کشمیر:سیکس ایجوکیشن پر شور کیوں؟

قمر الاسلام

education

لگتا ہے ریاستی حکومت کے سامنے جب بھی کوئی نازک معاملہ آجاتا ہے تو وقت کے حکمرانوں سے نیچا نہیں بیٹھا جاتا۔اُن کی نظر میں جیسے گھر کی ساری رونق محض ہنگاموں پر منحصر اور موقوف ہوتی ہے۔مسائل کاحل ان کے فہم وادراک سے پرے کہیں اٹک اور لٹک کے رہ جاتا ہے۔اس صورت حال کی عملی مثالیں ہمارے سامنے مخلوط نظام تعلیم اور جنسی تعلیم کے بارے حکومت کے روئیے سے ظاہر ہیں۔

جمہوری اور وفاقی طرز حکومت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ علاقائی،نسلی اور کلچرل اکائیوں کے طرز زندگی اور امنگوں کا لحا ظ رکھا جائے اور مقامی جذبات اور ترجیحات کو ملحوظ نظر رکھ کر پالیسیاں ترتیب دی جائیں،اس ریاست میں البتہ یہ رویہ مقصود ہے۔

ریاستی حکومت کے لئے یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ جنسیات سے متعلق تعلیمی نصاب کو یہاں فی الفور اور من وعن لا گو کرنا دھماکہ خیز ثابت ہو سکتا ہے ۔بالخصوص جبکہ یہاں بحث وتمحیص اور سائنٹفک مزاج وادراک کی کوئی روایت ہے اور نہ اس طرز فکر کیلئے حالات ساز گار۔

چنانچہ میڈیا بالخصوص اردواخبارات میں جو رپورٹیں اور تبصرے شائع ہوئے اُن سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ مرکزی سر کار ایک سازش کے تحت ہندو ایجنڈے کو عملانے کی خاطر یہاں کے پاکیزہ تعلیمی نظام ونصاب کو بگاڑ کر اسے کوک شاستر اور کام شاستر میں تبدیل کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اس طرح وہ سنتوں اور صوفیوں کی اس سرزمین کو جنس بے راہ روی کی ڈگر پرڈالنے کی کوشش کر رہی ہے ۔

ہمارا مزاج ایسا ہے کہ جب تک ہم عملی میدان میں زندگی کے ٹھوس حقائق کا سامنا نہیں کرتے اور کسی صور ت حال کو براہ راست مضر یا منفعت بخش نہیں پاتے وہ پرانے طرز زندگی کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔کوئی اچھی دوائی کسی جسم میں الٹاردعمل پیدا کرتی ہے،کوئی نمکین شیرین یاترش غذا بنیادی طور کتنی ہی سود مند اور صحت بخش کیوں نہ ہو بعض حالات میں ممنوع ٹھہرتی ہے۔ایک صحت مند انتظامیہ اور فعال حکومت کا فرض ہے کہ پالیسیاں مرتب کرتے وقت ’’نقل راچہ عقل‘‘والے اصول پر کام نہ کریں۔

مغرب کے لئے علم وآگہی کا سورج مشرق سے اُس وقت ابھراجب وہ دور جہالت میں دھنساہوا تھا ۔وقت کی ستم ظریفی نے مشرق کو قدامت پرستی اور روایت پسندی سے آگے بڑھنے نہ دیا۔جبکہ مغرب سائنس تحقیق ایجادات اور ٹیکنالوجی میں میدان مار گیا۔مشرق نے جب نئے حا لات میں آنکھیں کھولیں تو اس کے پاس مغرب کے نقش قدم پر چلنے کے سوا چارہ کا رہی نہیں تھا ۔

سر سید احمد خاں ایسے روشن دماغ اور دوراندیش مفکر کو کا فر قرار دینے اور اُس کے گلے میں جوتوں کی مالائیں پہنانے کے باوجود جب لوگوں نے دیکھا کہ انہیں مکتبوں اور پاٹ شالاؤں سے آگے بھی جانا ہے تو لوگوں کو کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔آج صورت حال یہ ہے کہ کوئی فرد یہ نہیں چاہتا کہ اُس کا بچہ ممکن ہو تو اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کرے۔ہر ماں و باپ کی یہی کوشش رہتی ہے کہ اُس کی لڑکی کو یونیورسٹی میں میڈیکل کالج میں کسی فیکٹری میں یا کسی اعلیٰ ادارے میں داخلہ نصیب ہو۔حالانکہ وہاں تعلیم بھی مخلوط ہوتی ہے اور کام بھی۔

مغرب میں صنعتی انقلاب نے قدامت پرستی کی دیوار یں گرادیں۔عورتوں کو قید تنہائی سے نکل کر زندگی کے مسائل سے الجھناپڑا۔زندگی کے مختلف شعبوں میں عورت مرد کے دوش بدوش کام کرنے پر مجبور ہو گئی ۔اب یہی صورت حال اپنے یہاں بھی پورے زور شور سے ابھر رہی ہے۔اب ہمارے سماج میں اس لڑکی کے لئے کوئی جگہ نہیں جو پڑھی لکھی یا جو کسی روز گار سے وابستہ نہ ہو۔اب بھی مغرب میں جب جدت پسندی کی بات چلتی ہے تو کیتھولک چرچ یاپا پا ئیت آسماں سر پر اٹھاتی ہے۔چنانچہ مغرب میں جب سیکس ایجوکیشن کی بات چلی تو لامحالہ قدامت پرستوں نے اس پر قدغن لگانے کی ناکام کوشش کی لیکن وہاں عوام میں سائنسی مزاج ہر رکاوٹ کو دور کرنے پر قادر ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اپنے یہاں بھی یہی صورتحال اُبھر نے والی ہے؟ ہم شاید پہلے ہی جنسی تعلیم کی لہر کی زد میں آچکے ہیں۔چنانچہ رات دن ابلاغ عامہ خاص طور ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر اس بارے اشتہار،ڈرامے اور تبصرے نشر ہوتے ہیں اور ہم بال بچوں سمیت ان کا سامنا کرتے ہیں۔

