جوابی کارروائی سے غزہ والوں کا بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیلی حکومتوں کا مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں سے رویہ اور برتاؤ انتہائی ظالمانہ رہا ہے۔
خود یہودی دانشور اور بائیں بازو کے رہنما اس ظالمانہ رویے کے خلاف آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ امریکی ہی نہیں اسرائیلی اخبارات اور میڈیا میں بھی ان کے مضامین اور انٹرویو مل جائیں گے۔ نوم چومسکی، جمی کارٹر، رچرڈ بن کرامر، رابرٹ فرائیڈ مین، یورام بنور، اور انتھونی لیوس بھی اپنی تحریروں، تقریروں، انٹرویو، یا کتابوں میں اسرائیل کے مظالم بیان کر چکے ہیں۔ جمی کارٹر کے سوا یہ سب دانشور یا مصنف یہودی ہیں۔ اس لسٹ میں موشے دیان کی بیوہ کو بھی شامل کر لیں۔ وہ اسرائیلی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کی سخت ناقد اور فلسطینیوں سے عملی ہمدردی کرنے والوں میں شامل ہے۔ نیوز ویک میں اس کا انٹرویو پڑھ لیں۔
اب ہم اسرائیل اور پی ایل او اور حماس کے زیر قبضہ علاقوں کی تعلیمی، معاشی، اور معاشرتی صورت حال کا طائرانہ جائزہ لیتے ہیں۔ پھر آپ خود فیصلہ کریں کہ کس فریق کی پالیسیاں اور حکمت عملی اپنے شہریوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئی ہیں اور کس کی نقصان دہ۔
اسرائیل
رقبہ: آٹھ ہزار مربع میل (یہ مڈل ایسٹ کے کل رقبے پچاس لاکھ مربع میل کے ایک فی صد کا بھی چھٹواں حصہ ہے)۔
آبادی: نوے لاکھ (اس آبادی میں تیس لاکھ غیر یہودی فلسطینی عرب، دروزی مسلمان، اور عیسائی بھی شامل ہیں)۔
سرکاری زبانیں: عبرانی اور عربی
مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی): ٥٠٠ ارب ڈالر
فی کس آمدنی: ٥٥ ہزار ڈالر
اسرائیل میں تین ہزار ہائی ٹیکنیکل کمپنیاں ہیں۔ امریکہ کی سیلیکان وادی کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ ہائی ٹیکنیکل کمپنیاں اسرائیل میں ہیں۔ ونڈو این ٹی کا آپریٹنگ سسٹم، وائس میل ٹیکنالوجی، پینٹیم ایم ایم ایکس ٹیکنالوجی، اور امریکہ آن لائن کے لئے میسنجر اور آئ سی کیو ٹیکنالوجی اسرائیل میں ڈیزائن یا ایجاد ہوئیں۔ سماعت سے معذور افراد کے لئے کوکلر امپلانٹ کی ایجاد کا سہرا بھی اسرائیلی سائنسدانوں کے سر ہے۔ اب تک ٢١٢ یہودی نوبل انعام حاصل کر چکے ہیں۔ اگر آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو نوبل انعام حاصل کرنے والے اسرائیلیوں کی تعداد امریکہ، جرمنی، اور فرانس سے بھی زیادہ ہے۔
اسرائیلی حکومت نے اسرائیل کے قیام کے وقت عربوں کو پیش کش کی تھی کہ وہ چاہیں تو اسرائیل کے شہری بن کر اسرائیل میں رہیں۔ کچھ عربوں نے یہ پیش کش قبول کر لی۔ دیگر عربوں نے اسرائیل سے بھاگ جانے میں عافیت سمجھی۔ اسرائیل میں آباد عربوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حماس کے لیڈر اسماعیل ہانیہ کی اپنی تین سگی بہنیں خولیدیہ، لیلیٰ، اور صباح غزہ کی بجائے اسرائیل میں رہتی ہیں۔ میں اس کی کئی ذرائع سے تصدیق کر چکا ہوں۔
عربوں کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق ١٩٤٨ سے ١٩٧٠ تک کوئی دس لاکھ یہودیوں کو عرب ممالک سے بے دخل کر دیا گیا۔ ان میں سے ساڑھے چھ لاکھ اسرائیل میں آباد ہو گئے۔ یہ بے دخل ہونے والے یہودی اپنے گھر بار اور جائیدادیں (جن کی مالیت ٩٩٠ ارب ڈالر بنتی ہے) عرب ملکوں میں چھوڑ گئے۔
اب ویسٹ بنک اور غزہ کا جائزہ لیتے ہیں۔
رقبہ: ٢٢٨٠ مربع میل
آبادی: پچاس لاکھ (تیس لاکھ ویسٹ بنک اور بیس لاکھ غزہ میں)۔
سرکاری زبان: عربی
مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی): ١٩ ارب ڈالر
فی کس آمدنی: ٤ ہزار ڈالر
ویسٹ بنک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، سٹون اور ماربل، اور ریل اسٹیٹ اور غزہ میں ٹیکسٹائل، فرنیچر، اور فوڈ پراسیسنگ کے سوا کوئی انڈسٹری نہیں۔ ویسٹ بنک میں بے روزگاری کی شرح ١٣ فی صد اور غزہ میں ٤٧ فی صد۔ گویا غزہ میں تقریبا” آدھی آبادی بے روزگار ہے۔ غزہ کی ٨٠ فی صد آبادی عالمی امداد پر گزارہ کرتی ہے۔ ڈیڑھ لاکھ فلسطینی اسرائیل میں جاب کرتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بیس ہزار غزہ سے آتے ہیں۔ انہیں وہی تنخواہ ملتی ہے جو اسرائیلی شہریوں کو۔ حماس کے اسرائیل پر حالیہ حملے کے بعد غزہ کے یہ بیس ہزار رہائشی بھی بے روزگار ہوگئے ہیں۔ شروع میں اسرائیل اپنی ضرورت کے لئے تمام ملازمین فلسطین سے حاصل کرتا تھا۔ لیکن حماس، اسلامک جہاد، اور دیگر جنگجو تنظیموں کے خودکش حملوں کے بعد اس نے دوسرے ممالک سے بھی ملازمین کی بھرتی شروع کر دی۔
اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کی جنگی طاقت کا موازنہ
اسرائیل ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کے پاس ٹینک، طیارے، میزائل سب کچھ ہے۔ نیز اس کی فوج کا شمار دنیا کی طاقتور ترین افواج میں ہوتا ہے۔ فلسطینیوں کے پاس کوئی باقاعدہ فوج نہیں۔ ویسٹ بنک میں پی ایل او گیارہ تنظیموں کا مجموعہ ہے۔ ادھر غزہ میں حماس کے ساتھ اسلامک جہاد اور دیگر فلسطینی تنظیمیں سرگرم ہیں۔ ان کے پاس روس اور چین کا پرانا اسلحہ ہے۔ لہذا یہ کھلی جنگ کرنے کی بجائے اسرائیل کو اشتعال دلانے کے لئے خودکش حملے کرنے، گنجان آبادیوں سے اسرائیل پر راکٹ برسانے، یا کبھی کبھی اسرائیل میں گھس کر شہریوں کو قتل اور املاک تباہ کرنے پر اکتفا کرتی ہیں۔ اسرائیل کا جوابی ردعمل خوفناک ہوتا ہے۔ یوں بھی جنگوں میں انسان قتل اور بستیاں برباد ہوتی ہیں۔
روس اور یوکرین کی جنگ میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ فلسطین اور اسرائیل کے اس تنازعے میں ٢٠٠٠ سے اب تک ١٣ ہزار فلسطینی اور تین ہزار اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس میں حالیہ ٧ اکتوبر اور اس کے بعد ہونے والی ہلاکتیں شامل نہیں۔ اب مسلمانوں کی آپس کی کچھ جنگوں اور ان میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار دیکھیں۔
١٩٧١ میں مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت اور بنگالیوں کی مزاحمت کے نتیجے میں بنگالیوں کے بقول تیس لاکھ بنگالی قتل اور دو لاکھ عورتوں کا ریپ ہوا۔ ممکن ہے اس تعداد میں مبالغہ ہو۔
١٩٨٠–١٩٨٨ ایران – عراق جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دس لاکھ سے بیس لاکھ بتائی جاتی ہے۔
١٩٨٢ شام میں حافظ الاسد کے خلاف اخوان کی بغاوت کے دوران دس سے چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔
١٩٨٣–١٩٩٨ سوڈان کی سول وار میں مرنے والوں کی تعداد ١٩ لاکھ ہے۔
١٩٩١ صومالیہ کی سول وار میں پانچ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔
١٩٩٢–٢٠٠٢ الجزائر کی دس سالہ سول وار میں ہلاکتوں کا تخمینہ ٤٤ ہزار سے دو لاکھ ہے۔
٢٠٢٢ یمن سول وار ڈیڑھ لاکھ اموات میدان جنگ میں اور سوا دو لاکھ اموات جنگ کے نتیجے میں پڑنے والے قحط اور طبی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ہوئیں۔
اب آپ ان سوالوں کے جواب تلاش کریں۔
کیا وجہ ہے کہ اگر مسلمانوں کی آپس کی لڑائی میں لاکھوں مسلمان مارے جائیں تو پاکستان کے مسلمانوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے لیکن اسرائیل چند درجن فلسطینیوں کو مار دے تو ان کا غیض و غضب کسی آتش فشاں کی طرح بھڑک اٹھتا ہے؟
اگر عرب ملکوں سے بے دخل کئے جانے والے لاکھوں یہودیوں کو اسرائیل قبول اور آباد کر سکتا ہے تو عرب ممالک فلسطین میں بے دخل ہونے والے عربوں کو کیوں قبول اور آباد نہیں کرتے؟
(عربوں کے پاس ٥٠ لاکھ مربع میل رقبے میں ٢٢ ملک ہیں جن کی کل آبادی ٤٥٣ ملین یا ٤٥ کروڑ سے زیادہ ہے۔)
کیا اقوام متحدہ کی دو ریاستوں کی قرارداد مسترد کرکے اسرائیل پر حملہ کرنے کا فیصلہ درست تھا؟
عربوں نے اسرائیل پر حملے کرکے کچھ پایا یا کھویا؟
حماس کے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے اور اس کے خلاف متشدانہ کارروائیاں کرنے سے فلسطینیوں کا فائدہ ہو رہا ہے یا نقصان؟
کیا فلسطین کا مسئلہ جنگ سے حل ہو جائے گا؟
کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ فلسطینی عرب زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے اپنی الگ ریاست بنانے کی بجائے اسرائیل کا حصہ بن جائیں اور برابر کے شہری حقوق حاصل کر لیں؟
اگر فلسطینی لڑائی مار کٹائی کی پالیسی ترک کرکے اسرائیلی ریاست کے شہری بن جائیں تو انہیں اپنی توانائیاں جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے حصول پر لگانے کا موقع مل جائے گا۔ ایسا کرنے سے ان کی معاشی حالت بہتر ہو گی۔ نیز اسرائیلیوں کے تعاون اور اشتراک سے وہ اپنے شہروں اور قصبوں کو بھی صاف ستھرا اور خوبصورت بنا لیں گے۔