بھگدڑ کا سبب، سعودی حکومت کی لالچ

file-25-BT4K1246

عازمین حج کی تعداد میں کمی کرتے ہوئے سعودی حکومت حج کے دوران ہلاکت خیز بھگدڑ کا قبل از وقت ہی تدارک کر سکتی تھی۔ لیکن ریاض حکومت کے لیے حجاج کی حفاظت سے زیادہ اہم مالی فوائد ہیں۔

پہلے مسجد الحرام میں کرین کے حادثے میں سو سے زائد زائرین مارے گئے جبکہ جمعرات کو مناسک حج کے دوران منیٰ کے مقام پر شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے جو بھگدڑ مچی، اس میں سات سو سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔

ایران نے ریاض حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ حج کے دوران سعودی انتظامیہ غلطی کی مرتکب ہوئی، جس کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا۔ سعودی عرب اور ایران کے مابین تاریخی اختلافات کے باوجود اس مخصوص صورتحال میں ایران کی تنقید درست معلوم ہوتی ہے، اس لیے کہ اس تازہ غفلت کے علاوہ بھی سعودی بادشاہت پر تنقید کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔

ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار شامل شمس اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں کہ بیسویں صدی کے وسط تک حج سیزن سے حاصل ہونے والی آمدنی سعودی اقتصادیات میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔ بعد ازاں تیل کی دریافت کے بعد اس عرب ملک کی قسمت بدل گئی اور یوں یہ خطے کے امیر ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ یوں سعودی شاہی خاندان نے علاقائی سطح پر سیاسی اور اقتصادی معاملات میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔

ریاض حکومت نے تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حج کے انتظامات بہتر بنانے پر بھی صرف کیا۔ یوں مسلمانوں کے مقدس ترین مقام خانہ کعبہ کی تزئین و آرائش کی گئی اور مکہ میں عازمین حج کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے تعمیراتی منصوبے بھی شروع کیے گئے۔ مقصد یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ مسلمان یہ بہت اہم سالانہ مذہبی فریضہ انجام دے سکیں۔

تبصرہ نگار کے مطابق مسجد الحرام میں تعمیراتی مقاصد کے لیے نصب کردہ کرین کے گرنے کا حادثہ اور بھگدڑ کا سبب دراصل سعودی حکومت کی لالچ تھی۔ ان کے مطابق ریاض حکومت کے نزدیک مذہب ایک بزنس اور پیسہ بنانے کا آلہ ہے۔ پیغمبر اسلام نے خود جس سادگی کی تعلیم دی تھی، وہ اب ناپید ہوتی جا رہی ہے۔

سعودی عرب میں واقع مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات کے ارد گرد فائیو اسٹار ہوٹلوں، شاپنگ مالز اور لگژری اپارٹمنٹس کو دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ ریاض حکومت کے لیے یہ مسلم مذہبی فریضہ ایک اقتصادی سرگرمی بن چکا ہے۔

کچھ حلقے سعودی عرب میں لینڈ مافیا کے سرگرم ہونے کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ دوسری طرف سعودی حکومت ان مقدس مقامات تک زیادہ سے زیادہ زائرین کی رسائی ممکن بنانے کے لیے ایسے تاریخی مقامات کو بھی مسمار کر چکی ہے یا کر رہی ہے، جو مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس تصور کیے جاتے رہے ہیں۔

سعودی حکام نے منیٰ کے مقام پر اس بھگدڑ کا الزام ’بدنظم‘ افریقی حاجیوں پر عائد کیا ہے۔ ریاض حکومت کے مطابق ان حاجیوں نے ہدایات پر عمل نہ کیا، جس کی وجہ سے یہ حادثہ رونما ہوا۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس سانحے سے بچا جا سکتا تھا، اگر حج کے لیے اتنے زیادہ مسلمانوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت نہ دی جاتی۔ اگر حاجیوں کی تعداد کچھ کم ہوتی تو انتظامات میں بھی آسانی پیدا ہو جاتی۔

اس سال دو ملین سے زائد مسلمان حج کے لیے سعودی عرب گئے اور مستقبل میں یہ تعداد مزید بڑھتی جائے گی۔

ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار شامل شمس کے خیال میں سعودی حکومت کو زیادہ رقوم عازمین حج کے تحفظ پر خرچ کرنا چاہییں نہ کہ مکہ میں غیر ضروری تعمیراتی کاموں پر۔ وہ لکھتے ہیں کہ ریاض حکومت ان تعمیراتی کاموں کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کو ٹھیکے دیتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو حج سیزن کے دوران سعودی عرب آنے کی ترغیب دی جا سکے۔

تبصرہ نگار مزید لکھتے ہیں کہ عازمین حج کی تعداد میں آسانی سے کمی کی جا سکتی ہے، سعودی حکومت کو اپنی لالچ ختم کر دینی چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو مستقبل میں ایسے مزید حادثات بھی رونما ہو سکتے ہیں۔

سعودی ریاست میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی برادری عمومی طور پر خاموش ہی رہتی ہے تاہم حج کا معاملہ مذہبی حوالوں کے باعث کچھ زیادہ ہی حساس ہے۔ اب اس بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو، ڈوئچے ویلے، جرمنی

One Comment