بچے جب بیالوجی کے ابتدائی اسباق میں خلیئ اور اس میں کروموسوم کی جنسی کردکردگی کی بحث سے ’’دو چار ہوتے ہیں‘‘نوجوان جب کالجوں میں بائیو سائنسز کا سامنا کرتے ہیں اور جوان جب میڈیکل کالجوں میں اناٹومی،فزیا لوجی اور پیتھالوجی کے مضامین میں تجربات کرتے ہیں تو کوئی صاحب اس بہانے سے کہ نصاب میں جنسی اعضاوعمل اہم حصہ ہیں اپنے بچوں کو پڑھائی کے میدان سے ہٹا تا نہیں،

البتہ فرق یہ ہے کہ پاٹ شالہ یا مکتب میں نابالغ اور معصوم بچے پڑھتے ہیں جبکہ اگلی جماعتوں میں بالغ لوگ شامل رہتے ہیں۔کیا سچ مچ ہم محض مکتوں کے معصوم بچوں کے بارے میں پریشان ہیں اور نوجوانوں کو در پیش حالات سے بے فکر۔

ہمارے مولوی اور واعظ حضرات مرد اور عورتوں پر مشتمل محفلوں میں زن ومرد کے تعلقات پر ہدایات دیتے رہتے ہیں۔جن میں وہ بر ملا ایسے الفاظ اور فقرے استعمال کرتے ہیں جنہیں ہم اپنے بال بچوں کے درمیان بولنے سے احتراز کرتے ہیں۔خود مذہبی کتب اور لٹریچر میں جنسی تعلق پر بے شمار ہدایات موجود ہیں ۔جنسی تعلیم کی رو سے اُن کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا ۔

مشرق میں جنسی تعلیم کو دیر آید درست آید معاملہ سمجھا جا رہا ہے۔کیونکہ عوام میں لاعلمی اور بے خبری کے طفیل ایڈز اور دوسری بیماریوں نے وبائی صورت اختیار کی ہے ۔یہ بات پہلے ہی پایہ ثبوت کو بہنچ چکی ہے کہ حقیقت میں جنسی تعلیم کسی بے راہ روی کی ذمہ دار نہیں بلکہ اس سے کئی مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں اور نوجوانوں کو کئی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں اور الجھنوں سے بچایا جا سکا ہے۔یہ رائے محض کسی خاص فرد یا گروپ کی نہیں بلکہ ماہرین فن،سائنسدانوں اور طبی علوم سے وابستہ اشحاص کی ہے۔

ہندوستان میں جنسی تعلیم کی تحریک کسی کٹرپنتھی ہندو جماعت کی مرہون منت بھی نہیں۔چنانچہ ہندووں کی فرقہ پرست جماعتوں نے اس کے خلاف ہم سے پہلے آواز بلند کی ہے اور جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے انہوں نے اس نصاب کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے دو غلے پن کو قومی مزاج نہ بنائیں ہم پوشیدہ طریقے سے سود کھاتے ہیں،خاندانی منصوبہ بندی پر کار بند ہیں اور عورتوں کے حرم خانے زمین بوس کرنے کے درپے ہیں ۔ہم جب اپنے بیٹوں بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم وتربیت کے لئے بھارت کے دوسرے شہروں کیا روس،چین اور مغربی ممالک میں بے دریغ بھیجتے ہیں اور پھر ساتھ ہی ان امور پر مولوی صاحب کے مواعظ پر سردھنتے ہیں۔

ایک اور صورتحال بالخصوص ہمیں در پیش ہے۔تعلیم وتربیت ،تجارت اور علاج ومعالجہ کے سلسلے میں ہمارے بے شمار افراد ملک وبیرون ملک جاتے ہیں۔ہماری ریاست سیاحت کا مرکز ہے۔اپنے یہاں باہر سے لاتعداد کاریگر مز دور اور کاروباری لوگ آتے ہیں جو آباد یوں میں مختلف سطحوں پر خلط ملط ہو جاتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں ہم سکڑے ہوئے عالمی نظام زندگی کاحصہ بن چکے ہیں۔ان حالات میں شاید ہماری قوم کو کسی نہ کسی صورت میں اور کسی نہ کسی حد تک جنسی تعلیم کی اشد ضرورت ہے۔

ہمارانصاب تعلیم کس طرح کا ہواور کس انداز کا۔یہ اہل فن اہل علم اور اہل دانش طے کر سکتے ہیں اور پھر مناسب ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔
(
بشکریہ ہفت روزہ چٹان، سری نگر، انڈیا)

Comments are closed.