پڑھا لکھا جاہل 

qazi-310x387فرحت قاضی

جس طرح ایک پیشہ معلومات دیتا اورہماری سوجھ بوجھ میں اضافہ کرتا ہے اور اس پیشے تک محدود ہونے کے باعث ہم اسے پیشہ ورانہ عقل کہتے ہیں یہی حال کتابوں کا بھی ہوتا ہے اگر ایک لڑکا انجینئرنگ کی کتابیں پڑھتا ہے تو اس کو یہ تو پتہ چل جاتا ہے کہ مکان کس طرح بنایا جاتا ہے پُل کی تعمیر کے لئے کس طرح کے مواد کا ہونا ضروری ہے اور یہ کہ عمارت کی مضبوطی کے لئے کتنی بوری ریت میں سیمنٹ کی کتنی مقدار ہونی چاہئے تاہم اسے یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ تپ دق، کینسر یا کھانسی کی کیا وجوہات ہوتی ہیں اور اس کا کیسے علاج کیا جاتاہے یہ فقط ایک ڈاکٹر ہی جانتا ہے اسی طرح ایک ڈاکٹر کلینک یا بنگلہ بنانا چاہتا ہے تو اسے نقشہ سے تعمیر تک تمام مراحل کے لئے انجئنیرکی خدمات درکار ہوتی ہیں ۔

دیکھا جائے تو کتاب بھی انسان کی طرح ہوتی ہے اس کی اپنی حدود اور ایک عمر ہوتی ہے حدود سے مراد یہ ہے کہ ایک کتاب اگر فلسفہ کے بارے میں ہے تو اس میں فلسفہ ہی ہوگا اگر وہ نفسیات کی بابت لکھی گئی ہے تو وہ نفسیات کے بارے میں ہمارے علم میں اضافے کا سبب بنتی ہے اور عمر سے مطلب یہ ہے کہ ایک خیال جو آج نیا ہے وہ چند برس بعد پرانا ہوجاتا ہے ۔

درسی کتابوں کو لیجئے یہ گوناگوں موضوعات پر ہوتی ہیں اردو کی کتاب اردو ادب اور شاعری کے بارے میں بتاتی ہے حساب میں حساب ہی کے متعلق سوالات ہوتے ہیں پھر یہ نصاب ایک پالیسی کے تحت بنتا ہے یہ پالیسیاں حکمران طبقات بناتے ہیں اور وہ اسے اپنے مفادات سے ہم آہنگ بناتے ہیں اگر حکومت پر جاگیردار طبقات حاوی ہیں تو پھرطالب علموں کے ذہنوں میں آمریت اور بادشاہت کے لئے نیک جذبات پیدا کئے جاتے ہیں چنانچہ ایسی صورت میں ان کو نیک دل بادشاہ، بادشاہ کی رحم دلی، علم دوست بادشاہ، انصاف کرنے والی ملکہ، شہزادی کی عقل مندی ، شہزادے کی جرائت ،دیانت دار چوکیدار،محنتی مالی اور وفادار کتا کی کہانیاں پڑھائی جاتی ہیں ۔

اگر ملک میں شخصی حکومتیں براجمان ہوں تو پھر بچوں کو فاتح سلطان اور بہادر سپہ سالارکی داستانیں سناسنا کر قرون وسطیٰ میں لے جانے کی کوششیں کی جاتی ہیں آمریت میں عوام کو غیر سیاسی بنانے کی بھی بھر پورکوششیں کی جاتی ہیں سیاسی جلسہ و جلوس پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں سیاست اور سیاست دانوں کو ہر ممکن طریقے سے بدنام کیا جاتا ہے ٹریڈ یونینیوں کو پابند کیا جاتا ہے میڈیا کے لئے سخت قواعد و ضوابط بنائے جاتے ہیں عدلیہ ،جج اور وکلاء کو پٹے باندھ دئیے جاتے ہیں القصہ جمہوری اداروں کو اپاہج بنا دیا جاتا ہے ہر ادارے کو کرپٹ ثابت کیا جاتا ہے ۔

اگر حکومت میں سرمایہ دار شامل ہیں اوروہ پالیسیاں بناتے ہیں تو وہ مختلف ہوں گی ایسی صورت میں بھی عوام کو مصروف رکھنے کے مختلف طریقے آزمائے جاتے ہیں تاہم اس بات پر نہیں لڑایا جاتا ہے کہ قبر پر جانا گناہ ہے یا گناہ نہیں ہے ۔

اس کے علاوہ تعلیمی پالیسی کا انحصار اس چیز پر بھی ہوتا ہے کہ ملک ترقی کررہا ہے عوام کا معیار زندگی بہتر ہورہا ہے نوجوانوں کو مختلف اداروں میں ملازمتیں مل رہی ہیں یا اس کے برعکس بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہورہا ہے دونوں صورتوں میں دو مختلف پالیسیاں بنتی ہیں اگر ملک آگے کی جانب بڑھ رہا ہے تو جمہوریت کے فروغ اور عوام کوعقل مند بنانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی سوجھ بوجھ سے ترقی کے عمل کو تیز کریں لیکن اگر بالادست طبقات حالات کو جوں کا توں رکھنا چاہتے ہیں تو پھر عوام کے ذہنوں میں بار بار کے پرچار سے یہ باتیں ڈالی جاتی ہیں کہ دنیا فانی اور چند روزہ ہے چنانچہ تعلیم کا انحصار ایک ملک کے نظام پر ہوتا ہے ۔

نصابی کتب کی اپنی محدودیت ہوتی ہے ان میں اردو شامل ہوتی ہے انگلش ادب کے بارے میں بھی ہوتاہے معاشیات ، سیاسیات اور نفسیات بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن طالب علموں کو کتنا کچھ پڑھایا جائے اور کیا پڑھایا جائے اس کا انحصار ملک کے حالات اور نظام پر ہوتا ہے اگر بچوں کو اردو ادب کی بابت پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے تو پھر ایسے مصنفین کی تصانیف اور کہانیوں کو شامل کیا جاتا ہے جو ان طبقات کو تقویت دیتے ہوں تاکہ سکول یا کالج سے فارغ ہونے کے بعد ان کے دفاتر اور اداروں کو محنتی اور وفادار ملازم میسر ہوں۔

اسی طرح حکومت ہر سال کتابوں پر انعامات بھی دیتی ہے تو اس وقت بھی یہ اہتمام کیا جاتا ہے کہ یہ مخصوص موضوعات پر ہوں اور ان سے حکومت اور اس دور کے نظام کی تا ئید اور حمایت ہوتی ہو انعامات دینے سے نوجوان لکھاریوں کو یہ شے دی جاتی ہے کہ وہ بھی انہی موضوعات اور اسی طرح حکومت وقت،وزراء اور اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کی تعریف میں لکھیں ایسی صورت میں ان مصنفین کی اخباروں میں تصاویر چھپتی ہیں اور ٹیلی ویژن پر پروگراموں کے ذریعے مشہور بھی کیا جاتا ہے ۔

نصاب تعلیم پر غور کروان میں کن موضوعات کو شامل کیا گیا ہے کس شخصیت کو اہمیت دی گئی ہے اور کس کو نظر انداز کیا گیا ہے یا سرسری ذکر کرکے ٹرخایا گیا ہے یا پھر اس شخصیت کے کس پہلو کو نمایاں کرکے پیش کیا گیا ہے تو معلوم ہوگا کہ نصاب مرتب کرنے والوں کی ہمدردیاں مخصوص طبقات سے ہیں درحقیقت نصاب تعلیم مرتب کرنے والے حکومت کے خاص افرادہوتے ہیں اور وہ حکومتی طبقہ کے مفادات کو تحفظ دینے کے لئے درسی نصاب کو ترتیب دیتے ہیں۔

حکمرانان وقت اور طبقہ اشرافیہ دونوں یہ چاہتے ہیں کہ تعلیم و تربیت کے ذریعہ نوجوانوں کی ایک ایسی کھیپ تیار ہو جو اپنے آپ کو تو تعلیم یافتہ کہتے ہوں مگر ان میں بھی وہی تنگ نظری اور تعصبات ہوں جو عام شہری میں پائی جاتی ہوں اور ان کی معلومات کا دائرہ محدود ہو اور وہ داؤ پیچ نہ جانتے ہوں یہی وجہ ہے کہ ان تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے ایک طالب علم سے جب کسی چیز کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور وہ تسلی بخش جواب دینے سے قاصر رہتا ہے تو بعض افراد ایسے موقع پر پڑھے لکھے جاہل کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

یہ اصطلاح زیادہ تر وہ افراد زبان پر لاتے ہیں جنہوں نے سکول کی شکل بھی نہیں دیکھی ہوتی ہے مگر ان کو بازار میں دال آٹے کا بھاؤ معلوم ہوتا ہے یہ اپنے بھائی بندوں سے دھوکہ اور فراڈ کرتے ہیں اور اپنی چالاکی اور مکاری سے کم قیمت چیز زیادہ پر فروخت کرنا جانتے ہیں اور اکثرمعیاری چیز کی جگہ غیر معیاری اور مضر صحت چیز گاہک کو پکڑادیتے ہیں چونکہ وہ کسی وجہ سے خود پڑھ لکھ نہیں سکے لہٰذا اس اصطلاح کے ذریعہ اپنے احساس کمتری کو رفع کرنے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں ۔

اسی طرح یہ اصطلاح دفتروں کے بابو بھی کبھی کبھار استعمال کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ جب وہ خود سکول یا کالج سے فارغ ہوکر آئے تھے تو ان کو معاشرے میں موجود کرپشن اور فراڈ کا علم نہیں تھا اور آسانی سے دھوکہ کھا جاتے تھے اس اصطلاح کے استعمال سے پہلے یہ سوچنا چاہئے کہ ایک انسان کا علم اور اس کی معلومات ماحول کی مناسبت اور جو کچھ اس نے پڑھا ہوتاہے اسی تک محدود ہوتے ہیں جس نے نفسیات پڑھی ہو اس سے معاشیات کا سوال پوچھنا یا جس نے جغرافیہ پڑھا ہو اس سے طب کے بارے میں سوالات کرنا اور جواب نہ ملنے پر اسے پڑھا لکھا جاہل قرارد ینادراصل اس بندے کی نہیں بلکہ پوچھنے والے کی جہالت کو ظاہر کرتا ہے ۔

اب تو صورت حال پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے تعلیم کے مختلف درجے اور حدود مقرر ہوچکے ہیں میڈیکل، انجینئرنگ اور آرٹس کے یہ تین شعبے دنیا میں تعلیمی معیار کے اساس مانے جاتے ہیں جبکہ ایک ایک شعبہ کے مختلف النوع شعبہ جات بن چکے ہیں میڈیکل شعبہ بظاہر ایک نظر آتا ہے تاہم اس کے کئی شعبہ جات ہیں یہی حال انجینئرنگ اور آرٹس کے شعبوں کا بھی ہے ۔

ہمارے پسماندہ معاشرے میں ایک ان پڑھ اپنی عقل کے مطابق تعلیم یافتہ اس فرد کو کہتا ہے جو بہ یک وقت تعلیم کے تمام شعبوں پر دسترس رکھتا ہو اور اس سے جو کچھ پوچھا جائے وہ اس کامنطق اور دلیل کے ساتھ جواب دے البتہ جو شخص یہ حقیقت جانتا ہے وہ ایک انجنئیرسے میڈیکل کے بارے میں نہیں پوچھتا اور نہ ہی ایک آرٹس کے طالب علم سے زراعت اور صنعت کے حوالے سے سوالات کرتا ہے کچھ ناخواندہ افراد نے تعلیم یافتہ لوگوں سے ایسی توقعات وابستہ کی ہوتی ہیں جو ایک طرح سے غیر فطری ہوتی ہیں یہ ہم جانتے ہیں کہ ایک بڑھئی صحافت کے شعبہ میں کوئی شدبد نہیں رکھتا اسی طرح ایک نا نبائی موٹر مکینک کے کام سے واقفیت نہیں رکھتا بعینہٰ ایک تعلیم یافتہ نوجوان کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔

ملک میں رائج تعلیم کے بارے میں ہم یہ برملا کہ سکتے ہیں کہ اس میں طلبہ کی ذہنی طور پر تربیت نہیں کی جاتی ہے نصابی تعلیم عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے درسی نصاب طبقاتی بنیادوں پر رکھا گیا ہے لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس ضمن میں نصاب کی از سر نو تشکیل کے لئے ماہرین تعلیم پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دے اورایک نئے تجربہ کے طور پر اس کمیٹی میں مختلف مضامین میں مہارت رکھنے والے ماہرین کے ساتھ ترکھان، گلکار، مکینک، بڑھئی ،چمار،درزی،دھوبی ، خاکروب،نائی ، لوہار اور دیگر شعبہ جات میں ممتاز حیثیت رکھنے افراد کو بھی شامل کیا جائے بلکہ بچوں اور گھریلو خواتین سمیت تمام معاشرے کو ملوث کرنا چاہئے اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ ابتدائی سطح پر طالب علموں کو ان ہنروں کے بارے میں معلومات حاصل ہوسکیں گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کو مختلف شعبہ جات کے حوالے سے جانکاری اور دلچسپی دونوں پیدا ہوگی اوربے روزگار طالب علم کو بغل میں فائل دبائے سرکاری ملازمت کے لئے ہر در پر دستک دینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

2 Comments